پاکستان کے لیے برطانوی امداد پر انکوائری کیا معمول کی بات ہے؟

عارف شمیم
بی بی سی اردو، لندن

پاکستان وہ ملک ہے جسے برطانیہ انسانی، معاشی اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے دنیا میں سب سے زیادہ امداد دیتا ہے۔

برطانیہ کے ڈیپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ یا ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (ڈی ایف آئی ڈی یا ڈِفڈ) کے اعدادوشمار کے مطابق 2019-20 میں ادارے کے پاس پاکستان کے لیے مختص کی گئی امداد کا بجٹ 302 ملین پاؤنڈ ہے جو کہ تقریباً پاکستانی روپوں میں 58 ارب کے قریب بنتا ہے۔

یہ رقم ڈی ایف آئی ڈی مختلف کمپنیوں، اداروں اور پاکستان کے کیس میں صوبوں کو دیتا ہے جو مختلف پراجیکٹس پر اسے صرف کرتے ہیں۔

پاکستان میں ان پراجیکٹس میں تعلیم خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم، صنفی ترقی، معذور افراد کی بحالی سے لے کر صحت، گڈ گورننس، انسانی امداد، ماحولیات اور دیگر سوشل اور اکنامک انفراسٹرکچر کی ترقی وغیرہ شامل ہے۔

ڈی ایف آئی ڈی کے علاوہ بھی برطانیہ سرکاری ترقیاتی امداد (او ڈی اے) کی مد میں مختلف اداروں کے ذریعے پاکستان کو ترقیاتی امداد فراہم کرتا ہے۔ ان میں کونفلیکٹ، سٹیبیلیٹی اور سیکیورٹی فنڈ (سی ایس ایس ایف)، ایچ آر ایم سی اور سکاٹ لینڈ کی حکومت کے فنڈز شامل ہیں۔

پاکستان کے علاوہ اس طرح کی امداد ایتھوپیا، نائجیریا، افغانستان، بنگلہ دیش، شام، یمن، جنوبی سوڈان، صومالیہ اور تنزانیہ کو دی جاتی ہے۔ تاہم جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے پاکستان کا شیئر سب سے زیادہ ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ سنہ 2018-19 کے مقابلے میں یہ امداد 23 ملین پاؤنڈ کم ہے۔ ڈیپارٹمنٹ اس کی کوئی وجہ تو نہیں بتاتا لیکن یہ ضرور کہا جاتا ہے کہ پاکستان ایک ہائی رسک مارکیٹ ہے جہاں یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ برطانوی ٹیکس دینے والوں کا پیسہ کہاں لگ رہا ہے اور صحیح جگہ بھی لگ رہا ہے یا نہیں۔

سکولوں کا سکینڈل
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اس سال 24 اگست کو ایک خبر چھاپی تھی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں ڈِفڈ کے ایک امدادی پراجیکٹ کے ذریعے بنائے گئے سکولوں میں سے 10 میں سے نو ایسے ہیں جن میں بچے محفوظ نہیں ہیں اور جس کی وجہ سے انھیں عارضی سکولوں میں تعلیم دینا پڑ رہی ہے۔

اخبار کے مطابق مسئلہ سکولوں کے کلاس رومز اور ٹائلٹس کے ناقص سٹرکچرل ڈیزائن کا تھا۔

ان سکولوں کو بنانے کے لیے ڈِفڈ نے جس کمپنی کو ٹھیکہ دیا تھا وہ برطانیہ میں قائم آئی ایم سی ورلڈ وائڈ نامی کمپنی تھی جس نے آگے پاکستان کی ایک کمپنی کو ذیلی ٹھیکہ دیا تھا۔ یاد رہے کہ آئی ایم سی ترقی پذیر ممالک میں انفراسٹرکچر پراجیکٹس بنانے کے لیے ایک اہم کمپنی سمجھی جاتی ہے۔

فنانشل ٹائمز کی خبر کے بعد برطانوی حکومت فوراً حرکت میں آئی اور ایم سی سے جواب مانگا۔ آئی ایم سی نے 261 سکولوں کی نشاندہی کی جہاں سیفٹی سٹینڈرڈز لاگو کرنے کی فوری ضرورت تھی۔

بین الاقوامی ترقی کے وزیر الوک شرما نے آئی ایم سی کو کہا کہ وہ فوری طور پر اپنے خرچے پہ کلاس رومز کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنائے جہاں بچے بلا کسی خوف تعلیم حاصل کر سکیں۔ انھوں نے ایک بیان میں کہا: ’یہ بالکل ناقابلِ قبول ہے کہ برطانیہ کی امداد سے آئی ایم سی کی طرف سے بنائے گئے سکول اور کلاس رومز اس معیار کے مطابق نہیں ہیں جن کی ہم توقع کرتے ہیں۔

’آئی ایم سی ٹیکس دینے والوں کا مزید کوئی اور پیسہ استمعال کیے بغیر ان سکولوں اور کلاس رومز میں تبدیلیاں لا رہی ہے تاکہ علم حاصل کرنے کی یہ جگہیں ان مقاصد کے لیے فٹ ہوں۔

’میری اولین ترجیح ہے کہ ایسا دوبارہ نہ ہو۔ میں نے آئی ایم سی سے بات کی ہے تاکہ وہ یقینی بنائیں کہ ضروری کارروائی ہو رہی ہے اور میں ذاتی طور پر ان کے ساتھ اس کو فولو اپ کروں گا۔‘

پاکستان کو امداد کی تحقیقات

اس کے فوری بعد پارلیمان میں بین الاقوامی ترقی کی کمیٹی نے ایک انکوائری لانچ کی جس میں کثیرالجہتی بنیادوں پر یہ پتا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کیا برطانوی امدادی ادارہ (ڈیفیڈ) پاکستان میں امداد ٹھیک طریقے سے استعمال کر رہا ہے، کیا یہ برطانیہ کی بین الاقوامی امداد دینے کی پالیسی سے مطابقت رکھتی ہے اور کیا اس سے پاکستان میں وہ کام کیے جا رہے ہیں جن کے لیے یہ امداد دی گئی ہے؟

کمیٹی نے اس کے لیے تحریری تجاویز منگوائی تھیں جن کو جمع کرانے کی آخری تاریخ 23 ستمبر تھی۔

پارلیمان کی ویب سائٹ پر تجاویز کے مقاصد کی ایک لمبی فہرست موجود ہے۔ لیکن یہاں چند ایک کا تذکرہ کرنا ضروری ہے۔

تجاویز کے مقاصد میں پوچھا گیا ہے کہ کیا برطانیہ کے پاکستان کے امدادی پروگرام کے لیے سٹریٹیجک مقاصد واضح اور مناسب ہیں؟ برطانیہ کی پاکستان کے لیے امداد (ڈِفڈ اور دیگر) اس کے پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے کتنی موثر ہے اور یہ پاکستان کے غریب، سب سے زیادہ پسماندہ اور سب سے زیادہ غیر محفوظ افراد پر کتنی توجہ دیتی ہے؟

کیا پاکستان میں برطانیہ کی امداد کی سطح ان متعلقہ وجوہات کی بنا پر مناسب ہے جیسا کہ طلب کی مسابقت، دیرپا، کم خرچ اور ناپے جانے والے اثرات اور پاکستان کا اصلاحات کے لیے عزم اور دوسرے ذرائع تک اس کی رسائی۔

وہ پارٹنرز (غیر سرکاری تنظیمیں، نجی ٹھیکیدار اور کثیر الجہتی ایجنسیاں) کتنی پر اثر ہیں جن کے ذریعے پاکستان میں بین الاقوامی امداد دی جاتی؟ اور پاکستان نے برطانیہ کی امداد کی مدد سے گذشتہ پانچ سالوں میں کیا حاصل کیا ہے۔

ویسے تو برطانیہ نے امداد کے متعلق انکوائری لانچ کی اور ادارے نے سکولوں کے مسئلے کو سنجیدگی سے بھی لیا لیکن ڈِفڈ ذرائع کے مطابق ’یہ ایک روٹین ہے‘ اور ہر سال امداد کے متعلق سوالات پوچھے جاتے ہیں اور ادارے کو اس کا جواب دینا پڑتا ہے۔

پاکستان میں ڈِفڈ کی کمیونیکیشن کی سربراہ سدرہ ریاض کہتی ہیں کہ انکوائری کے متعلق تو پارلیمان کی ویب سائٹ پر سب کچھ موجود ہے لیکن ’میں یہ آپ کو بتا سکتی ہوں کہ ہر چیز کا بہت شفاف طریقہ ہے اور بہت سخت گائیڈلائنز ہیں۔‘

ڈی ایف آئی ڈی کا بنیادی تصور امداد برائے ترقی ہے اور اس کا مقصد ہے کہ پاکستان کو غربت سے باہر نکالا جائے۔ ’ہم ٹیکنیکل مدد کی طرف آ رہے ہیں کہ اس طرح کے پروگرام کریں جو پائیدار ہوں اور ہمارے بہت سارے پروگرام پہلے ہی پائیدار ہیں۔‘

’انکوائری معمول کا کام ہے‘
ڈی ایف آئی ڈی سے حاصل کیے جانے والے فنڈز سے پاکستان میں کام کرنے والے ایک سرکرہ برطانوی غیر سرکاری پروگرام سپرنگ کی انویسٹمنٹ مینیجر اینڈی اینیٹ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’برطانیہ کی بین الاقوامی ترقی کی کمیٹی کا انکوائری کرنے کا ایک معمول ہے، کیونکہ اس کے مینڈیٹ میں ڈیپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ اور اس کے ساتھ منسلک اداروں کی پالیسی، انتظام اور رقم خرچ کرنے کے عمل کو مانیٹر کرنا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ایسی انکوائریاں ان موضوعاتی یا جغرافیائی علاقوں پر توجہ مرکوز کرتی ہیں جہاں برطانیہ امداد دے رہا ہوتا ہے، جن میں زیادہ امداد لینے والا ملک پاکستان بھی شامل ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ امداد کے موثر ہونے کا از سرِ نو جائزہ لینا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی اہم ہے کہ ترقیاتی پراجیکٹ دنیا کے غریب ترین افراد کے لیے قدر اور اثرات چھوڑتے رہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں برطانوی امداد سے انتہائی اہم اور پر اثر کام ہو رہے ہیں۔ اس کی مثال انھوں نے سپرنگ کی مدد سے شروع کیے گئے ایک پراجیکٹ ’ونڈر ٹری‘ کی دی جو خصوصی ضروریات کے حامل معذور بچوں کے لیے تعلیم کو نئے طریقے سے پیش کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس سٹارٹ اپ نے آگومینٹڈ ریئلٹی گیمز (ایسی گیمز جو حقیقی تجربے کا مزا دیں) بنائی ہیں جو ان تقریباً 96 فیصد خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کے لیے علاج کا کام کر رہی ہیں جو سکول نہیں جا رہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں معذوری ابھی بھی ایک داغ سمجھا جاتا ہے اور خصوصی ضروریات کے حامل افراد کو ابھی بھی خاندان دوسروں کی نظروں سے اوجھل رکھتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی صحت اور فلاح و بہبود پر برا اثر پڑتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سپرنگ کے ایکسیلیریٹر پروگرام کے ساتھ منسلک ہو کے ونڈر ٹری سے منسلک افراد نے اپنے گیمز بنانے کے عمل میں یہ یقینی بنایا کہ اس میں علاج کی صفت موجود رہے جس کی وجہ سے اہم سٹیک ہولڈرز ان کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کی بنائی ہوئی گیمز کو ملک بھر میں ہسپتالوں اور سکولوں میں متعارف کرایا گیا اور اب ان کا استعمال متحدہ عرب امارات اور قطر میں بھی ہو رہا ہے۔‘

’ونڈر ٹری کا ٹارگٹ ہے کہ وہ جولائی 2020 تک 10 ہزار خصوصی ضروریات کے حامل بچوں تک پہنچے۔‘

ڈی ایف آئی ڈی کی سدرہ نذیر کہتی ہیں ’ڈِفڈ پاکستان میں 10 ملین بچوں کو سپورٹ کر رہا ہے۔ جس میں سے تقریباً 5.9 ملین لڑکیاں ہیں۔ ہمارا پروگرام حکومت کے ساتھ بھی ہے اور اس کے علاوہ دوسروں کے ساتھ بھی۔ پنجاب اور کے پی کے کے ساتھ بھی ہیں۔ ہمارا مقصد تعلیم کے معیار، اساتذہ کی حاضری، اندراج کی شرح کو بہتر بنانا، سکول چھوڑنے کی شرح کو کم کرنا معذور بچوں کو مین سٹریم میں لانے کی کوشش کرنا وغیرہ ہے۔ اس کے علاوہ اور بہت چھوٹے موٹے پروگرام بھی جاری ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ہمارے ایک پروگرام کا نام علم آئیڈیاز ہے۔ ’اس میں تعلیم سے منسلک کاروبار کرنے والے ہمیں اس کے متعلق آئیڈیاز دیتے ہیں کہ کس طرح تعلیم کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم نے کچھ کامک کتابیں بنائی ہیں جس میں سے ایک ہے ’شیبا اینڈ دی پرائیویٹ ڈیٹیکٹیوز‘۔ یہ کتابیں نجی سکولوں میں بھی ہیں اور گورنمنٹ سکولوں میں بھی۔ اس میں بچے سائنس اور ریاضی جیسے مضامین تخلیقی نقطۂ نظر کے ساتھ سیکھتے ہیں اور وہ اس میں زیادہ دلچسپی بھی لیتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے سکولوں کے متعلق تو ڈِفڈ کا موقف ان کی ویب سائٹ پر مل جائے گا لیکن وہ اتنا ضرور بتا سکتی ہیں کہ بہت سے سکولوں کو دوبارہ ٹھیک کیا جا رہا ہے۔

برطانیہ میں پارلیمانی کمیٹی کی جب بھی کوئی انکوائری یا سوال جواب ہوتے ہیں تو بعد میں اس کی کارروائی کے متعلق تمام معلومات کو پارلیمان کی ویب سائٹ پر ڈال دیا جاتا ہے۔ پاکستان کو دی جانے والی امداد کے متعلق پہلی سبھی رپورٹیں اس پر موجود ہیں جن میں ان پر سفارشات پڑھی اور دیکھی جا سکتی ہیں کہ کس کس سفارش پر ابھی تک پاکستان میں عمل درآمد ہوا اور کس پر ابھی مزید ہونا باقی ہے۔

یہ بدقسمتی ہے کہ کسی پراجیکٹ کے تحت سکول بنائے گئے لیکن ان کے انفراسٹرکچر میں نقائص نکلے لیکن اس سے اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس امداد سے سینکڑوں ایسے پراجیکٹ بھی کیے جا رہے ہیں جو نہ صرف معاشرتی سطح پر تبدیلیاں لا رہے ہیں بلکہ ان سے پسماندہ طبقے کے لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب آیا ہے۔

’شیبا اینڈ دی پرائیویٹ ڈیٹیکٹیوز‘ سے اگر بچے حساب اور سائنس سیکھ سکتے ہیں تو ’ونڈر ٹری‘ سے معذور بچے بھی ان کی محنت کا ’پھل کھانا‘ شروع ہو گئے ہیں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: