’وزیراعظم اپنے اختیارات مانگنے کی بجائے چھیننے کا راستہ اپنائیں،بل منظور کروائیں، ہم ساتھ ہونگے، ‘چیئرمین لبریشن فرنٹ کا مشورہ

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین سردار محمدصغیر خان ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر پاکستان کے ایوانوں میں حکمرانوں کے آگے رو رو کر اختیارات مانگنے کی بجائے اختیارات کو چھینے کا راستہ اختیار کریں۔ ورنہ انکے ان آنسوؤں کو جموں کشمیر کے عوام مگرمچھ کے آنسو کے سوا کچھ نہیں سمجھیں گے۔ چار اکتوبر 1947ء اور اسی کے تسلسل میں چند ہفتے بعد چوبیس اکتوبر کو بننے والی حکومت کو اسکے اعلامیہ کے مطابق بحال کرنے کیلئے اقدامات اسی ریاست کے منتخب نمائندے خود کر سکتے ہیں۔

اسمبلی میں اس وقت فاروق حیدر کے پاس دو تہائی اکثریت موجود ہے وہ پاکستان کے ایوانوں میں جا کر رونا دھونا کرنے کی بجائے اسمبلی میں ایکٹ 74ء اور معاہدہ کراچی سمیت دیگر تمام معاہدہ جات کو کالعدم قرار دینے اور چار اور چوبیس اکتوبر کی حکومت کو اس کے اعلامیہ کی روح کے مطابق بحال کرنے کیلئے بل پیش کریں اور اپنے پارٹی ممبران کے ذریعے اسے منظور کروائیں، ریاست بھر کے عوام انکے ان اختیارات کا دفاع کرنے کیلئے ان کے ساتھ ہونگے۔

لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر عوام انہیں پاکستان کے حکمران طبقہ کے سہولت کار، مقامی حکمران اشرافیہ اور استحصالی طبقہ کے آلہ کار کے طور پر ہی سمجھیں گے اور ہم اس خطے کے عوام کے آئینی، سیاسی، معاشی حقوق کی بازیابی کیلئے آپ کو عوامی طاقت کے زور پر ایوانوں سے باہر نکال پھینکنے کی کال دینے میں حق بجانب ہوں گے۔ یہ بات انہوں نے چار اکتوبر کے موقع پر میڈیا کیلئے جاری پریس ریلیز میں کہی ہے۔

سردار محمد صغیر خان کا مزید کہنا تھا کہ حکمران طبقات کی جانب سے بھیک میں تفویض کی گئی آزادی کوئی آزادی نہیں ہوتی، بلکہ وہ مظلوم اور محکوم عوام کی بالواسطہ غلامی اور مخصوص اشرافیہ کی آزادی کہلائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ ممبران اسمبلی اور بالخصوص قائد ایوان کیلئے عوام اور بالادست حکمرانوں میں سے کسی ایک کی وفاداری کو منتخب کرنا وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ قابض ریاست اور اسکے حکمران طبقات کی وفاداری کرتے ہوئے جموں کشمیرکے مظلوم، محکوم، محنت کش عوام کے نہ تو دکھوں کا مداوا کیا جا سکتا ہے اور نہ انکی آزادی کی جدوجہد کی جا سکتی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ مذاکرات، معاہدوں اور سامراجی حکمرانوں کی کاسہ لیسی کے ذریعے حاصل ہونے والی آزادی درحقیقت ایک مخصوص سہولت کار اشرافیہ کی نمبرداری ہوتی ہے جو اپنے ہی لوگوں کو لوٹ کر انکے خون پسینے سے نچڑے ہوئے سرمائے سے سامراجی حکمرانوں سے اپنی حکمرانی خریدنے کے سوا کچھ کرنے کے اہل نہیں ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ ہم کشمیری عوام کی جڑت اور اتحاد کی بنیاد پر عوامی طاقت کے ذریعے جموں کشمیر کی مکمل آزادی، خودمختاری اور طبقات سے پاک معاشرے کے قیام کیلئے جدوجہدپر یقین رکھتے ہیں اور اس عمل میں پاک وہند کے مظلوم و محکوم محنت کش طبقات کو اپنا اتحادی تصور کرتے ہیں، کیونکہ انکے اور ہمارے مسائل کے ذمہ دار ایک ہی ہیں اور ان کے خلاف مل کر ہی جدوجہد کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم فاروق حیدر ہمارے مشورے پر عمل کرتے ہیں تو ہم انہیں مکمل حمایت و تعاون کا یقین دلاتے ہیں لیکن اگر وہ اس خطے کے عوام کا حق حکمرانی انہیں دلانے کی بجائے سامراجی کاسہ لیسی کو ترجیحی دیتے ہیں جس کاقوی امکان بھی ہے تو انکی حیثیت ہمارے لئے پاکستان کے حکمران طبقات کے مقامی سہولت کار اور حکمران اشرافیہ سے زیادہ نہیں ہو گی۔ جو اپنی گرتی ساکھ کو دیکھ کر جموں کشمیر میں جاری بھارتی مظالم، کشمیریوں کے دکھوں اور تکالیف کو ہتھیار بنا کر اپنی حکمرانی کوتقویت دینے اورمحفوظ بنانے کیلئے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: