لبریشن فرنٹ کاآزادی مارچ ناکام یا کامیاب؟

فرحان احمد خان
(صحافی و تجزیہ کار)

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ(جے کے ایل ایف)کے 4 اکتوبروالے آزادی مارچ نے پاکستا ن کے زیرانتظام کشمیر میں بہت مدت بعد آزادی سے جڑے رُومان کوپھر سے بیدار کیا ہے۔ نوے کی دہائی کے شروع میں جو لوگ اس جماعت کے جھنڈے تلے متحرک رہنے کے بعد اب تقریباًخاموش ہو چکے تھے، اس نئی سرگرمی نے انہیں دوبارہ چارج کیا ہے۔یہ مارچ بھارتی حکومت کی جانب سے 5اگست کو اپنے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور وادی میں مسلسل کرفیو کے خلاف شروع کیا گیا تھا۔ 4 اکتوبر والے مارچ سے پہلے 7ستمبرکوپونچھ ڈویژن میں تیتری نوٹ کے مقام پر اسی جماعت کے ایک دھڑے جسے ’صغیر خان گروپ‘ کہا جاتا ہے، نے بھرپور مارچ کر کے اپنی حیثیت اور اہمیت منوا لی تھی۔جے کے ایل ایف کے یاسین ملک گروپ نے اس کے بعد سری نگر مظفرآباد ہائی وے پر مارچ اورچکوٹھی سے لائن آف کنٹرول توڑنے کا اعلان کیا۔ پاکستانی کشمیر کے سبھی علاقوں میں اس مارچ کے لیے زبردست مہم چلائی گئی، زیادہ سرگرمی پونچھ ڈویژن میں دیکھی گئی۔ جے کے ایل ایف (یاسین ملک گروپ) کے آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے زونل صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی اور ان کی اہلیہ طاہرہ توقیر نے اس مارچ کے لیے بھرپور آگاہی مہم چلائی۔ اسلام آباد میں مقیم جے کے ایل ایف کے ترجمان رفیق بٹ اوروائس چیئرمین سلیم ہارون بھی متحرک رہے۔ سردارصغیر خان،جن کا اپنا الگ گروپ ہے،انہوں نے اس مہم میں بذات خود حصہ نہیں لیا لیکن مارچ کے شرکاء میں ان لوگوں کی بڑی تعداد شامل تھی، جو صغیر خان کے تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ دھرنے میں بھی شریک رہے۔ یہ بھی حمایت کا ایک اندازتھا۔

٭مارچ جب دھرنے میں بدل گیا
جے کے ایل ایف نے 4اکتوبر کو بھمبر سے مارچ کا آغاز کیا، راستے میں جگہ جگہ لوگوں نے مارچ کے شرکاء کا استقبال کیا اور نئے لوگ قافلے میں شامل ہوتے گئے۔ مظفرآباد سے اگلی صبح جب اس مارچ نے سری نگر ہائی وے کا رخ کیا تو انسانوں کا ایک سمندر تھا جو آزادی آزادی کے نعرے لگا رہا تھا۔ پہلا پڑاؤ گڑھی دوپٹہ کالج کے گراؤنڈ میں ہوا، اس کے بعد 6اکتوبر کو یہ قافلہ دوبارہ لائن آف کنٹرول کی طرف بڑھنے لگا۔ چناری بازار میں مارچ کے شرکاء پر پھولوں کی پتیاں برسائی گئیں۔ اس کے بعدچکوٹھی لائن آف کنٹرول سے چند کلو میٹر پیچھے آزادکشمیر کی انتظامیہ نے کنٹینر لگا کر سڑک بند کر دی اور بھاری تعداد میں وہاں پولیس تعینات کر دی۔ مارچ کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ وہ راستہ روکنے کے خلاف وہیں سڑک پر احتجاجی دھرنا دیں گے۔پھر دھرنا شروع ہو گیا اور ہر روز وہاں صبح سے شام تک جلسے کا سماں ہوتا۔ مقامی حکومت کے نمائندوں نے کئی بار مذاکرات کی کوشش کی جو ناکام ہو گئی۔ جے کے ایل ایف اس مطالبے پر مصر تھی کہ اقوام متحدہ کے نمائندوں کے علاوہ کسی سے بات نہیں ہو گی۔ اس دوران مسلم لیگ نواز، تحریک انصاف، پیپلزپارٹی وغیرہ کی مقامی شاخوں کے نمائندوں اور سیاست دانوں نے بھی دھرنے کا دورہ کیا اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ ریاستی جماعت مسلم کانفرنس البتہ یہ سب صورت حال خاموشی سے دیکھتی رہی۔جے کے ایل ایف کے دوسرے دھڑے کے سربراہ صغیر خان بھی8اکتوبر ایک قافلے کی شکل میں اظہار یکجہتی کرنے آئے اور تقریر کر کے واپس چلے گئے۔ ان کی پنڈال میں آمد پر”توقیر صغیر بھائی بھائی، سہولت کاروں کی شامت آئی“ کے نعرے لگائے گئے۔
موسم کی شدت کے باوجود دھرنا کسی نہ کسی صورت جاری رہا۔مقامی حکومت نے بھی دست تعاون بڑھایا۔ مارچ شروع ہونے کے تیرہ دن بعد جے کے ایل ایف کی قیادت نے پریس کانفرنس کرکے شرکاء کو بتایا کہ مظفرآباد میں اقوام متحدہ کے نمائندوں سے مذاکرات کا وقت طے ہوچکا ہے۔ اگلے دن 16اکتوبر کوجے کے ایل ایف کی قیادت اور’آزادکشمیر‘ کے وزیراعظم فاروق حیدر کی اقوام متحد ہ کے مبصرین کے دفتر میں اقوام متحدہ کے نمائندوں سے ملاقات ہوئی جس میں دیگر مطالبوں کے ساتھ جے کے ایل ایف نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ چھ ماہ کے اندر اندر یہ مسئلہ حل کرے ورنہ لائن آف کنٹرول توڑ دی جائے گی۔ بعد ازاں وزیراعظم فاروق حیدر دھرنے کے مقام جسکول گئے، تقریر کی اور کہا کہ ہم اس لائن آف کنٹرول کو نہیں مانتے، یہ ایک نہ ایک دن ضرور توڑیں گے۔ انہوں نے شرکائے دھرنا سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی جو فوراً قبول کر لی گئی۔ اس طرح اس باب کانسبتاًبہتر موڑپر اختتام ہو گیا۔دوسرے لفظوں میں دھرنے کی قیادت کو صورت حال سے نکلنے کا مناسب راستہ مل گیا۔

٭مارچ اور دھرنے کی قیادت کے مسائل
میں نے اس مارچ اور دھرنے کی ڈیویلپ منٹس کو مسلسل فالوکیا،مجھے یہ محسوس ہوا کہ دھرنے کی قیادت کے درمیان کچھ فاصلے ہیں۔ جے کے ایل ایف کے ترجمان رفیق بٹ اور سلیم ہارون کا لہجہ زونل صدر توقیر گیلانی کے آہنگ سے بعض حوالوں سے مختلف تھا۔ اس مارچ سے پہلے ہی یہ خبریں گردش کر چکی تھیں کہ بات گو کہ لائن آف کنٹرول توڑنے کی کی گئی ہے لیکن قیادت سمیت سب جانتے ہیں کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔ سو معاملات طے تھے کہ کہاں تک جانا ہے۔دھرنے کے کچھ قائدین تین چار دن سڑک پر بیٹھنے کے بعد یہ سرگوشیاں کرتے پائے گئے کہ اب ’آزادکشمیر‘ حکومت سے مذاکرات کر کے واپس چلے جانا چاہیے۔ توقیر گیلانی کا خیال تھا کہ یہ بہتر فیس سیونگ نہیں ہے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ دھرنے کے شرکاء کی بڑی تعداد توقیر گیلانی کے کنٹرول میں تھی۔ یہ پُرجوش کارکن کسی سطحی دلیل سے بہلنے والے نہ تھے۔ اسی وجہ سے کئی دن تک انتظار کیا گیا۔ قیادت کے درمیان قلبی فاصلوں کی ایک جھلک اس وقت بھی دیکھنے کو ملی جب توقیر گیلانی 16 اکتوبرکومذاکرات سے پہلے مظفرآباد میں ایک فیس بک نیوز پیج کے نمائندے سے بات کر رہے تھے تو رفیق ڈار اس نمائندے پر برس پڑے کہ”دیکھ نہیں رہے کہ یہاں چیئرمین کھڑاہے“، وہ کہنا یہ چاہتے تھے کہ عبدالحمید بٹ کی موجودگی میں توقیر گیلانی سے موقف کیوں لے رہے ہو۔ انٹرویو لینے والا سہم گیا اور توقیر گیلانی بھی خاموش ہو گئے۔ مجھے رفیق ڈار کا یہ رویہ کافی ہتک آمیز محسوس ہوا۔ توقیر گیلانی جیسے جذباتی سیاسی لیڈرنے اس لمحے خود پر قابو رکھا اورشاید جماعت کی داخلی تقسیم کے تأثر کوعیاں کرنے کاسبب بننے سے گریز کیا۔ یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ چند ماہ قبل توقیر گیلانی کی اہلیہ طاہرہ توقیر کی جے کے ایل ایف کی خواتین ونگ سے رکنیت ختم کر دی گئی تھی اور ان پر الزامات بھی لگائے گئے تھے۔ طاہرہ توقیر نے حالیہ چندبرسوں میں جے کے ایل ایف کے پلیٹ فارم سے خود کو ایک بلند آہنگ نسوانی آواز کے طور پر منوایا اور پاکستانی کشمیر کی خواتین کو سیاسی طور پر متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔اس دھرنے میں طاہرہ توقیر موجود تھیں لیکن انہیں اور ایک اور رہنما سردار انور کو تقریر کی اجازت نہیں دی گئی۔حالانکہ دھرنے کے اسٹیج پر سے دیگر ہر طرح کے نظریات اور وابستگیوں کے حامل لوگوں نے تقریریں کیں۔ جے کے ایل ایف کی قیادت کے دلوں میں جو فاصلے ہیں، یہ بے وجہ نہیں ہیں۔ ملی ٹیسنی کے زمانے میں بھارتی زیر انتظام کشمیر سے آئے ہوئے افراد جو بعد میں سیاسی ہوگئے،ان کے اور مقامی لیڈرز کے مزاج کے کچھ جوہری نوعیت کے تضادات ہیں۔ بھارتی زیرانتظام کشمیر سے آئے ہوئے لوگ خود کو حتمی اسٹیک ہولڈرز سمجھتے ہیں اور آخری تجزیے میں آزادکشمیر کے تحریکی رہنماؤں کو ایک قدم پیچھے دیکھنا چاہتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم یہ مسئلہ کب حل ہو گا۔ اس دھرنے کی قیادت کے دلوں میں پائی جانے والی باہمی کدورت کا پس منظر یہی ہے۔

٭مارچ اور دھرنے کی ذرائع ابلاغ میں کوریج
حیرت انگیز طور پر شروع کے چند دنوں میں پاکستان کے نمایاں ٹی وی چینلز اور اخبارات نے اس مارچ کو مناسب کوریج دی، الجزیرہ، بی بی سی اور انڈیپنڈنٹ اردو نے بھی بھرپور کوریج دی۔پاکستانی میڈیا پر حیرت اس لیے تھی کہ یہ جانتے ہوئے کہ جے کے ایل ایف بنیادی طور پر خودمختار کشمیر کی علم بردار اور کسی بھی ریاست سے الحاق کی مخالف ہے۔ نیوز بلیٹنز میں اس مارچ کی خبریں چلتی رہیں۔ ریاست میں موجود کچھ دیگر آزادی پسند وں نے اس پہلو کو دیکھ کر یہ کہا کہ یہ مارچ ”سرکاری اشارے“ پر ہو رہا ہے ورنہ کشمیر کی خودمختاری کی بات کرنے والوں کو پاکستانی میڈیا کیونکر کوریج دے سکتا ہے۔بہر حال یہ کوریج وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ محدود سے محدود تر ہوتی چلی گئی۔ ہاں یہ ضرور دیکھا گیا کہ دھرنے کے شرکاء نے سوشل میڈیا کا مؤثر استعمال کیا۔ کئی فیس بک پیجز پر لائیو ویڈیوز نشر ہوتی رہیں۔ کچھ صحافیوں نے ٹویٹر کے ذریعے مارچ اور دھرنے میں ہونے والی ڈیویلپمنٹس کو مسلسل رپورٹ کیا۔ ایک نوجوان نے اپنے یوٹیوب چینل کے ذریعے مسلسل ویڈیوز نشر کیں جس سے بیرون ملک مقیم کشمیریوں کو صورت حال سے جڑے رہنے کی سہولت میسر رہی۔

٭کیا یہ مارچ یا دھرنا کامیاب تھا؟
جے کے ایل ایف نے لائن آف کنٹرول توڑنے کا اعلان کر کے یہ مارچ شروع کیا تھا، لائن آف کنٹرول توڑی نہیں جا سکی، لیکن اس مارچ کی کامیابی یہ ہے کہ طویل مدت سے رُکے ہوئے پانی کے جوہڑ میں اس نے اس بھاری پتھر کا کردار ادا کیا ہے جو یکدم پورے تالاب میں ارتعاش پیدا کر دیتا ہے۔ بھمبر سے لے کر مظفرآباد اور چناری تک مارچ کے لو گ جہاں جہاں سے آزادی کے نعرے لگاتے ہوئے گزرے ہیں، اس کے اثرات کم ازکم ڈیڑھ دو دہائیوں تک ضرور باقی رہیں گے۔ وہ نسل جس نے نوے کی دہائی کے ابتدائی برسوں کی تحریک نہیں دیکھی، اب تیتری نوٹ اور چکوٹھی مارچ کے دوران لگنے والے نعرے ان کے ذہنوں میں نقش ہو چکے ہیں۔آزادی پسند جماعتوں کا ایک اور اتحاد پی این اے کے نام سے اِن دنوں متحرک ہے۔ اگر وہ بھی’آزادکشمیر‘کے دارالحکومت مظفرآباد میں بڑا جلسہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس خطے میں آزادی پسندی کا عنصر کافی مستحکم ہو سکتا ہے۔ جہاں تک ان سیاسی جماعتوں کا تعلق ہے جو پاکستانی سیاسی جماعتوں کی ایکس ٹینشن کے طور پر آزادکشمیر میں متحرک ہیں، وہ فی الحال سکتے کی کیفیت میں ہیں۔انہیں ابھی تک یہ سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ ریاستی وسائل کے بغیر کوئی آزادی پسند جماعت ہزاروں لوگوں کو کیسے متحرک کر سکتی ہے۔ غیر ریاستی جماعتوں کی مستقل ناقد ریاستی تشخص کی پرجوش علم بردار مسلم کانفرنس تو مکمل خاموش ہے۔کہا جا سکتا ہے کہ بظاہر ِان دو مارچوں اور دھرنوں نے آزادی پسندوں کو ایک قابل اعتناء زمینی حقیقت کے طور پر ضرور سامنے لایا ہے۔

٭مستقبل کیا ہوگا؟
بھارتی حکومت کے 5اگست 2019کے اقدام کے بعد بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں تو کرفیو لگایا گیا لیکن پاکستانی کشمیر میں آزادی پسندوں کو بھرپور سرگرمی کاموقع ملا، اس کے باوجود یہ کہنا کہ سات دہائیوں سے چلا آ رہا یہ مسئلہ کسی ایک مارچ یا دھرنے سے حل ہو جائے گا، خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں۔ تحریکوں کو اکثر طویل اور صبر آزما ادوار و حالات سے گزرنا ہوتا ہے۔ یہ ڈوبتی ہیں پھر کوئی واقعہ ان کے نئے جنم کا سبب بن جاتا ہے۔ اب یہ نئی قیادتوں پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ ان تحریکوں کو کیسے نئے زمانے کے تقاضوں کوسامنے رکھتے ہوئے جاری رکھتے ہیں۔منقسم ریاست جموں کشمیر کے حتمی اور کشمیریوں کے لیے اطمینان بخش حل کے لیے سب سے اہم یہ ہے کہ یہاں ایسی قیادت کابرسوں سے جاری قحط ختم ہو جسے سیز فائر لائن کے دونوں طرف کی اکثریت کے ہاں قبولیت کا درجہ حاصل ہو۔ اس وقت تک مختلف گروہوں کا سرگرم رہنا کسی نہ کسی شکل میں اس المیے کو زندہ ضرور رکھے گا۔ ’آزادکشمیر‘ کے مظفرآباد اور میرپور ڈویژن میں کچھ برسوں سے وہ ماضی والا جوش مفقود ہے،ان علاقوں میں تحریکی لہرکا موجودہونا ضروری ہے۔ سب سے اہم چیز یہ ہے کہ کشمیریوں کو متحارب قوتوں کی سیاسی و عسکری پراکسی بننے کی روش چھوڑنا ہو گی۔ اس شوق نے ریاست کی تقسیم کی بنیاد رکھی اور اس کی شناخت کو مسخ کیا۔آزادی پسندوں کوریاست کی شناخت کی بحالی اور تقسیم کے خاتمے کے لیے پراکسی بنے بغیر دیگر ممکنہ طریقوں کو بروئے کار لانا ہوگا۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: