وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس:‌پاک فوج کےخلاف نعروں کی شدید مذمت، کاؤنٹر جلسوں کی منصوبہ بندی

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں نو کے قریب جماعتوں‌نے پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں‌پاک فوج کے خلاف نعرے بازی کو کسی صورت برداشت نہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا، جموں‌کشمیر لبریشن فرنٹ (صغیر گروپ) کے زیر اہتمام آزادی مارچ اور یکجہتی دھرنا کے شرکاء کی جانب سے پاک افواج کے خلاف نعرے بازی کی شدید مذمت بھی کی گئی. ساتھ ہی وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اپیل پر کنٹرول لائن کی جانب مارچ کا منصوبہ ملتوی کرتے ہوئے آزادی مارچ و یکجہتی دھرنا کے کاؤنٹر کے طور پر تمام اضلاع میں سرکاری سرپرستی میں‌یکجہتی جلسے اور ریلیاں‌منعقد کرنے کےلئے کمیٹی قائم کر دی گئی، تاہم سرکاری پریس ریلیز میں‌پاک فوج کے خلاف نعروں‌سے متعلق کارروائی کا ذکر نہیں‌کیا گیا.

اسلام آباد میں‌ نجی ٹی وی سے منسلک صحافی اصغر حیات کی رپورٹ کے مطابق کشمیرہاوس اسلام آباد میں پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کی سیاسی و پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس میں تمام جماعتوں کی طرف سے گزشتہ دنوں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے مارچ کے دوران پاک فوج کیخلاف نعرے بازی کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی، تمام جماعتوں کے رہنماوں کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں جب بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم کیے ہوئے ہے، پاک فوج کے خلاف اس طرح کی نعرے بازی اور کسی قسم کا بھی پروپیگنڈہ بھارت کے ہاتھ مظبوط کرے گا،

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (یاسین) کے نمائندہ رفیق ڈار کا کہنا تھا کہ کشمیر میں ہونے والےمظالم کیخلاف ایک ہی ملک پاکستان آواز بلند کررہا ہے ، الحاق پاکستان یا خود مختار کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں نے رائے شماری میں کرنا ہے ، کشمیریوں کا بنیادی مطالبہ رائے شماری ہے، لبریشن فرنٹ کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ ہجیرہ مارچ میں پاک فوج کے خلاف نعرے بازی کرنے والوں کا جموں کشمیر لبریشن فرنٹ سےکوئی تعلق نہیں، جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پاک فوج کا احترام کرتی ہے اور اس طرح کے نعروں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے، تمام سیاسی و پارلیمانی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاک فوج کیخلاف نعرے بازی اور پروپیگنڈے کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا.

تاہم پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں‌ اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا. جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے اندر بدترین لاک ڈاون کو 40 روز گزر گئے ہیں۔ ہندوستانی اقدامات انسانیت کے خلاف سنگین جرائم ہیں ۔یورپین پارلیمنٹ سمیت دنیا کے معتبر ادارے کشمیریوں کی آواز سن رہے ہیں۔مقبوضہ کشمیر کے اندر انسانیت سسک رہی ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل امریکہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فوج کشمیریوں کی نسل کشی کے منصوبے پر عمل پیرا ہے یورپین یونین اگر انسانیت کو بچانا چاہتے ہیں تو فوری مداخلت کریں۔وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے ان خیالات کاا ظہار اپنی میزبانی میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کی کور کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اجلاس میں سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان اپوزیشن لیڈر آزادکشمیر چوہدری یاسین، جماعت اسلامی آزادکشمیر کے امیر ڈاکٹر خالد محمود، جمیعت علماءاسلام کے سیکرٹری جنرل امتیاز عباسی، جمیعت اہل حدیث کے دانیال شہاب، عبداللہ گیلانی رفیق ڈار سمیت دیگر قائدین شریک تھے۔

اجلاس میں متفقہ طور پرفیصلہ کیا گیا کہ آزادکشمیر بھر میں مقبوضہ کشمیر کی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ریاست بھر میں بڑے اجتماعات کا انعقاد کیا جائے گا، جس کے انتطامات و دیگر امور کے لیے وزیر اطلاعات مشتاق احمد منہاس کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی گئی .جس میں آل پارٹیز کانفرنس کے زیر انتظام ایل او سی مارچ کی تاریخ کا وزیراعظم پاکستان کی اپیل پر ان کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب تک اعلان نہیں ہو گا۔اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال کو زیر غور لایا گیا ۔

کمیٹی میں ممبران نور الباری (جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی)، حسن ابراہیم (جموں وکشمیر پیپلزپارٹی)، سردار صغیر چغتائی(مسلم کانفرنس)، محمد حسین خطیب(آل پارٹیز حریت کانفرنس)، فیصل راٹھور(جنرل سیکرٹری، پیپلزپارٹی AJK) ، سید عتیق الرحمان شاہ(جمیعت اہلحدیث)، امتیاز عباسی (جمیعت علماءاسلام)، سید سبطین کاظمی(شہید بھٹو پارٹی)، ظفر انور (پاکستان تحریک انصاف)، نمائندہ(جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ)اور ذوالفقار علی ملک (ڈائریکٹر جنرل ، سیاسی امور ہمراہ جناب وزیراعظم) سیکرٹری کمیٹی شامل ہیں۔شرکاءنے لائن آف کنٹرول پر ہندوستانی فوج کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ سے ایک خاتون کی شہادت کی بھی مذمت کی شرکاءنے لائن آف کنٹرول اورپاک افغان بارڈر پر شہید ہونیوالے پاک فوج کے جوانوں کی قربانیوں کو ملک پاکستان اور آزادکشمیر کے دفاع کے لیے عظیم قربانی قرار دیتے ہوئے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: