Site icon Daily Mujadala

کورونا وائرس: اضلاع کے درمیان متعصبانہ چپقلش کا آغاز، میرپور کا قرنطینہ مرکز بند

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیرکے مختلف اضلاع میں کورونا وائرس کے مریضوں کو قرنطینہ مراکز میں رکھے جانے کے حوالے سے متعصبانہ چپقلش کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ میرپور شہر کے پوش علاقہ میں قائم کئے گئے قرنطینہ مرکز کو عوامی احتجاج کے بعد بند کر دیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر میرپور طاہر ممتاز نے ایڈیشنل کمشنر میرپور اور چیف سیکرٹری کو ایک خط تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کے علاج معالجہ ار دیکھ بحال کے سلسلہ میں ابتدائی طور پر ڈویژن میرپور کیلئے میرپور میں قرنطینہ سنٹر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس پر مشتبہ مریض قیام پذیر ہیں۔ میرپور کے ایک عوامی نمائندہ وفد جس میں وکلاء انجمن تاجران، سیاسی و فلاحی تنظیموں اور سول سوسائٹی افراد شامل تھے، نے زیر دستخطی کے دفتر میں حاضر آکر یہ مطالبہ کیاکہ میرپور کے قرنطینہ سنٹر میں دیگر اضلاع کے لوگوں کو رکھا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے میرپور کے شہریوں میں شدید بے چینی اور خوف و ہراس اور اضطراب پایا جاتا ہے۔ اس لئے فی الفور ضلعی انتظامیہ ان کو اپنے اپنے متعلقہ اضلاع میں منتقل کرے اور تفتان سے آنے والے باقی اضلاع کے لوگوں کو میرپورمیں نہ رکھا جائے۔ لہٰذا صورتحال بالا کی روشنی میں مناسب ہوگا کہ اہلیان میرپور کے مطالبہ کے پیش نظر حکام بالا کو آگاہ کیا جائے تاکہ اس سلسلہ میں مزید کارروائی، احکامات آنے کی صورت میں معاملہ یکسو ہو سکے۔

میرپور سے تعلق رکھنے والے صحافی عتیق احمد سدوزئی کے مطابق صدر چیمبر آف کامرس میرپور چوہدری جاوید اقبال کی زیر قیادت عوام علاقہ نے کلیال چوک میرپور میں احتجاج کرتے ہوئے مرکزی شاہراہوں کو بلاک کر دیا، مظاہرین کا کہنا تھا کہ شہری آبادی میں کورونا وائرس سینٹر کسی صورت بنانے کی اجازت نہیں دینگے۔ حکومت آبادی سے دور سنٹر بنائے اور میرپور میں صرف میرپور کے مریض رکھے جائیں، باقی اضلاع کے مریضوں کو آبائی اضلاع یا ڈویژنل ہسپتالوں میں رکھا جائے، میرپور کے عام عوام کی صحت سب سے اہم ہے۔

عتیق احمد سدوزئی کی رپورٹ کے مطابق عوام علاقہ کے احتجاج کے بعد اسسٹنٹ کمشنر میرپور منیر احمد قریشی نے یقین دلایا کہ مدنی پلازہ میں کورونا کا کوئی مریض نہیں رکھا جائے گا۔ جبکہ عوام علاقہ کی موجودگی میں ہی مدنی پلازہ میں قائم قرنطینہ مرکز بند کردیا گیا۔

ابتدائی طور پر صحافیوں اور سول سوسائٹی نمائندگان نے تفتان سے واپس آنے والے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے شہریوں، جو مختلف اضلاع سے تعلق رکھتے تھے، کو میرپور کے قرنطینہ مرکز میں منتقل کئے جانے کی اطلاعات پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، جو بعد ازاں شہری آبادیوں میں بین الاضلاعی تعصب کو ہوا دینے کا موجب ثابت ہوئے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پبلک ٹرانسپورٹ کے داخلے پرپابندی سمیت دیگر حفاظتی اقدامات کا اعلان وزیراعظم فاروق حیدر کی جانب سے دو روز قبل کیا گیا تھا، تاہم تعلیمی اداروں میں تعطیلات اور سرکاری دفاتر میں سائلین کے داخلے میں رکاوٹوں کے علاوہ کوئی دیگر سنجیدہ اقدام تاحال اٹھایا نہیں جا سکا۔

وزیراعظم فاروق حیدر کی پریس ریلیز میں بیس مارچ سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں پبلک ٹرانسپورٹ کے داخلے پر پابندی کا اعلان کئے جانے کے بعد انتظامیہ کو اس اعلان پر عملدرآمد کرنے کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی ہدایات جاری نہیں کی گئیں، جس کی وجہ سے بیس مارچ کو بھی پبلک ٹرانسپورٹ پاکستان سے کشمیر میں معمول کے مطابق داخل ہوتی رہی۔ لیکن تاحال سرکاری سطح پر عوام کو پابندی نہ لگائے جانے سے متعلق آگاہی فراہم نہیں کی گئی۔

Exit mobile version