جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا سٹیٹ سبجیکٹ قانون کے خاتمے کے خلاف تیتری نوٹ اور مظفرآباد دھرنوں کا اعلان

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے زونل ترجمان شاہد شریف کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق راولاکوٹ آج جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی مرکزی قیادت نیشنل زون کی قیادت اور جے کے ایس ایل ایف کی مرکزی قیادت کے زیر اہتمام انتہائی اہم اجلاس منعقد ھوا. جس میں ریاست جموں کشمیر کے اندر ہندوستان کی طرف سے کئے گئے ظلمانہ، جابرانہ، آمرانہ فیصلے سے پیدا ھونے والی صورت حال پر تفصیلی گفت و شیند کے بعد موجودہ معروضی حالت کو مد نظر رکھتے ھوئے 5اہم فیصلے کئے گئے.
نمبر1. سٹیٹ سبجیکٹ قانون کو پوری ریست کے اندربحال کیاجائے، سٹیٹ سبجیکٹ قانون کو ہر دو ممالک نے ملی بھگت سے ختم کرنے کی گھناؤنی سازش کی، پہلے پاکستان نے گلگت بلتستان کے اندر یہ کھیل کھیلا اور اب ہندوستان اس گھناؤنے عمل کامرتکب ہوا ہے اور انڈین مقبوضہ وادی کے لوگوں‌کو یرغمال بنا کر پوری وادی کو جیل میں‌بدل کر رکھ دیاہے. انڈین مقبوضہ کشمیر کے عوام سے بنیادی انسانی حقوق چھین کر انہیں‌محصور کر رکھا ہے. جس کے خلاف ہم سراپا احتجاج ہیں. ہم سٹیٹ سبجیکٹ قانون کی بحالی اور مظلوم و محکوم عوام کے ساتھ مل کر لڑیں گے.
نمبر2.موجودہ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے اس ظالمانہ اقدام کے خلاف عوامی رابطہ مہم کرتے ہوئے اٹھائیس اگست کو تیتری نوٹ سیکٹر میں غیر معینہ مدت کےلئے احتجاجی دھرنا دیا جاے گا.

نمبر3.اس ظلم کے خلاف اور مقبوضہ کشمیر کی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے 23 اکتوبر کو مظفرآباد میں‌لولی لنگڑی اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جائے گا، یہ دھرنا بھی غیر معینہ مدت کےلئے ہوگا اوراس دھرنا کامقصد گلگت بلتستان ، نام نہاد اآزادکشمیر کے اندر ہونے والی سٹیٹ سبجیکٹ قانون کی پامالی کے خلاف احتجاج کرنا اور کشمیریوں‌کی نمائندہ انقلابی حکومت کے قیام کا مطالبہ کرنا ہوگا.
نمبر4.بھارتی مقبوضہ کشمیر کے اندر قید سیاسی قیدی یاسین ملک، شبیرشاہ، آسیہ اندرابی اوردیگر کو فوری رہاکیا جائے، ان پرہونے والے غیر انسانی سلوک کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور اسی طرح‌گلگت بلتستان کے اندر بابا جان اور دیگر اسیران کو فی الفور رہا کیاجائے اور گلگت بلتستان اور پاکستانی کشمیر کے اندر ہونے والی جبری گمشدگیوں اور اآزادی پسندوں‌کی نقل و حرکت پر لگائی گئی پابندیاں ہٹائی جائیں اور ظالمانہ کالے قوانین کا خاتمہ کیاجائے.
نمبر 5. جے کے ایل ایف ریاست کے اندر موجود ہر قوم پرس، ترقی پسند تنظیم و قیادت سے موجودہ معروضی صورتحال پر رابطہ کرے گی بلکہ رابطے میں‌ہے اور تقسیم کشمیر کے خلاف ، سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی کےلئے جہاں تک ہو سکا مل کر جدوجہد کےلئے ماحول بنائیں گے.