جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نے لاک ڈاؤن کے دوران تعلیم کے نام پر طلبہ کے ساتھ ہونے والے کھلواڑکے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔
تمام یونیورسٹیوں میں سمسٹرز سیز کرنے اور فیسیں معاف کرنے کے علاوہ تمام نجی تعلیمی اداروں کو تخمینہ لگا کر ان میں زیر تعلیم طلبہ کی فیسیں حکومتی فنڈز سے ادا کرنے کا مطالبہ کے گرد مختلف مراحل میں یہ تحریک چلائی جائے گی۔
جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی عہدیداران نے ٹیلیفونک مشاورت کے بعداپنا چارٹر آف ڈیمانڈ حکومت کے سامنے پیش کرتے ہوئے مختلف مراحل میں تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے، اس تحریک میں زیادہ سے زیادہ طلبہ کو شریک کرنے کیلئے سوشل میڈیاکیمپین کے علاوہ ضرورت پڑنے پر لاک ڈاؤن کی پابندیوں کو توڑتے ہوئے احتجاجی ریلیاں اورجلسے جلوس منعقد کرنے تک کے فیصلہ جات کئے ہیں۔
این ایس ایف کے مرکزی عہدیداران مرکزی صدر ابرار لطیف، یاسر حنیف، التمش تصدق، تیمور سلیم، مجیب الرحمان، سعد الحسن اور دیگر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر یونیورسٹیوں کے سمسٹرز سیز کئے جائیں اورطلبہ کی جمع شدہ فیسوں کو ہی لاک ڈاؤن کے بعد سمسٹر رواں ہونے پر انکے لئے استعمال کیا جائے، تمام کالجز اور سکولوں کی فیسیں فوری معاف کی جائیں، بوسیدہ انفراسٹرکچر کی وجہ سے آن لائن کلاسز کے نام پر ایک نیاکاروبار شروع کر دیا گیا ہے جس پر فوری طور پر پابندی عائد کی جائے، معاشی طور پر مفلوج ہو چکے والدین پر آن لائن کلاسز کے نام اضافی مالیاتی بوجھ کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تین ہزار روپے ماہانہ مالی امداد سے پورے گھرانے کا خرچہ چلانے کا درس دینے والے حکمرانوں کو نجی سکولوں کی پندرہ سو روپے فیس کو معمولی قرار دیتے ہوئے شرم سے ڈوب مرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ فوری طور پر تمام نجی سکولوں کی فیسوں کو تخمینہ لگاتے ہوئے تین ماہ کی فیسیں حکومتی فنڈز سے جمع کروائی جائیں، محنت کشوں اور دیہاڑی دار مزدوروں کو ریلیف پیکیج دیا جائے، تمام یوٹیلٹی بلز اور قرضہ جات معاف کئے جائیں، محکمہ صحت کے ملازمین کو فوری طور پر سہولیات اور حفاظتی سامان فراہم کیاجائے۔ پی ٹی وی ٹیکس کے نام پر عوام کی جیبوں سے اربوں روپے نچوڑنے کا نیامنصوبہ فی الفور واپس لیا جائے۔ حکمران طبقات اس بحران کو اپنے لئے مال بنانے کے موقع کے طورپر دیکھ رہے ہیں، سرمایہ داروں کو سبسڈیز دی جا رہی ہیں، سامراجی امداد کیلئے لاک ڈاؤن کے نام پر لوگوں کی تذلیل کی جا رہی ہے۔ جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے تمام طلباء و طالبات سے بھی اپیل کی کہ وہ اس وقت نہ صرف اپنے طبقہ کے لوگوں کو سماجی دوری اور وبائی مرض سے بچاؤ کیلئے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ترغیب دیں، بلکہ انکی زندگیوں کو بچانے کیلئے انکے کندھوں سے کندھا ملا کر اپنا کردار ادا کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ طلبہ پر اس وقت معاشرے کی سب سے باشعور پرت ہونے کی وجہ سے یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ ریاست کو اسکی ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبورکرنے کیلئے ایک تحریک منظم کریں۔
اس نظام کے اندراب وہ گنجائش موجود نہیں ہے، نہ ہی حکمران طبقہ میں یہ اہلیت موجود ہے کہ وہ ایک چھوٹے سے بحران کے خلاف کوئی سنجیدہ پالیسی ترتیب دے سکیں، وہ ہر بحران، ہر ترقی کے عہد میں صرف اپنی تجوریاں بھرنے کی پالیسیاں بناسکتے ہیں۔ ہمیں اس نظام کے خلاف ایک جدوجہد کو منظم کرنا ہوگا تاکہ بھوک، بیماریاں، لاعلاجی، نفرت، دہشت گردی اور استحصال کا موجب بننے والے اس نظام کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ آج دنیا بھر کے محنت کشوں اور نوجوانوں کی بقاء صرف اورصرف سائنسی سوشلزم کے نظریات میں ہی ہے کہ جن کے تحت اس دنیا میں موجود ترقی اور ٹیکنالوجی کو انسانیت کی فلاح کیلئے استعمال کرتے ہوئے اس کرہ ارض کو انسانیت کیلئے جنت کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔

