پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر کے وزیر اعظم کی ہدایت پرحکومت نے کم از کم 17500روپے ماہانہ اجرت مقرر کئے جانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیاہے۔
محکمہ صنعت و تجارت، لیبر و معدنی وسائل سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے کم ازکم مامانہ اجرت(The Azad Jammu & Kashmir Minimum Wages Act.)کی دفعہ 3کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے حسب سفارش ”منیمیم ویجز بورڈ“ حکومت پنجاب کی طرز پر آزاد کشمیر میں یکم جولائی 2019ء سے صنعتی و تجارتی اداروں میں غیر ہنر مند ورکرز کی کم ازکم ماہانہ اجرت مبلغ17500/-(سترہ ہزار پانچ صد) روپے (برائے 26ایام ) مقرر کئے جانے کی منظوری دی ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال جون میںپیش کئے جانے والے مالی سال 2019اور2020ء کے بجٹ میںکم از کم اجرت 17500 روپے برائے 26 ایام مقرر کئے جانے کا اعلان کیا گیا تھا جس پر پانچ ماہ کے بعدنوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے.
لیکن گزشتہ ادوار میں بھی مقرر کی جانے والی کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد نہیںکیا جا سکا. دیہاڑی دار مزدور کی دیہاڑی 5 سے 8 سو روپے فی آٹھ گھنٹے رائج ہے لیکن اکثریتی شعبوں میں مزدوروں کی ماہانہ تنخواہ آج بھی دس ہزار سے کم ہے.
کم تنخواہوں کے ذریعے استحصال کا شکار ہونے والے محنت کشوںمیںسرکاری محکمہ جات بالخصوص پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی) کے کنٹریکٹ ملازمین ہیں جو آج بھی نو سے دس ہزار روپے ماہانہ پر زندگی گزارنے پرمجبور ہیں.
پرائیویٹ سیکٹر میں نجی تعلیمی ادارے اساتذہ کا استحصال کرنے میںپیش پیش ہیں. خواتین اساتذہ کی ایک بڑی تعداد 5 سے آٹھ ہزار روپے ماہانہ پر اپنی محنت فروخت کرنے پر مجبور ہے. ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز اور دیگر نجی شعبہ میںمحنت فروخت کرنے والے مزدوروں کی حالت زار بھی ایسی ہی ہے. لیکن حکمران ہر سال کم از کم تنخواہ کا ایک نوٹیفکیشن جاری کر دیتے ہیں.
ادھر مہنگائی کے تناسب کو مد نظر رکھا جائے تو 17500 میں ماہانہ بجٹ میںصرف ایک یا دو افراد پر مشتمل خاندان کا راشن پورا کیاجا سکتا ہے. تعلیم، علاج سمیت دیگر سہولیات کا حصول ممکن نہیںہے، اور اگر رہائش بھی میسر نہ ہو تو یا پھر رہائش کا بندوبست کیا جا سکتا ہے یاپھر خوراک کا. ایوانوں میںبیٹھے حکمران طبقات معاشرے کی اکثریت کو درپیش مسائل کے ادراک سے عاری نظر آتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ جتنی رقم میں انکا ایک دن گزرنا مشکل ہے اس میں پورے خاندان کو مہینہ بھر گزارہ کرنے کا مشورہ دینا اور اس کم از کم اجرت پر بھی عملدرآمد کےلئے کوئی حکمت عملی نہ بنا پانا حکمرانوںکے عام عوام کی جانب رویے کا عکاس ہے.

