برطانیہ میںموجود پاکستان نواز اور قوم پرست تنظیموں کے مشترکہ فورم برٹیش کشمیری فورم کے رہنماؤںنے مشترکہ بیان میںکہا ہے کہ حکومت پاکستان کی طرف سے جموں کشمیر کا شائع کردہ نقشہ اقوام متحدہ کے چارٹر، قراردادوں اور آئیں پاکستان سے متصادم ہے۔ مسئلہ کشمیر دوکروڑ انسانوں کے غیر محدودحق استصواب سے ہی حل ہوگا اور اس کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری قوم نے کرنا ہے۔
پاکستان کی طرف سے حالیہ نقشہ سے مسلہ کشمیر کی عالمی حیثیت میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اور نہ ہی کشمیری قوم اپنے بنیادی مطالبہ یعنی ریاست بھر میں حق استصواب رائے کے بنیادی مطالبہ سے دستبردار ہونگے۔ مسلہ کشمیر ریاست کے تمام خطوں میں بسنے والے دو کروڑ انسانوں پر مشتمل ایک قوم کے مستقبل کا مسلہ ہے۔جو نہ بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدی تنازعہ اور نہ باہمی دو طرفہ مسلہ اور نہ ہی بھارت کے زیر قبضہ کشمیر کی آئینی یا جغرافیائی حیثیت کی تبدیلی سے حل ہو سکتاہے۔ اسی طرح نہ ہی یہ پاکستان کی طرف سے اندرونی آئینی، قانونی اور جغرافیائی تبدیلیوں سے حل یو سکتا ہے.
ان خیالات کا اظہار لیوٹن سے برٹش کشمیری فورم کے راہنماؤں مسلم لیگ برطانیہ کے صدر زبیر اقبال کیانی، جموں کشمیر لبریشن فرنٹ برطانیہ کے صدر سید تحسین گیلانی، ظفر قریشی چیئرمین کشمیر کمپین گلوبل ،راجہ اعظم راہنما پیپلز پارٹی آزاد کشمیر، ساجد شاہین سیکرٹری جنرل جموں کشمیرنیشنل عوامی پارٹی، مفتی خالد جمعیت علماءاسلام،، ڈاکٹر مظہر کشمیر فریڈم موومنٹ، آصف شریف جے کے پیپلز پارٹی اور صابر گل جے کے ایل ایف نے اخبارات کو جاری کئے گئے ایک بیان میں کیا۔
ان راہنماؤں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے شائع کردہ نقشہ سے پاکستان کا مسلہ کشمیر پر اخلاقی سبقت میں کمی آئے گی اور اس طرح کے اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر، قراردادوں اور انسانی حقوق کے بھی خلاف سمجھے جاتے ہیں اور استصواب کروانے کے وعدہ کی بھی خلاف ورزی ہے۔
اس اقدام سے پاکستان کا جو کشمیروں کا خود ارادیت کی حمایت کا موقف ہے اس کو دھچکالگا ہے اور پاکستان کے اپنے آہین کے آرٹیکل 257 کی کی بھی خلاف ورزی ہے جہاں پاکستان کی جغرافیائی حدود بھی واضح ہیں۔ اور یہ کلیر کہا گیا ہے کہ جب تک کشمیروں کو حق خود ارادیت کا حق نہیں دیا جاتا تب تک پاکستان کسی بھی صورت میں پوری ریاست جموں و کشمیر میں کسی قسم کی مداخلت کا مجاز نہیں ہے اور کشمیر یوں کے حق خود ارادیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

