جموںکشمیر نیشنل عوامی پارٹی نے نئی سال کی آمد پر کنٹرول لائن کے تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ پر روشنیاںبجھا کر احتجاج ریکارڈ کروانے کا اعلان کر دیا ہے، اس احتجاج کا مقصد دنیا کو نئے سال کی آمد پر یہ پیغام دینا ہو گا کہ کشمیری نئے سال میںبھی غلامی کے اندھیروں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں.
جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے ضلعی صدر ذوالفقار عارف اور ضلعی جنرل سیکرٹری این ایس ایف صیام ارشاد نے اپنے ایک مشترکہ پریس ریلیز جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سال 2020 کی آمد پر اس بار ہم تیتری نوٹ کراسنگ پوائٹ پر رات 11:59 منٹ پر روشنیاں بجھا کر احتجاج کریں گے اور پوری دنیا کو یہ پیغام دیں گے کہ دنیا نئے سال پر جشن منا رہی ہے جبکہ ہم بدترین غلامی اور گھٹا ٹوپ اندھیرے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ہماری غلامی کا ایک اور سال ختم ہو رہا ہے اور ا یک نیا سال طلوع ہو رہا ہے جبکہ ہم مزید جبر اور ظلم کا شکار ہو رہے ہیں۔
11:59 منٹ پر مکمل اندھیرا کیا جائے گا اور پھر مشعلیں روشن کی جائیں گی اور نئے سال کا ”نیا عزم آزادی“ کے طور پر آغاز کیا جائے گا اور دو فوجوں کی گھن گرج اور دہشت گردی کے خلاف اور انخلاء کے لئے آواز بلند کی جائے گی۔ ریاست جموں کشمیر کے د و کروڑ عوام آزادانہ رائے سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں ہم کسی بھی صورت کنٹرول لائن کو مستقل سرحد نہیں بننے دیں گے۔
انہوں نے تمام محب وطن آزادی پسند اور وحدت کی بحالی چاہنے والی قوتوں اور عوام سے اس پروگرام میں شرکت کی اپیل کی ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد ایونٹ ہوگا اور پیغام ہوگا ان سامراجی قوتوں کو کہ ہم نہیں مانتے ظالم تیرے ضابطے۔

