Site icon Daily Mujadala

پاکستانی کشمیر:مذہبی سکالر کو بدبخت قرار دیکر مبینہ گستاخی کیخلاف مذمتی قراردادمنظور

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے اراکین نے بدھ کے روز ایک مذمتی قرارداد منظور کی ہے، سرکاری پریس ریلیز کے مطابق قرارداد پیش کرتے ہوئے ممبر اسمبلی پیر سید علی رضا بخاری نے ایک مذہبی سکالر کو بدبخت قرار دیکر انکی جانب سے مبینہ طور پر حضرت فاطمۃ الزہرہ کی شان میں‌گستاخانہ بیان کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کی جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے.

یوں پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے اسمبلی ممبران کی طرف سے متفقہ قرارداد میں ایک مذہبی سکالر کو بغیر کسی عدالتی ٹرائل اورانکا موقف جانے بغیر بدبخت اور گستاخ قراردیا اور متفقہ طور پر ہی انکے گستاخانہ اقدام کی مذمت بھی کر دی ہے.

محکمہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں‌لکھا گیا ہے کہ قانون ساز اسمبلی نے بدھ کے روز ممبر اسمبلی پیر سید علی رضا بخاری کی طرف ایک بدبخت شخص کی طرف سے بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، خاتون جنت حضرت فاطمۃ الزہرہ کی شان میں گستاخانہ بیان کے خلاف قرار داد مذمت متفقہ طور پر منظور کر لی۔

ڈپٹی سپیکر سردار عامر الطاف کی زیر صدار ت اسمبلی کے اجلاس میں پیش کی گئی قراردادپر بحث میں حصہ لیتے ہوئے ممبر ان اسمبلی نے ممبر اسمبلی پیر سید علی رضابخاری کو اہم مذہبی و روحانی مسئلے پر قرارداد لانے پر خراج تحسین پیش کیا۔ قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر قانون و پارلیمانی امور سردار فاروق احمد طاہرنے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت اور یہ اسمبلی اس قرارداد کی مکمل حمایت و تائید کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاتون جنت پوری امت کے لیے انتہائی قابل احترام و مقدس ہستی ہیں جن سے تمام اہل ایمان دل و جان سے عقیدت و محبت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قراردادمیں جن قوانین پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے حکومت ان قوانین پر مکمل عملدرآمد یقینی بناتی ہے۔ اس طرح کا واقعہ اگر ہماری ریاستی حدود کے اندر ہوا ہوتا تو ہمارے ادارے ضروری کارروائی کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت اور اس ایوان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس ایوان نے عقیدہ ختم النبوت پرایمان نہ رکھنے والوں کو غیر مسلم قرار دیا ہے۔

سردار فاروق احمد طاہر نے کہا کہ برگذیدہ ہستیوں کی عزت و تکریم کے حوالے سے پنجاب اسمبلی میں ایک مسودہ قانون پر یہ کارروائی ہو رہی ہے جس کا مسودہ ہم بھی منگوارہے ہیں اور اس کی روشنی میں جائزہ لے کر اپنے قوانین کو مزید موثر بنانے کے لیے ترمیم لائی جائے گی۔

وزیر خوراک شوکت علی شاہ نے کہا کہ اس اہم قرارداد کو ایوان میں پیش کرنے پر ہم سب معزز ممبر اسمبلی پیر سید علی رضا گیلانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ جس نے یہ گستاخی کی وہ سکالر نہیں بلکہ فتنہ ہے اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے میں اس قرار داد کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔

وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ڈاکٹر مصطفی بشیر نے کہا کہ میں اپنی اور حکومت کی جانب سے اس قرارداد کی تائید کرتا ہوں۔ ممبر اسمبلی پیر سید علی رضا بخاری کا شکریہ کہ انہوں نے اس اہم معاملہ پر ایوان کی توجہ دلائی۔

وزیرورکس چوہدری محمد عزیز نے بھی اس قرار داد کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے شخص کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے جو برگذیدہ ہستیوں کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو۔ اس قراردادا کو ایوان متفقہ طور پرمنظور کرے۔

بعدا زاں ایوان نے قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔ قرارداد کا متن ”یہ معزز ایوا ن بارگاہ اُمُّ السّادات، مخدوم کائنات، دُخترِ مصطفٰے، بانوئے مرتضیٰ، ام الحسنین کریمین، سیِّدَہ، طیِّبہ، طاہِرہ،، راضِیہ، مرضیہ، عابِدہ، زاہِدہ، محدِّثہ، معظمہ مُبارَکہ، ذکِیَّہ، سیِّدَۃُ النِّسَاء، خیرُالنِّسَاء، سیدہ فاطمہ البتول الزہرہ رضی اللہ تعالی عنہا وسلام اللہ علیہا کی بارگاہ عالی مرتبت میں کروڑ ہا بار ھدیہ سلام عقیدت پیش کرتا ہے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک فرشتہ جو اس رات سے پہلے کبھی زمین پر نہ اترا تھا اس نے اپنے پروردگار سے اجازت مانگی کہ مجھے سلام کرنے حاضر ہو اور یہ خوشخبری دے کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا اہلِ جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہے اور حسن رضی اللہ عنہ و حسین رضی اللہ عنہ جنت کے تمام جوانوں کے سردار ہیں۔حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ میری جان کا حصہ ہے پس جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بے شک فاطمہ سلام اللہ علیہا میری جان کا حصہ ہے۔ اسے تکلیف دینے والی چیز مجھے تکلیف دیتی ہے اور اسے مشقت میں ڈالنے والا مجھے مشقت میں ڈالتا ہے۔حضرت ابو حنظلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بے شک فاطمہ سلام اللہ علیہا میری جان کا حصہ ہے۔ جس نے اسے ستایا اس نے مجھے ستایا۔حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنے اہل و عیال میں سے سب کے بعد جس سے گفتگو فرما کر سفر پر روانہ ہوتے وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہوتیں اور سفر سے واپسی پر سب سے پہلے جس کے پاس تشریف لاتے وہ بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہوتیں۔ایک اور مشہور حدیث (جو حدیث کساء کے نام سے معروف ہے) کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک یمنی چادر کے نیچے حضرت فاطمہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ و حسن رضی اللہ عنہ و حسین رضی اللہ عنہ کو اکٹھا کیا اور فرمایاإِنَّمَا یُرِیدُ اللَّہُ لِیُذْہِبَ عَنکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا(الاحزاب 33)ترجمہ: بے شک اللہ چاہتا ہے کہ اے میرے اہل بیت تجھ سے رجس کو دور کرے اور ایسے پاک کرے جیسا پاک کرنے کا حق ہے۔

یہ معزز ایوان ایک مذہبی سکالر کی طرف سوشل میڈیا پر سیدہ کائنات رضی اللہ تعالی عنہا کے متعلق نامناسب انداز بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور اس کو پوری امت کی دل آزاری تصورکرتا ہے۔صحابہ کرام، اھل بیت اطہار، ازواج مطہرات رضوان اللہ علیھم و علیھن اور برگزیدہ ہستیوں کی بارگاہ میں اشارہ، کنایتہ، تحریرا، تقریرا کسی بھی انداز میں بے ادبی و گستاخی قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے اوراسے اسلامی تعلیمات کے منافی، قومی بیانیہ پیغام پاکستان کے متفقہ اعلامیہ و فتوی کی خلاف ورزی کا سنگین جرم قرار دیتے ہوئے اس امر کا مطالبہ کرتا ہے کہ حکومتی سطح پر اقدامات اٹھائے جانا ناگزیر ہیں اس کے لئے موجودہ قوانین پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ ان قوانین میں ترامیم لا کر انہیں مزید سخت و موثر کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ تاکہ توہین و اہانت کا دروازہ مکمل طور پر بند ہوسکے“۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد آصف اشرف جلالی نامی مذہبی سکالر کے مبینہ بیان کو سامنے رکھتے ہوئے منظور کی گئی ہے. مذکورہ سکالر کا ایک ویڈیو بیان گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر وائرل ہے. جس میں‌وہ پیغمبر اسلام کی آل سے متعلق بیان کرتے دیکھے جا سکتے ہیں. تاہم انہوں‌نے کس نوع کی گستاخی کی، اس سے متعلق قرارداد میں ذکر نہیں‌کیا گیا، مذکورہ سکالر کی جانب سے بھی تاحال کوئی رد عمل ظاہر نہیں‌کیا گیا ہے.

Exit mobile version