آرٹیکل 370 کا خاتمہ: انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر سینکڑوں افراد گرفتار

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے حکام کے مطابق ریاست کی مخصوص حیثیت کے خاتمے کے بعد سے اب تک کم سے کم 300 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

عارضی حراستت مراکز میں رکھے گئے ان افراد میں سیاست دان، تاجر اور کارکن شامل ہیں۔

اتوار کی رات سے وادی کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہے اور موبائل، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند ہے۔

انڈین وزیر اعظم نریندر مودی جمعرات کو قوم سے خطاب کریں گے۔

روئٹرز خبر رساں ایجنسی کے مطابق مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج روکنے کے لیے لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ایک پولیس افسر کے بقول ‘لوگوں میں بہت زیادہ غصہ ہے۔’

کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

بی بی سی کے نامہ نگاروں نے بعض مظاہرین کو سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کرتے دیکھا۔ نامہ نگاروں نے بعض شہریوں سے گفتگو کی جنھوں نے تشدد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا۔

ایک مقامی ٹریول ایجنٹ اقبال کا کہنا تھا کہ ‘کشمیر کے لوگ بہت برہم ہیں۔ وہ ایک آتش فشاں کی طرح ہیں جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے اور انڈیا نتائج سے بالکل بے خبر ہے۔’

پاکستان کا کہنا ہے کہ کشمیر کے معاملے پر انڈیا کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے باوجود کرتارپور راہداری پر کام جاری رہے گا۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے یہ بات جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتائی۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ‏پاکستان تمام مذاہب اور ان کے پیروکاروں کی مذہبی رسومات کا احترام کرتا ہے اور اس کشیدہ صورتحال میں بھی کرتار پور راہداری منصوبہ جاری رہے گا۔

خیال رہے کہ رواں برس جنوری میں پاکستان نے کرتارپور راہداری کے حوالے سے مجوزہ معاہدہ انڈیا کے حوالے کیا تھا۔ راہداری منصوبے میں دریائے راوی پر پُل اور ساڑھے چار کلومیٹر سڑک شامل ہے۔ منصوبہ رواں برس نومبر میں سکھ مذہب کے بانی بابا گورو نانک کی 550ویں برسی سے قبل مکمل ہونے کا امکان ہے۔

بریفنگ میں پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان نے انڈیا سے مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا اور نہ ہی حالیہ انڈین اقدامات کے بعد پاکستانی فضائی حدود انڈیا کے لیے بند کی گئی ہے۔

تاہم پاکستان کے وزیر ریلوے شیخ رشید نے اعلان کیا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس کو معطل کر دیا گیا ہے۔

پاکستان نے بدھ کو قومی سلامتی کمیٹی کے اہم اجلاس کے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ وہ انڈیا کی جانب سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور اسے مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ بنائے جانے پر اس کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرتے ہوئے، دو طرفہ تجارت معطل کر رہا ہے۔

ادھر انڈیا نے پاکستان کی جانب سے سفارتی تعلقات محدود کرنے کے فیصلے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظرِثانی کرے۔

انڈین وزارتِ خارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان نے انڈیا کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے بارے میں سفارتی تعلقات محدود کرنے کا یکطرفہ فیصلہ کیا ہے۔‘

بیان کے مطابق ’ان اقدامات کا مقصد دنیا کے سامنے دونوں ممالک کے تعلقات کے بارے میں پریشان کن تصویر پیش کرنا ہے اور پاکستان کی جانب سے جو وجوہات بیان کی گئی ہیں وہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں۔‘

انڈیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’آرٹیکل 370 کے بارے میں اقدامات خالصتاً انڈیا کا اندرونی معاملہ ہے اور جموں و کشمیر کے خطے کی ایک پریشان کن صورت پیش کرنا کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔‘

انڈیا کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کا فیصلہ جموں و کشمیر کو ترقی کا موقع دینے کے لیے کیا گیا۔ ’حکومت اور پارلیمان کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ فیصلے اس عزم کا مظہر ہیں کہ جموں و کشمیر کو ترقی کا موقع ملے جو کہ آئین میں ایک عارضی انتظام کی وجہ سے انھیں دستیاب نہیں تھا۔‘

انڈیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس فیصلے سے صنفی اور اقتصادی امتیاز کا بھی خاتمہ ہوگا اور معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی۔

بیان کے مطابق یہ حیران کن نہیں کہ اس قسم کے ترقیاتی اقدامات جو کہ جموں و کشمیر میں کسی بھی ناامیدی کو ختم کر سکتے ہیں، پاکستان منفی تناظر میں دیکھے کیونکہ وہ ان جذبات کو سرحد پار دہشت گردی کی توجیہ کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے۔

انڈین وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’حکومت پاکستان کی جانب سے گذشتہ روز اعلان کردہ اقدامات پر افسوس کا اظہار کرتی ہے اور پاکستان پر زور دیتی ہے کہ وہ ان اقدامات کا جائزہ لے تاکہ سفارتی روابط کے عام راستوں کا تحفظ ہو سکے۔‘

پاکستان نے انڈیا کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’کشمیر اقوام متحدہ میں تسلیم شدہ تنازع ہے۔ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنا انڈیا کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ عالمی تنازع ہے۔‘

خیال رہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے پانچ نکاتی اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں پرائم منسٹر آفس میں ہونے والے اجلاس میں کمیٹی نے سفارتی تعلقات محدود کرنے اور دو طرفہ تجارت معطل کرنے کے علاوہ تمام دو طرفہ معاہدوں کا ازسر نو جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق اس کے علاوہ پاکستان اس معاملے کو اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں بھی اٹھائے گا جبکہ 14 اگست کو پاکستان کا یومِ آزادی کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جائے گا جبکہ 15 اگست کو انڈیا کے یومِ آزادی کے موقع پر یوم سیاہ منانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔


امریکہ کشمیر پر براہِ راست مذاکرات کا حامی
امریکہ نے بھی پاکستان اور انڈیا کے مابین مسئلہ کشمیر پر براہ راست مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے دونوں ممالک پر اس کشیدگی کے وقت میں پرامن اور تحمل سے کام لینے پر زور دیا ہے۔

بدھ کو امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان کی جانب سے جاری کیے گیے ایک بیان میں کہا گیا ہے ’ہم انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے تنازع سمیت دیگر غور طلب امور پر براہ راست مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں۔‘

اس سے قبل امریکی قائم مقام نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیا ایلس ویلز نے انڈیا کی جانب سے اپنے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام سے متعلق امریکہ کو آگاہ کرنے کی خبروں کی تردید کی تھی۔

امریکی دفتر خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیا کے ٹوئٹر اکاونٹ سے کی جانے والی ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ ‘میڈیا رپورٹنگ کے برخلاف، انڈین حکومت نے امریکی حکومت کو جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بارے میں نا تو پہلے سے بتایا اور نا ہی اس حوالے سے کوئی مشاورت کی ہے۔’

آرٹیکل 370 کا خاتمہ: انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر سینکڑوں افراد گرفتار” ایک تبصرہ

Leave a Reply

%d bloggers like this: