تیس سال پہلے بیٹا فوجی اٹھا لے گئے، نہ کبھی ہمت ہاری نہ ہاروں گی، لڑوں گی، پروینہ آہنگر

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے 100 ویمن سیزن میں اس برس کشمیر سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی کارکن پروینا آہنگر کا نام بھی شامل ہے۔ 100 ویمن سیزن کے آغاز کے موقع پر بی بی سی اردو کی عالیہ نازکی نے پروینا آہنگر سے بات کی۔جسے بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر شائع کیا گیا ہے. مذکورہ گفتگو کو ہوبہو مجادلہ کے قارئین کےلئے پیش کیا جا رہا ہے.

پروینا آہنگر انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر کے گنجان آباد پرانے شہر کے رازے کدل علاقے میں ایک مقامی ٹھیکیدار کے گھر میں پیدا ہوئیں۔ پانچویں جماعت تک مقامی سرکاری سکول میں تعلیم حاصل کی اور 12 سال کی عمر میں ان کی شادی کر دی گئی جس کے بعد ان کی پڑھائی ادھوری رہ گئی۔

پروینا آہنگر نے 13 سال کی عمر میں اپنے بڑے بیٹے کو جنم دیا اور اس کے ڈیڑھ سال بعد ہی اپنے دوسرے بیٹے جاوید کو۔ جاوید کے بعد ان کے دو اور بیٹے پیدا ہوئے اور پھر ایک بیٹی۔

اس دوران پروین اہنگر اور ان کا خاندان اپنے آبائی علاقے کو چھوڑ کر سرینگر کے ہی بٹمالو علاقے منتقل ہو گیا جہاں پروینا کے شوہر غلام نبی اہنگر کی گاڑیاں ٹھیک کرنے کی ورک شاپ تھی۔ دکان کے قریب ہی انھوں نے گھر بنا لیا۔

1990 میں جب جاوید کی عمر 16 برس تھی، پروینا اہنگر کے مطابق انھیں سکیورٹی فورسز اٹھا کر لے گئیں اور وہ اب تک لاپتہ ہیں۔

پروینا کہتی ہیں ‘پہلے مجھے لگا کہ غلطی سے لے گئے ہیں، چھوڑ دیں گے۔ لیکن دن ہفتوں اور ہفتے مہینوں میں بدل گئے۔ ایک وقت تو میں پاگل ہی ہو گئی تھی۔ دیوانوں کی طرح لوگوں کے پیچھے بھاگتی تھی کہ کسی نے میرے بیٹے کو تو نہیں دیکھا۔ جاوید میرا سب سے اچھا بیٹا تھا۔ جب میں بیمار ہوتی تھی تو کھانا بناتا تھا، صاف صفائی کرتا تھا، کہتا تھا میں تیرا بیٹا بھی ہوں، بیٹی بھی۔۔۔سب کچھ کرتا تھا میرے لیے۔ میرے اسی بیٹے کو لے گئے۔‘

وہ سوال کرتی ہیں کہ ’میں کیسے بھول جاؤں؟ میں تو اب اسے خواب میں بھی نہیں دیکھتی۔ کاش خواب میں ہی دیکھ پاتی۔۔ شہید ہو جاتا تو کم سے کم اس کی قبر ہوتی، میں اسی سے دل بہلا لیتی۔۔ اس حال میں کیا کروں؟’

پروینا آہنگر نے اپنے اس درد کے باوجود ’اے پی ڈی پی‘ کے نام سے کشمیر میں جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے افراد کے لواحقین کے لیے ایک تنظیم قائم کی اور اس کے تحت مدد اور احتجاج کا ایک سلسلہ شروع کیا۔

وہ کہتی ہیں ’میں نے یہ صرف اپنے لیے، یا اپنے بیٹے کے لیے نہیں کیا۔ جو میرے ساتھ ہوا، میرے جیسی ہزاروں ماؤں کے ساتھ ہوا، وہ کسی کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ لڑائی حق کے لیے ہے۔ اور ہمارے پاس ہمت اور ایمان کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ یہ ان ماؤں کی لڑائی ہے جو اپنے بیٹوں کے انتظار میں مر گئیں اور میں یہ لڑائی تب تک لڑوں گی جب تک ہمارے بچے واپس نہیں آ جاتے۔‘

جاوید کی گمشدگی کے بعد پروینا کے شوہر کی طبیعت خراب ہوتی گئی یہاں تک کہ وہ کام کاج کرنے کے قابل نہیں رہے۔ معاشی مشکلات کی پیش نظر پروینا کو اپنا گھر اور دکان بیچنے پڑے۔

وہ کہتی ہیں ’میری زندگی آسان نہیں رہی۔ میں اپنے بچوں کو چھوڑ کر صبح نکلتی تھی، شام کو واپس آتی تھی۔ لوگ کہتے تھے کہ میں اچھی ماں نہیں۔ بہت باتیں سناتے تھے۔ لیکن میرے بچوں نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا، میری مدد کی۔ کئی کئی روز میں بچوں کو تھوڑا بہت کھلا کے خود بھوکے پیٹ سو جایا کرتی تھی۔

‘کچھ لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ میں معاوضہ لے لوں، دوسرے بیٹے کو نوکری لگوا لوں اور جاوید کو بھول جاؤں۔ میں ماں ہوں، میں کیسے بھولوں؟ عزت کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ میرا زخم اتنے برس بعد اب بھی ہرا ہے۔ ہر اس ماں کی طرح جو اپنے بیٹے کا انتظار کر رہی ہے۔‘

پروینا کہتی ہیں کہ ’میں بھولوں گی اور نہ اپنی جدوجہد بند کروں گی۔ میں نے بہت مشکلیں دیکھی ہیں، مگر ہمت کبھی نہیں ہاری۔ اور اب میں ہمت ہار ہی نہیں سکتی کیوں کہ اب اتنے سارے لوگ مجھے دیکھ کر مجھ سے ہمت حاصل کرتے ہیں۔ میں نے جب یہ لڑائی شروع کی تھی، تب اللہ سے کہا تھا کہ میں اب لوگوں کا کام کر رہی ہوں، تو میرا کام اب تیرے ذمے ہے۔‘

بشکریہ :‌بی بی سی اردو سروس

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: