ڈینگی کے خلاف جنگ میں نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے استعمال کا فیصلہ، نر مچھر کو بانجھ کیا جائیگا

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں حالیہ کچھ ہفتوں کے دوران ایک مرتبہ پھر ڈینگی بخار نے ایک وبا کی شکل اختیار کی ہے اور صوبے کے مختلف علاقوں میں اس بخار سے متاثرہ افراد کی تعداد 11 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

اسلام آباد میں پاکستان کے قومی ادارۂ صحت میں وبائی امراض کے ماہر اور ڈینگی سیل کے سربراہ ڈاکٹر رانا محمد صفدر کے مطابق رواں برس ملک میں ڈینگی سے اب تک کم از کم 20 افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے اور اس سے پوٹھوہار کا خطہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

ایک مخصوص مچھر کے کاٹنے کی وجہ سے ہونے والے اس وائرس سے بچاؤ کے لیے حکومتی سطح پر آگاہی مہم کے علاوہ مختلف عملی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

ڈاکٹر رانا محمد صفدر کا کہنا ہے کہ ملک میں ڈینگی وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ڈینگی مچھر کو نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے ذریعے بانجھ بنانے کا پروگرام تجرباتی بنیادوں پر شروع کیا جا رہا ہے۔

اس سے پہلے یہ پراجیکٹ بنگلہ دیش میں امریکی تعاون سے جاری ہے جہاں اس سال ڈینگی کے مرض کی وجہ سے اسّی سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بنگلہ دیش میں ڈینگی سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی اداروں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی اور ڈبلیو ایچ او نے چار سالہ منصوبہ ترتیب دیا ہے جس میں ایڈیِز ایجپٹی قسم کے مچھر کی افزائش نسل کو کنٹرول کرنے کے لیے نیوکلیئر ٹیکنالوجی کی مدد سے نر مچھر کو بانجھ بنایا جائے گا۔

ماہرین کو توقع ہے کہ وہ اس منصوبے کی مدد سے ملک میں سنہ دو ہزار سے جاری ڈینگی کی وبا کی شدت کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔

اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر صفدر نے بتایا کہ پاکستان بھی تجرباتی بنیادوں اس پروگرام کی شروعات کر رہا ہے جس کے نتائج کی بنیاد پر اس پروگرام کو مختلف علاقوں میں آزمایا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہنگامی بنیادوں پر صوبوں سے مل کر صورتحال کنٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، جس میں سب سے پہلا کام مریضوں کو مناسب سہولتیں فراہم کرنا ہے۔

ان کے مطابق اس کے ساتھ ساتھ ایک طویل مدتی پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے جس میں عالمی ادارۂ صحت کی گائیڈ لائنز اور دنیا بھر میں کیے جانے والے مختلف تجربات سے فائدہ اٹھانا شامل ہے۔

ڈینگی کیسے پھیلتا ہے؟
ڈینگی مادہ مچھر کے کاٹنے سے پیدا ہوتا ہے۔ نر اور مادہ مچھر جب ملاپ کرتے ہیں تو اس کے بعد مادہ کو انڈے دینے کے لیے پروٹین کی ضرورت پڑتی ہے اور وہ یہ پروٹین حاصل کرنے کے لیے انسانی خون چوستی ہے جس سے ڈینگی کا انفیکشن پھیلتا ہے۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان اور پوری دنیا میں ڈینگی پھیلانے والا مچھر ایڈیِز ایجپٹی مون سون بارشوں کے دوران اپنی جگہ بناتا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں ڈینگی پر حکومت کی مشاورت کرنے والے ڈاکٹر افتخار الدین کا کہنا ہے کہ ڈینگی پھیلانے والا یہ مچھر 10 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجۂ حرارت میں پرورش سکتا ہے اور اس سے کم یا زیادہ درجۂ حرارت میں مر جاتا ہے۔

ایڈیِز ایجپٹی مچھر کے انڈوں اور لاروے کی پرورش صاف کھڑے پانی میں ہوتی ہے۔ اس کا بڑا موافق ماحول گھروں کے اندر موجود ہوتا ہے۔

ان کے مطابق عموماً اگر باہر کا درجۂ حرارت چالیس سے اوپر یا دس سے کم بھی ہو تو ہمارے گھروں اور درختوں کے نیچے درجۂ حرارت 20 اور 30 درجے سینٹی گریڈ ہی کے درمیان رہتا ہے۔

ڈاکٹر صفدر کے مطابق چند سال پہلے تک ڈینگی کا مچھر پاکستان میں نہیں پایا جاتا تھا۔ ان کے بقول یہ ملائیشیا سے آنے والے ٹائروں سے کراچی پہنچا۔ اور اس کے بعد اس کا جرثومہ ایک انسان سے دوسرے انسان میں پہنچ گیا۔

ڈینگی کا مچھر مون سون کی بارشوں کے بعد ستمبر سے لے کر دسمبر تک موجود رہتا ہے جس کے بعد غیر موافق موسم کے سبب سے اس کا خاتمہ ہوجاتاہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ڈینگی کے مچھر میں اضافے کا ایک بڑا سبب لائف سٹائل بھی ہے جس میں پلاسٹک کا بہت زیادہ استعمال ہے۔

مون سون کی بارشوں کے دوران گلی، محلوں، بازاروں، باغات اور تفریح گاہوں میں جگہ جگہ موجود پلاسٹک کی اشیا میں پانی جمع ہو جاتا ہے جس میں ڈینگی مچھر تیزی سے نشوونما پاتا ہے۔

ڈینگی بخار کی علامات
ایوب ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ، ایبٹ آباد، کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر جنید کے مطابق ڈینگی بخار کی چار اقسام ہیں تاہم ان چاروں میں ایک ہی طرح کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

سب سے پہلی علامت شدید قسم کا سر درد ہے۔ اس کے علاوہ مریض کو پٹھوں اور جوڑوں میں نہایت شدید درد ہوتا ہے۔ یہ درد خاص طور پر کمر اور ٹانگوں میں ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات ڈینگی بخار کے ابتدائی مرحلے میں جلد پر خراشیں بھی پڑ جاتی ہیں اور جلد کھردری ہو کر اترنے لگتی ہے۔

اس کے علاوہ مریض کو نہایت تیز بخار ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے جسم کے درجہ حرارت میں نہایت تیزی کے ساتھ غیرمعمولی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ تیز بخار متلی اور قے کا سبب بھی بنتا ہے۔ مریض کا غنودگی میں رہنا عام بات ہے جبکہ کچھ مریضوں کی ناک اور مسوڑھوں سے خون بھی بہنے لگتا ہے۔

سخت بخار کے باعث مریض کو ڈائریا بھی ہوسکتا ہے جس کے باعث جسم سے نمکیات خارج ہوسکتے ہیں۔ یوں پہلے ہی ڈینگی سے بے حال مریض مزید ادھ موا ہو جاتا ہے۔ ڈینگی کا وائرس خون کے بہاؤ اور دل کی دھڑکن کو بھی متاثر کرتا ہے اور بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن میں کمی آسکتی ہے۔

ڈاکٹر جنید کے مطابق ڈینگی کا اگر ابتدائی مراحل میں علاج نہ کیا جائے تو وہ مریض کے لیے جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈینگی پر بعض اوقات کسی دوسرے مرض کی غلط فہمی میں زیادہ توجہ نہیں دی جاتی اور علاج میں تاخیر کر دی جاتی ہے جس کے باعث جان جا سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈینگی کی علامات کے فوری طور پر ظاہر ہوتے ہی ڈاکٹر سے رجوع کرنا مرض کی شدت کو کم کر سکتا ہے۔

ڈینگی سے بچاؤ
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ڈینگی سے بچاؤ کا کوئی وقتی حل نہیں ہے بلکہ یہ طویل مدتی جدوجہد ہو گی، جس میں حالیہ عرصے میں نئے تجربات کو بھی سامنے رکھا جاسکتا ہے مگر اس میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ڈبلیو ایچ او کا متعارف کروایا گیا طریقہ ہے۔

برازیل میں تحقیق کے کام میں مصروف پاکستانی سائنسدان رفیع الرحمن کہتے ہیں کہ ماہرین میں اس بات پر اتفاق ہے کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ڈینگی برازیل میں پایا جاتا ہے۔

ان کے مطابق اس کی شکل پاکستان یا ایشیا کے ممالک میں پائے جانے والے ڈینگی سے کچھ مختلف ہے مگر اس کی وجہ ایک ہی مچھر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ برازیل میں دنیا بھرکے تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کی ہیں۔ سب اس بات پر متفق ہیں کہ ڈینگی کے ساتھ سارا سال جنگ کرنا ہوگئی۔ اس سلسلے میں برازیل کی حکومت نے ایک جامع پروگرام شروع کیا ہے جس میں حکومتی ادارے خود بھی سارا سال فعال رہتے ہیں اور عوام میں بھی شعور پیدا کرتے ہیں۔

حکومتی ادارے اس بات کا تعین کرتے رہتے ہیں کہ کن علاقوں میں ڈینگی پھیل سکتا ہے اور وجوہات کیا ہیں۔ ان علاقوں میں وہ سرگرمی دکھاتے رہتے ہیں اور عوام کو بھی اس جانب توجہ دلاتے ہیں کہ وہ ایک ہفتے میں صرف دو گھنٹے خود اور اپنے خاندان کو ڈینگی سے بچاؤ کے لیے صرف کریں۔

رفیع الرحمان کے مطابق اس میں عوام سے کہا جاتا ہے کہ بچوں کے کھلونوں، فریج، واٹر کولر، ایئر کولر، اے سی اور اس طرح کی دیگر اشیا کو، جہاں پر پانی اکھٹا ہوسکتا ہے، صاف کردیں۔ گھر کی صفائی کا بھی خاص خیال رکھیں۔

اس طرح گھروں میں موجود پانی، پانی کے ٹینک چاہے وہ چھت پر ہوں یا زمین دوز، پودوں، گملوں اور درختوں کی جڑوں میں پانی کو کھڑا نہ رہنے دیں بلکہ غسل خانے کے پانی پر بھی نظر رکھیں اگر اس میں کوئی معمولی سے بھی غیر معمولی بات نظر آئے تو اس پانی کو ضائع کر دیں اور حکام کو اطلاع دیں کہ وہ اس علاقے کو ڈینگی سے صاف کرنے کے لیے اقدامات کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پورے برازیل میں اس طریقے سے بہتری کے آثار نمودار ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

ڈاکٹر افتخار الدین کا کہنا تھا کہ دسمبر میں مچھر کے خاتمے کے ساتھ ڈینگی میں بھی کمی واقع ہو گی، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ عوام اور ادارے سب چھوڑ کر بیٹھ جائیں بلکہ اس کو اگلے سال افزائش سے روکنے کے لیے سارا سال کام کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ہر علاقے میں اس کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اب اگر وہ وجوہات ختم نہ کی گئیں تو ہر سال ڈینگی تباہی مچاتا رہے گا۔

ان کے مطابق اس تجربے کو مد نظر رکھتے ہوئے وزارت ماحولیاتی تبدیلی سے پارٹنر شپ کی جا رہی ہے۔ جس میں ہر سال دیکھا جائے گا کہ کن علاقوں میں زیادہ بارشیں اور طویل مون سون متوقع ہے۔ ان علاقوں میں جولائی، اگست ہی سے حفاظتی اقدامات کے لیے صوبائی حکومتوں کو ایڈوائس جاری کی جائے گئی تاکہ ان علاقوں میں ڈینگی کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ سارا سال آگاہی مہم جاری رکھی جائے گئی، بالخصوص ہر سال مارچ سے مہم میں تیزی لائی جائے گئی جس میں عوام کو ڈینگی سے بچاؤ کے لیے اقدامات پر آمادہ کیا جائے گا۔

نئے تجربات کی مخالفت
ڈاکٹر محمد افتخار اور رفیع الرحمان نر مچھر کو بانجھ بنانے کے تجربے سے متفق نہیں ہیں۔

ڈاکٹر محمد افتخار کا کہنا تھا کہ ہر تجربہ ہر ملک اور ماحول کے لیے موافقت نہیں رکھتا۔ ابھی تو بنگلہ دیش نے یہ تجربہ آزمائشی بنیادوں پر کیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہاں پر ماہرین نے ڈینگی کے زیادہ پھیلاؤ اور انسانی جانوں کو بچانے کے لیے اس تجربے کو کرنے کا فیصلہ کیا ہو۔ آگے چل کر کیا ہوتا ہے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ ابھی تک اس تجربے کو ڈبلیو ایچ او نے بنگلہ دیش کے علاوہ کسی اور ملک کے لیے تجویز بھی نہیں کیا ہے۔

رفیع الرحمان کے مطابق اس طرح کے تجربات میں معمولی سے بھی غلطی بہت زیادہ ماحولیاتی مسائل پیدا کر دے گی۔ بنگلہ دیش کے تجربے کے نتائج آنا باقی ہیں۔

برازیل میں اس طرح کے بہت تجربات ہوئے ہیں۔ جو بھی تجربہ کیا جاتاتھا وہ پہلے سال تو کامیاب رہتا مگر اس کے بعد وہ اپنا اثر کھو بیٹھتا تھا۔ مچھر اگلے سالوں میں زیادہ مزاحمت کے ساتھ منظر عام پر آجاتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے اب برازیل میں بھی اس مسئلے کو مستقل طور پر حل کرنے کے لیے ہر علاقے کو فوکس کرکے اس کے ماحولیاتی عوامل کو تلاش کیا جاتا ہے۔ اس لیے پاکستان کو بھی چاہیے کہ ہر علاقے کے ماحولیاتی عوامل کی وجوہات کو تلاش کرکے ان کے خاتمے پر توجہ دے۔ اس وقت یہ ہی بہتر حکمت عملی ہو سکتی ہے۔

رفیع الرحمان کے مطابق اسی لیے اب تک پوری دنیا میں ڈبلیو ایچ او کی پہلے سے دی گئی گائیڈ لائن کو مؤثر سمجھا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملیریا سے نمٹنے کے لیے سری لنکا کی مثال کو ضرور سامنے رکھا جاسکتا ہے جس میں انھوں نے ایک شہر سے دوسرے شہر، ایک قصبے سے دوسرے قصبے، اور بیرونی ممالک سے آنے والوں کی سکینگ کا نظام متعارف کروایا تھا۔ اس سے ملیریا کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملی ہے۔

اس طرح کے اقدامات سے پاکستان میں ڈینگی کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کیونکہ پاکستان میں ڈینگی کے پھیلاؤ کا ایک بڑا ذریعہ انسان ہی ہیں۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: