کشمیر پر بھارتی قبضہ قانونی ہے: پاکستانی زیر قبضہ حصہ بھارت کو چھیننا چاہیے تھا، کتابچہ منظر عام پر

پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے شہریوں پر مشتمل بیرون ریاست بنیادیں رکھنے والی قوم پرست جماعت متحدہ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی(یو کے پی این پی ) کی فارن افیئرز کمیٹی کے صدرو چیئرمین ساﺅتھ ایشیا واچ لندن ڈاکٹر شبیر چوہدری کا پچیس صفحات پر مشتمل”جموں کشمیر کی قانونی حیثیت: کون سا حصہ مقبوضہ نہیں ہے“ کے عنوان سے ایک کتابچہ منظر عام پر آیا ہے، جس میں انہوں نے مختلف حوالوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جموں کشمیر پر بھارت کا  قبضہ نہیں ہے بلکہ قانونی طور پر جموں کشمیر اس وقت بھارت کا حصہ ہے جبکہ پاکستان قابض ہے اور اس نے نہ صرف جموں کشمیر کے ایک حصہ پر قبضہ کر رکھا ہے بلکہ اس وقت تک تمام انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ نہ ہو پانے کا بنیادی ذمہ دار پاکستان ہی ہے، کتابچہ میں ڈاکٹر شبیر چوہدری نے یہ بھی لکھا ہے کہ جموں کشمیر کا جغرافیہ وہی نہیں ہے جو اس وقت بھارت کے پاس ہے بلکہ پاکستان نے ایک بڑے حصہ پر قبضہ کر رکھا ہے، اور ریاست جموں کشمیر کے سابق حکمران کے ساتھ بھارت نے معاہدہ کر رکھا ہے کہ وہ جموں کشمیر کے باسیوں کے جان و مال اور ان کی سیاسی، معاشی، جغرافیائی آزادیوں کی حفاظت کرتے ہوئے بیرونی حملہ آوروں سے انہیں محفوظ کرے گا، لیکن بھارت نے مختلف سیاسی اور معاشی حالات کے پیش نظر اس معاہدہ پر مکمل طور پر عمل نہیں اور پاکستانی زیر قبضہ حصہ کو بذریعہ طاقت واپس حاصل نہیں کیا جو اسے کرنا چاہیے تھا۔
مذکورہ کتابچہ ڈاکٹر شبیر چوہدری کے اپنے بلاگ پر یہاں کلک کر کے پڑھا جا سکتا ہے.
ڈاکٹر شبیر چوہدری کے بقول پارٹی چیئرمین شوکت علی کشمیری اور دیگر رہنماﺅں جن میں ناصر عزیز، جمیل مقصود، سردار امجد یوسف اور قمر خلیل کی انہیں مکمل حمایت حاصل ہے، جبکہ کتابچہ کا تعارف یو کے پی این پی یورپ زون کے صدر سردار امجد یوسف نے لکھتے ہوئے اس کتابچہ کو جموں کشمیر کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب قرار دیتے ہوئے ایک تاریخی دستاویز قرار دیا ہے۔
ڈاکٹر شبیر چوہدری نے لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کو جموں کشمیر تنازعہ کا اصل ذمہ دار قرار دیا ہے، اس کے حق میں انہوں نے دلیل دی ہے کہ لارڈ ماﺅنٹ بیٹن نے مہاراجہ جموں کشمیر ہری سنگھ کی جانب سے ریاست کے بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز کو عارضی قرار دیا اور بعد ازاں پاکستانی و بھارتی وزیراعظم کو مسئلہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں لے کر جانے کا مشورہ بھی دیا۔ اسے یہ معلوم تھا کہ اقوام متحدہ کے مشکل پراسیس کو سمجھنے سے قاصر پاکستان اور بھارت کے حکمران کیس کو درست انداز میں نہیں لے جا سکیں گے اور تنازعہ دونوں ملکوں کے درمیان لمبے عرصے تک قائم رہے گا، اس کے پیچھے انہوں نے ماﺅنٹ بیٹن کا انا کا مسئلہ کارفرما قرار دیا ہے۔

ڈاکٹر شبیر چوہدری نے کتابچہ میں مختلف دلائل اور حوالہ جات دیتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ بھارت کشمیر پر قبضہ نہیں ہے بلکہ قانونی طور پر اس وقت جموں کشمیر بھارت کا حصہ ہے اور پاکستان جموں کشمیر پر قابض ہے، اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں نے پاکستان کو ہی قابض قرار دیا ہے، انہوں نے کتابچہ میں یہ بھی واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ بھارتی زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں جس کی وہ مذمت کرتے ہیں لیکن ان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ بھی پاکستانی مداخلت ہے، پاکستان کی طرف سے بھیجے جانے والے مذہبی جنگجو بھارتی فورسز پر حملے کرتے ہیں جس کے جواب میں بھارتی پیرا ملٹری فورسز انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرتی ہیں، انہوں نے یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جموں کشمیر کے ایک مخصوصی حصے میں جہاں پاکستان کی مداخلت ہے وہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، باقی جموں اور لداخ میں انسانی حقوق کی کوئی خلاف ورزیاں نہیں ہو رہی ہیں۔

کتابچہ میں بارہا ڈاکٹر شبیر چوہدری نے اپنی اور پارٹی کی خواہش کا اظہار بھی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جموں کشمیر ایک خودمختار ، سیکولر اور جمہوری ریاست کے طور پر قائم ہو، انکی پارٹی کی جدوجہد بھی خودمختار، سیکولر اور جمہوری ریاست کے حصول کےلئے ہے، لیکن وہ تاریخی حقائق کو سامنے لانے کےلئے یہ دستاویز لکھ رہے ہیں، انہوں نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ اس کے بعد ان کےخلاف سخت رویہ اپنایا جائے گا لیکن وہ اسے تاریخی فریضہ سمجھتے ہیں۔
واضح رہے کہ متحدہ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی(یو کے پی این پی ) جس کے ڈاکٹر شبیر چوہدری ایک اہم سرکردہ رہنما ہیں، ماضی میں کشمیر میں بائیں بازو کے سٹالنسٹ نظریات پر قائم ہونے والی پارٹی جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی(جے کے پی این پی )کی جانب سے سردار شوکت علی کشمیری اور دیگر چند رہنماﺅں کو بھارتی ایجنٹ قرار دیکر باہر نکالنے کے بعد اس جماعت(متحدہ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی) کو قائم کیا گیا تھا، جس کے تاحال چیئرمین سردار شوکت علی کشمیری ہیں اور وہ یورپ کے ملک سوئیزرلینڈ سے پارٹی کو چلاتے ہیں۔ ماضی میں سردار شوکت علی کشمیری اور انکے ساتھیوں پر بھارتی اداروں کے ساتھ ملکر کام کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے چیئرمین سمیت دیگر چند رہنماﺅں کے پاکستانی پاسپورٹس بھی کینسل کر دیئے گئے تھے اور وہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

تاہم پارٹی چیئرمین سمیت دیگر سرکردہ رہنماﺅں کی مشاورت سے لکھے گئے تازہ کتابچہ کے بعد جیسا کہ خود مصنف نے امکان ظاہر کیا ہے کہ یہ بحث ایک مرتبہ مختلف سیاسی و سماجی رجحانات میں زور پکڑ سکتی ہے اور مذکورہ پارٹی اور اسکے رہنماﺅں کو اس طرح کے مزید الزامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: