Site icon Daily Mujadala

پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں‌بھی تاجروں‌نے دو روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کر دیا

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر میں‌تاجروں کی مرکزی تنظیم مرکزی انجمن تاجران نے 2 روزہ شٹرڈاؤن کا اعلان کر دیاہے۔

تاجروں‌کا مطالبہ ہے کہ تاجروں کیلئے آسان طریقہ کار کو اپناتے ہوئے فیکسڈ سکیم کا اجراء کیا جائے اور اردو میں 1 صفحہ کا ریٹرن فارم بنایا جائے،آزاد کشمیر کے وہ علاقے جو انڈین فائرنگ کی زد میں آتے ہیں اُن پر ٹیکس ختم کیے جائیں۔جیولرز پر 1998 کے طریقہ کار کے مطابق پرانا قانون لاگو کیا جائے، انکم ٹیکس اور ایف بی آر کی ظالمانہ ٹیکس پالیسی 2019 کو ختم کیا جائے۔

پاکستان سمیت گلگت بلتستان و پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر میں آل پاکستان انجمن تاجران کی اپیل پر 2 دن مکمل شٹر ڈاؤن کرینگے۔

ان خیالات کا اظہار آل آزاد کشمیر کے مرکزی انجمن تاجران کے صدر سردار افتخار فیروز،جنرل سیکرٹری شوکت نواز میر نے تاجروں کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ریاست سمیت پاکستان بھر میں 2 روز 29 اور 30 اکتوبر کو مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال کرینگے۔آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ،جنرل سیکرٹری نعیم میر،چیئرمین خواجہ محمد شفیق کی اپیل پر تمام تاجروں سے مشاورت کے بعد متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ آزاد کشمیر بھر میں مکمل طور پر شٹرڈاؤن ہو گا۔یہ شٹرڈاؤن انکم ٹیکس اور ایف بی آر کی ظالمانہ ٹیکس پالیسی 2019 کے خلاف ہے۔آزاد کشمیر و پاکستان کی تاجر قیادت نے حکومت پاکستان کو 14 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ دے رکھا ہے چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے تاجروں کو سیلز ٹیکٹس رجسٹریشن سے مستثنیٰ کیا جائے۔تمام جیولرز کو سیلز ٹیکس میں لازمی رجسٹریشن کے قانون کو ختم کرتے ہوئے 1998 کے طریقہ کار کو بحال کیا جائے،تاجروں کو ودہولڈنگ ایجنٹ نہ بنایا جائے اور استعمال شدہ موبائل کی امپورٹ کی اجازت دی جائے اور خریدو فروخت کیلئے شناختی کارڈ کی شرط کو ختم کرتے ہوئے شادی حال پر 20 ہزار فی پروگرام ختم کیا جائے۔

انکا کہنا تھا کہ جب تک ہمارے مطالبات چارٹر آف ڈیمانڈ حل نہیں ہوتے ہم احتجاج کرتے رہیں گے۔پہلے مرحلہ میں 2 روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے،مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں تاجروں کی مشاورت سے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

Exit mobile version