Site icon Daily Mujadala

بھارتی کشمیر: دو الگ الگ آپریشنز میں‌4 مبینہ عسکریت پسند مارے گئے

Kupwara: Security personnel take position during a cordon and search operation after an encounter between holed up terrorists and the security forces in the Chanjimulla village of Handwara tehsil in Jammu and Kashmir's Kupwara district on May 3, 2020. Seven including two senior Army officers, two junior ranks, an officer of the local police and two terrorists were killed in the fierce gunbattle on Sunday. Two terrorists have also been killed in this encounter whose exact identity is being established. Although firing has stopped at the encounter site, but searches are going on there. (Photo: IANS)

بھارتی زیر انتظام جموں‌کشمیر میں آپریشنز کے جاری سلسلے میں سکیورٹی فورسز نے دو مختلف واقعات میں 4نوجوان مارے گئے ہیں۔بھارتی زیر انتظام جموں وکشمیر کے ضلع کولگام کے نپورہ علاقہ میں ایک آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز اور مبینہ عسکریت پسندوں کے مابین جھڑپ میں دو عسکریت پسند مارے گئے۔

خبر رساں‌ادارے ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پولیس نے بتایا کہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کاروائی کی جا رہی ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ ضلع کولگام کے دیوسر گنورہ علاقہ کو سکیورٹی فورسز ,جموں و کشمیر پولیس کی مشترکہ ٹیم ، فوج کے 19 راشٹریہ رائفلز اور سنٹرل ریزرو پولیس نے جمعہ کی رات اس وقت محاصرہ میں لے لیا جب انہیں وہاں پرمبینہ عسکریت پسندوں کے موجود ہونے کی مصدقہ اطلاع ملی۔ سکیورٹی فورسز نے علاقہ میں تلاشی شروع کی جس کے بعد دونوں جانب سے گولیوں کا تبادلہ شروع ہو گیا۔

دوسری جانب ، اننت ناگ کے للہن علاقے میں ہفتے کو مشترکہ آپریشن بھی شروع کیا گیا جس میں 2 نوجوان مارے گئے۔

رواں ہفتے جنوبی کشمیر میں یہ چوتھا مقابلہ ہے۔ اس سے قبل ضلع شوپیان میں تین الگ الگ مقابلوں میں حزب الجاہدین کے ایک اعلی کمانڈر سمیت 14 عسکریت پسند مارے گئے تھے۔

ساوتھ ایشین وائر کے مطابق بھارتی زیر انتظام کشمیر میں مختلف علاقوں میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران یکم جون سے 27نوجوان مارے جا چکے ہیں۔جبکہ ایک درجن سے زائد مکانات تباہ کر دئے گئے۔

ضلع کولگام میں 2000سے اب تک45مختلف واقعات میں 76افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔جبکہ129واقعات میں 152عسکریت پسنداور 73 شہری مارے گئے ۔ضلع میں اسی عرصے میں 38سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی مارے گئے۔

بھارتی زیرانتظام جموں وکشمیر میں رواں سال 2020میں123کشمیریوں کو ہلاک کر دیا گیا۔جن میں جنوری میں 22،فروری میں 12، مارچ میں 13، اپریل میں 33 اور مئی میں 16کشمیریوں کو ہلاک کیا گیا۔جبکہ 29سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔پولیس کے مطابق رواں سال اسلحہ برآمدگی کے60واقعات ریکارڈ کئے گئے۔

امسال دھماکوں کے 16واقعات میں21شہریوں اور ایک سیکورٹی اہلکار کی اموات ہوئیں جبکہ14سیکورٹی اہلکارزخمی ہوئے۔سال 2020میں 62مختلف واقعات میں 127افراد کو گرفتار کیا گیا۔

گزشتہ ایک ماہ میں حزب المجاہدین کے 4 کمانڈر مارے گئے ہیں جن میں ریاض نائکو ، ڈاکٹر سیف اللہ ، جنید احمد صحرائی اور فاروق احمد بھٹنالی شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق رواں برس تاحال 37 واقعات میں 91 عسکریت پسند مارے گئے ہیں جن میں حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر ریاض نائیکو سمیت دیگر پانچ کمانڈر شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں 250 کے قریب عسکریت پسندوں کے حمایتی بھی حراست میں لئے ہیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ معرکہ آرائیوں میں تیزی کا باعث عسکریت پسندوں کے معاونوں کی گرفتاری ہے جبکہ انٹرنیٹ ڈیٹا اور فوبائل فون کے استعمال پر کڑی نگرانی بھی ان کاروائیوں میں کافی اہم رول ادا کرتے ہیں۔

گزشتہ چھ مہینوں میں سیکیورٹی فورسز نے بڑی کاروائیاں انجام دی ہے تاہم لوگوں کی جانب سے تصادم آرائیوں کے بعد ہونے والے احتجاج اور پھترا کے واقعات میں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔سیکیورٹی فورسز نے کووڈ 19 لاک ڈان کی آڑ میں تصادم کے مقامات پر پتھراوکے واقعات اور احتجاج کو روکنے کے لئے ایک نیا منصوبہ سامنے لایا جس کے تحت کسی بھی مقامی ہلاک شدہ عسکریت پسند کی لاش کو لواحقین کے سپرد کرنے کے بجائے ان کو بارہمولہ یا گاندبل کی دور دراز پہاڑیوں میں دفنایا جاتا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں کے پاس اسلحہ کی دیکھی جا رہی ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ سیکیورٹی فوسز کی نگرانی کڑی ہوئی ہے۔

Exit mobile version