Site icon Daily Mujadala

پی این اے کا اسمبلی کی طرف احتجاجی مارچ، حکومت پر امن انعقاد پر مکمل تعاون کریگی

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے حکومتی وفد نے چیئرمین پیپلز نیشنل الائنس سے ملاقات کرتے ہوئے اکیس، بائیس اکتوبر کو مظفرآباد اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب پر امن احتجاجی مارچ کے انعقاد میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے.

وزراء حکومت مشتاق منہاس، وقار نور کے علاوہ ڈی جی ایم ڈی اے اعجاز رضا، ذالفقار ملک حکومتی وفد میں‌شامل تھے، جنہوں نے میرپورمیں‌چیئرمین پیپلز نیشنل الائنس راجہ ذوالفقار احمد ایڈووکیٹ سے انکی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور انکی بیٹی کی وفات پر تعزیت بھی کی.

چیئرمین پی این اے کے ہمراہ انکی پارٹی کے رہنما احتشام الحق، غالب بوستان، اسلم وطنوف بھی موجود تھے.

پی این اے ہی کی جانب سے سوشل میڈیا پر فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق چیرمئین پی این اے نے وفد کو پی این اے کے تمام اہداف سے آگاہ کیا اور کہا کہ ھمارا مارچ پرامن، جمہوری اور جموں‌کشمیر کی مکمل آزادی کےلئے عوامی شعور کی بیداری مہم کا حصہ ہے، ھم کسی طرح کا ٹکراؤ وغیرہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور قومی آزادی کی جدوجہد کو مثبت،جمہوری، فکری بنیادوں پر استوار کرنے پر یقین رکھتے ہیں.

البتہ ھماری مثبت و تعمیری سوچ کو اگر کمزوری تصور کرتے ہوئے ھمارے کارکنوں کو ڈرایا دھمکایا گیا، ہراساں کیا گیا، یا پھر 21 اکتوبر کو کسی بھی مقام پر کوئی رکاوٹ ڈالی گئی تو پھر اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا جسکی ذمہ داری حکومت وقت پر ہو گی۔

چیرمئین نے کہا کہ پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر و گلگت بلتستان کو باہم ملا کر آئین ساز اسمبلی کا قیام، معائدہ کراچی کی فوری منسوخی، ایکٹ 1974ء کا خاتمہ، ریاست کی مستقل تقسیم کی گھناؤنی سازش کو روکنے، ریاست باشندہ قانون کی گلگت بلتستان و بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں مکمل بحالی، بھارتی زیر انتظام کشمیر میں کرفیو کے خاتمہ، بھارتی زیر انتظام جموں کشمیراور گلگت بلتستان میں سیاسی اسیران کی غیر مشروط رہائی اور جموں کشمیر کی قومی آزادی جیسے مقاصد پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائےگا۔

حکومتی وفد نے یقین دلایا کہ پی این اے کے پرامن و جمہوری احتجاجی مارچ کو کسی بھی جگہ نہیں روکا جائے گا کیونکہ ھم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اسلئے آزادی پسند، جمہوریت پسند پرامن اتحاد میں شامل پارٹیوں کو اپنی سوچ و فکر کے مطابق اس نوعیت کی سرگرمیاں کرنے کا حق حاصل ہے۔ بلکہ حکومتی ادارے آپکی عوامی مارچ کے دوران کسی بھی تخریبی کاروائی کے خدشہ کے پیش نظر عوام کو محفوظ رکھنے کیلئے وہاں بھرپور تعاون کریں گے۔

بہرحال اس نازک مرحلہ پر دونوں فریقین کو ٹکراو کی پالیسی سے اجتناب برتنا ہو گا کیونکہ حالات کا تقاضہ یہی ھیکہ کشمیری عوام میں مزید دوریاں پیدا نہ ہوں۔ تاکہ منفی سوچ کی حامل و مخالف طاقتوں کے عزائم پورے نہ ہونے پائیں۔

پی این اے کی جانب سے سوشل میڈیا پرجاری بیان کے مطابق مذاکرات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئے، پی این اے کے راہنماؤں نے حکومتی وفد کا آنے پر شکریہ ادا کیا جبکہ حکومتی وفد کے اراکین نے بھی شکریہ کیساتھ کہا کہ ملاقات کے بعد کافی غلط فہمیاں دور ہوئی ہیں

Exit mobile version