پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں سرگرم مارکسزم کے نظریات کی حامل طلبہ تنظیم ”جموں کشمیر این ایس ایف” کے زیر اہتمام انقلاب کشمیر کانفرنس پیر کے روز مظفرآباد میں منعقد کی جائیگی. کانفرنس میں پاکستان اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والی طلبہ تنظیموں کے قائدین اور جے کے این ایس ایف کے مرکزی قائدین خطاب کرینگے.
این ایس ایف کے ترجمان کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق پیر کے روز دن گیارہ بجے مظفرآباد ڈگری کالج گراؤنڈ سے ”انتفادہ کشمیر کاررواں” کے نام سے احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا جائیگا. ریلی میں بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں جاری کرفیو، لاک ڈاؤن اور بھارتی فوجی جبر کے خلاف جموںکشمیر میںبسنے والے ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ انسانوں سے انکے آئینی اور سیاسی حقوق چھین کر انہیں تقسیم کرنے کے بھارتی حکومت کے عمل کے خلاف احتجاج کیاجائے گا.
پریس ریلیز کے مطابق احتجاجی ریلی میں پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر میںغربت، مہنگائی، بیروزگاری، جہالت، فرسودگی، غلامی، آئینی و سیاسی حقوق چھینے جانے ، دہشت گردی اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بھی احتجاج ریکارڈ کروایا جائے گا.
پریس ریلیز میںکہا گیا ہے کہ جموںکشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نے بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کو بھارتی آئین میںحاصل خصوصی اختیارات اور سٹیٹ سبجیکٹ قانون کے چھینے جانے کے بعد ”انتفادہ کشمیر تحریک” کا اعلان کر رکھا تھا، تحریک کے سلسلہ میں پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے مختلف اضلاع اور تحصیل ہیڈکوارٹرز میں طلبہ سیمینارز منعقد کئے گئے، تنظیم سازی اور رابطہ مہم کا انعقاد کیا گیا، جبکہ بیرون دنیا طلبہ اور محنت کشوں کے نمائندگان اور انقلابی تنظیموں سے روابط قائم کرتے ہوئے جموںکشمیر میںجاری بھارتی مظالم اور کنٹرول لائن پر ہونے والے کشمیریوں کے قتل عام کے خلاف عالمی سطح پر محنت کش طبقہ اور طالبعلموں پر مبنی مہم چلانے کےلئے اقدامات کئے گئے.
انتفادہ کشمیر تحریک کے پہلے مرحلے کے اختتام پر مظفرآباد میںکانفرنس منعقد کی جا رہی ہے جس میںپاکستان کی مختلف قومیتوںسے تعلق رکھنے والے طالبعلم رہنماؤن کے علاوہ پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر کی ترقی پسند تنظیموں کے قائدین اور جے کے ای ایس ایف کے مرکزی قائدین خطاب کرینگے. کانفرنس میں”آزادی مگر کیسے…؟” کے عنوان پر قائدین اپنے اپنے نقطہ نظر رکھیںگے.
پریس ریلیز میںکہا گیا ہے کہ جموںکشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن یہ سمجھتی ہے کہ جموں کشمیر کے باسیوںکی حقیقی آزادی کا راستہ پاکستان اور بھارت کے محنت کشوں کی آزادی کے ساتھ جڑا ہوا ہے. جموںکشمیر میں جاری ظلم و بربریت اور غلامی کی سیاہ رات کا سبب سرمایہ دارانہ نظام ہے، جسکی حاکمیت کو جاری رکھنے کےلئے نہ صرف اس خطے کے حکمران طبقات اور بالخصوص عالمی سامراجی اس خطے میں مسلسل عدم استحکام اور نفرت اور جنگ کی کیفیت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ برصغیر کی تقسیم کے دوران جموں کشمیر کا مسئلہ پیداکر کے ایک ایسے رستے زخم کی طرحچھوڑ دیا گیا ہے کہ جس کو وقتأ فوقتأ کرید کر داخلی تضادات اور مسائل سے توجہ ہٹانے اور دو طرفہ دشمنی کو ہوا دیکر قومی شاؤنزم کو ابھارتے ہوئے ڈیڑھ ارب انسانوںکے استحصال اور لوٹ مار کو جاری رکھنے کا سامان کیا جاتا ہے.
ایسی صورتحال میںجے کے این ایس ایف یہ سمجھتی ہے کہ جموںکشمیر کے محکوم و مظلوم عوام کی غلامی کے ذمہ دار جہاںبرصغیر پاک و ہند کے حکمران طبقات ہیں وہیں مقامی حکمران اشرافیہ نے بھی اس غلامی کو طوالت دینے میںسہولت کاری کا کردار ادا کیا ہے. یہی وجہ ہے کہ جموںکشمیر کی آزادی کی تحریک کو قومی بنیادوں پر نہیں بلکہ طبقاتی بنیادوںپر برصغیر کے محنت کشوں کی جدوجہد کے ساتھ جوڑتے ہوئے اس خطے سے سرمائے کی حاکمیت کے خاتمے اور ہر طرحکی تقسیم کے خاتمے کےلئے آگے بڑھنا ہوگا.
جے کے این ایس ایف یہ سمجھتی ہے کہ جموں کشمیر، لداخ اور گلگت بلتستان میںمختلف قومیتوں، نسلوں، مذاہب اور ثقافتوں کے حامل لوگ رہتے ہیں، جنہیںجبر کے ذریعے ایک شخصی ریاست میںجوڑا گیا تھا اور بعد ازاں برصغیر کی تقسیم نے انکی غلامی کی تاریک راتوںمیںمزید طوالت پیدا کر دی ہے. یہی وجہ ہے کہ جموںکشمیر کی آزادی کی تحریک کو منقسم خطے کے تمام محکوم، مظلوم محنت کشوںاور نوجوانوںتک پھیلانے کےلئے طبقاتی بنیادوں پر جڑت کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے، تمام قومیتوں کے حق خودارادیت بشمول حق علیحدگی کو تسلیم کرتے ہوئے اس خطے سے سامراجی قبضے کے خاتمے کی جدوجہد کو منظم کرتے ہوئے برصغیر بھر کے محنت کشوں اور نوجوانوںسے حمایت مانگنی ہوگی.
پریس ریلیزمیں مزید کہا گیا کہ جے کے این ایس ایف فوری طور پربھارتی زیر انتظام جموںکشمیر سے کرفیو ، لاک ڈاؤن اور پابندیاںہٹا کر لوگوںکو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دینےکا مطالبہ کردی ہے، جموںکشمیر کے تمام منقسم حصوں کے باسیوںکو آزادانہ آئین سازی اور حکومت سازی کے اختیارات دیئے جانے کا مطالبہ کرتی ہے. کنٹرول لائن پر فائرنگ کے ذریعے کشمیریوںکا قتل عام فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کردی ہے. طلبہ اور محنت کشوںکو یونین سازی کا حق دینے کا مطالبہ کردی ہے. تمام شہریوںکو روزگار ، علاج اور دیگر بنیادی سہولیات کی مفت فراہمی کا مطالبہ کرتی ہے. خواتین کو ہر سطحپر برابری کی بنیاد پر معاشرے میںآگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے.

