Site icon Daily Mujadala

ہراسمنٹ کے الزام میں‌طالبعلم کو جامعہ پونچھ سے نکالے جانے کے خلاف احتجاج

جامعہ پونچھ راولاکوٹ کی ڈسپلن کمیٹی نے ہراسمنٹ اور زدوکوب کرنے کے الزامات میں‌طالبعلم کو یونیورسٹی سے خارج کر دیا ہے. جس کے خلاف طلباء و طالبات نے احتجاجا کلاسز کا بائیکاٹ کیا. جمعرات کے روزسے روزانہ کی بنیاد پر احتجاج جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے.

احتجاج کرنے والے طلبہ کا الزام ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ اور ڈسپلن کمیٹی نے من گھڑت کیس بنا کر طالبعلم کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے اور اسکا کیریئر تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے.

یونیورسٹی کی ڈسپلن کمیٹی کیجانب سے جاری نوٹیفکیشن نمبر 5255 محررہ چھبیس نومبر 2019ء کے مطابق فارمیسی ڈپارٹمنٹ کے طالبعلم عمران سعید کو یونیورسٹی رولز کی سنگین خلا ف ورزی، ہراسمنٹ، اسالٹ اور زدوکوب کئے جانے کی دفعات اور ذیلی دفعات کے تحت ایک سمسٹر کےلئے یونیورسٹی سے خارج کر دیا گیا ہے.

نوٹیفکیشن کے مطابق ڈسپلنری کمیٹی کا یہ اجلاس چودہ نومبر کو منعقد کیا گیا تھا.

مذکورہ طالبعلم کو ایک سمسٹر کےلئے یونیورسٹی سے خارج کئے جانے کو طلباء و طالبات نے غیر قانونی اقدام قرار دیا ہے، یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے انتقامی کارروائی قرار دیتے ہوئے طلبہ نے اس کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا ہے.

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ طالبعلم پرخاتون ٹیچر کے ساتھ مبینہ چھیڑ چھاڑ کا الزام فارمیسی ڈپارمنٹ کے ڈین نے خود عائد کیا ہے.

یونیورسٹی ذرائع کے مطابق مذکورہ ٹیچر کی جانب سے کوئی تحریری درخواست بھی ڈین یا ڈسپلنری کمیٹی کو نہیں دی گئی ہے، تاہم یونیورسٹی کے ایک ذمہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مذکورہ ٹیچر نے زبانی طور پر ڈین فارمیسی ڈپارمنٹ کے پاس شکایت کی ہے.

تاہم چیئرمین ڈسپلن کمیٹی اور ڈین فارمیسی ڈپارمنٹ سے موقف جاننے کےلئے رابطہ کرنیکی کوشش کی گئی لیکن ان سے بوجوہ رابطہ نہیں‌ہو سکا.

Exit mobile version