پاکستان کے زیر انتظام جموںکشمیر میںسوشل میڈیا ریگولیشن اور غیر رجسٹرڈ صحافیوں کا راستہ روکنے کےلئے حکمت عملی مرتب کئے جانے سے متعلق ڈائریکٹر جنرل اطلاعات کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیزپر صحافتی حلقوںاورسوشل میڈیا صارفین نے شدید تفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس نہ صرف آزادی اظہار رائے پر ایک قدغن کے طور تعبیر کیا ہے بلکہ سائبر کرائم اور سوشل میڈیا ریگولیشن کی آڑ میںآزادانہ اٹھنے والی آوازوں اور حقائق سے پردہ اٹھانے والے ریاست کےلئے ناپسندیدہ سمجھے جانے والے عناصر کے خلاف کارروائی کے لائسنس سے تعبیر کیا ہے.
رواںماہ کی دو تاریخ کو محکمہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز میںبتایا گیا تھا کہ سوشل میڈیا ریگولیشن کے حوالہ سے منعقدہ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل اطلاعات راجہ اظہر اقبال ، کمشنر مظفرآباد ڈویژن محترمہ تہذیب النساءاور ڈپٹی کمشنر بدرمنیر نے شرکت کی ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کے تدارک کرنے کے حوالہ سے پالیسی مرتب کی جائے گی اور اس سلسلہ میں سائبر کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ کروناوائرس کی وباکے دوران صحافیوں نے ذمہ دارانہ صحافت کی اب حفاظتی تدابیر کو مد نظر رکھتے انہیں اپنی غیر ضروری نقل و حرکت کو محدودرکھنا ہوگا تاکہ انکی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صحافیوں کو کارڈز جاری کیے جائیں گے تاکہ کوئی بھی غیر متعلقہ شخص صحافت کی آڑ میں اپنے مذموم مقاصد کو عملی جامہ پہنانے سے باز رہے ۔
پریس ریلیز کے مطابق اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل اطلاعات راجہ اظہر اقبال نے کہاکہ آزادکشمیر کے صحافیوں نے ہمیشہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے اور قومی مفاد کو مقدم رکھ کر اپنے فرائض سرانجام دیے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کچھ لوگ سوشل میڈیا پر صحافت کے نام پر جھوٹی اور گمراہ کن خبریں پھیلا کر عوام میں سنسنی پیدا کرنے چاہتے ہیں، ضروری ہے اس کےلئے ضابطہ اخلاق بنایا جائے اور ایسے عناصر کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے ۔
کمشنر مظفرآباد محترمہ تہذیب النساءنے کہاکہ محکمہ اطلاعات ایسے شرپسند عناصر کی نشاندہی کرے ،ان کے خلاف کارروائی کرینگے ۔ کسی کو صحافت کی آڑ میں اپنے مذموم مقاصد پورے کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ پروفیشنل صحافیوں کو خصوصی کارڈز جاری کیے جائیں گے تاکہ ایسے عناصر جو صحافت کی آڑ میں اپنا کاروبار چلاناچاہتے ہیں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے ۔
مذکورہ پریس ریلیز پرسوشل میڈیا پرمختلف نوعیت کے تبصرے سامنے آئے ہیں، سوشل میڈیا صارفین نے جہاںاسے سول مارشل لاءکے نفاذ، آزادی اظہار رائے پر قدغن، سرکاری صحافت کو استوار کر کے آزاد صحافتی ذرائع کا راستہ روکنے کا حربہ اور غیر جمہوری فیصلہ قرار دیا ہے، وہاںصحافیوں کی ایک بڑی تعداد نے طریقہ کار سے متعلق اعتماد میںلینے کا مطالبہ کرنے کے علاوہ کچھ صحافیوںنے اسے اپنے حق میںلینے کی کوشش کرتے ہوئے اس فیصلہ کی خوبیاںبیان کرتے ہوئے اس کی ترویج و اشاعت کا اہتمام کیا ہے.
پاکستان کے زیر انتظام جموںکشمیر کا علاقہ 1947 سے قبل شخصی ریاست جموںکشمیر کا ایک حصہ ہونے کیوجہ سے عالمی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے. جس کے باسیوںنے آزادنہ رائے شماری کے ذریعے اپنے سیاسی اور جغرافیائی مستقبل کا فیصلہ ابھی کرنا ہے. پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 257 کے مطابق بھی جب جموںکشمیر کے عوام نے پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کیا تو عوامی خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے جموںکشمیر کے پاکستان کے ساتھ تعلق استوار کیا جائے گا. لیکن عالمی اور ملکی قوانین کے برعکس اس خطہ میںپاکستان کے ساتھ الحاق کا حلف لئے بغیر کوئی بھی سرکاری نوکری، کاروبار یا میڈیا ادارہ شروع نہیںکیا جا سکتا. اس سب کے علاوہ اس خطہ میںانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، حکومتی نااہلیوں، ریاستی جبر، شخصی آزادیوں پر حملوںسمیت ریاستی اداروں سے متعلق کسی قسم کی بھی خبر جاری کرنے پر پابندیاںعائد ہیں.
جو خبریںریاست چھپانہ چاہتی ہے انہیںقارئین تک پہنچانے والے صحافیوںکو پریس کلب کی ممبر شپ، پریس فاؤنڈیشن کی ممبرشپ سمیت دیگر مراعات سے عمومی طور پر محروم رکھا جاتا ہے. بہت سے فری لانس صحافی مختلف بین الاقوامی میڈیا اداروں کےلئے تحقیقاتی رپورٹس، فیچرز، مضامین وغیرہ لکھنے کا کام کرتے ہیں، وہ بھی ریاست کے پسندیدہ کسی طور نہیںٹھہرتے. ایسے صحافیوںکی بھی سوشل میڈیا کے ذریعے عوام الناس تک حقائق پہنچانے کی کوشش کا راستہ مذکورہ بالا ریاستی فیصلے سے روکنا ممکن ہو سکے گا.
اس کے علاوہ پریس کلبوںمیںممبرشپ کےلئے کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال صحافت کے پیشہ کے ساتھ منسلک رہنے کا تجربہ درکار ہوتا ہے. مذکورہ بالا فیصلہ کے بعد مطلوبہ تجربہ مکمل ہونے تک صحافیوںکوہر طرحکی سرکاری سرگرمیوںکی رپورٹنگ سے محروم رکھا جائے گا.
سیاسی و سماجی کارکنان بھی مختلف نوع کی ایسی خبریں سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے لوگوںتک پہنچا رہے ہوتے ہیں جنہیں روایتی میڈیا سے سینسر کر دیا جاتا ہے، یا میڈیا اداروںکی سیلف سنسرشپ کا شکار ہو جاتی ہیں. لہٰذا شہری صحافت کا یہ سلسلہ بھی اب بند کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے.
مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی عارف عرفی اس فیصلہ کے متعلق لکھتے ہیںکہ جعلی آئی ڈیز کی دلیلوں کا مسئلہ متعلقہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ کو شکایت کر کے حل کیا جا سکتا ہے، جس طرح بھارت آئے روز ہمارے اکاونٹس بند کروا دیتا ہے آپ بھی کریں ۔رہی بات کہ کون صحافی ہے کون نہین اس کا فیصلہ وہ مواد کرتا ہے جو اس صحافی نے پیش کیا ہے،کوئی فلاحی ادارہ یہ فیصلہ نہیںکر سکتا.
انہوںنے کہا کہ آپ یو ٹیوب چینلز کو بند کرنے کی کوشش کریں یا لائسنس کی قانون سازی کریں تو کیایوٹیوب ا سکو ہضم کر لے گا ۔۔۔؟
آزاد کشمیر (پاکستانی زیر انتظام کشمیر) والے بتائیں پاکستان کے ساتھ معاہدے کی رو سے لیمونیکشن پر ان کا کتنا کنٹرول ہے ۔۔۔؟
اور سائبر کرائم تومحکمہ اطلاعات کا مینڈیٹ ہی نہیں۔ وہ اس پر اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنا وقت زیادہ بہتر جگہ پر خرچ کرے تو مناسب ہوگا۔
آزاد کشمیر(پاکستانی زیر انتظام کشمیر) کے کسی ادارے کے پاس تو سائبر کرائم پکڑنے کے لئے ٹیکنالوجی ہے اور نہ اختیارہے. مناسب ہوگا پہلے ٹیکنالوجی اور اختیار کے لئے پاکستان سے بات کی جائے. آزاد کشمیر والے تو گم شدہ موبائل فون ٹریک کرنے کا بھی سامان نہیں رکھتے، فون ریکارڈ اور جرائم سے متعلق فون ڈیٹا وغیرہ تک بھی انکی رسائی نہیں.
بھلا ہو ہماری پریمئر ایجنسی کا وہ مدد نہ کریں تو یہ کسی کا فون بھی چیک نہیں کر سکتے۔ مسئلہ سائبر کرائم کا نہیں ہے ۔ یہ سارا غوغا دراصل سوشل میڈیا ایکٹوسٹوں اور سٹیزن جرنلزم کے خلاف ہے جو پرانے مہان صحافی کروا نے کی چکر میں ہیں. حکومت کو ٹرک کی بتی دکھا کر اپنی اجارہ داری کو بچانے کی واردات ہے۔
انکا کہنا تھا کہ سٹیزن جرنلزم پوری دنیا میں مقبول ترین ذریعہ اطلاعات ہے، میں بار بار عرض کر چکا ہوں سائبر کرائم اور سٹیزن جرنلزم کو گڈ مڈ نہ کریں، سائبر کرائم کا شعبہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ڈیل کر نے دیں. آپ صحافیوں کو بٹھا کر سائبر کرائم کی گردان پڑھیں گے تو بلکل لگے گا کہ آپ کیا ارادے رکھتے ہیں۔
ویسے جب بیرون ملک سے کوئی بھی شخص کوئی بلاگ کر یگا اس کا حل کر سکتے ہیں ہم ؟
دوسری جانب کچھ صحافیوں نے محکمہ اطلاعات کے مذکورہ فیصلہ کے حق میںمہم بھی شروع کر رکھی ہے. وہ اس آڑ میںایسی تمام نیوز ویب سائٹس اور یو ٹیوب چینلز کو ختم کروانا چاہتے ہیں جو رجسٹر نہیںہوئے ہیں.
لیکن ساتھ ہی اگر محکمہ تعلقات عامہ کے ریکارڈ پرنظر دوڑائی جائے تو میڈیا اداروںکے ڈیکلریشن کا مضمون کشمیر کونسل سے محکمہ کو منتقل تو ہو گیا ہے لیکن تاحال ایک بھی ڈیکلریشن جاری نہیںکیا جا سکا. کئی کئی سال سے اخبارات اور میڈیا اداروںکے ڈیکلریشن کی درخواستیں جمع ہیںلیکن سکیورٹی ایجنسیوںکی کلیئرنس نہ ہونے کے باعث وہ درخواستیں محکمہ کی فائلوںمیںگرد آلود ہو رہی ہیں. لیکن کچھ عناصر کو نوازنے کےلئے ویب سائٹ کی رجسٹریشن کی قانون سازی بھی عمل میںلائی گئی ہے، مذکورہ قانون سازی کو تاحال خفیہ رکھا جا رہا ہے، تاہم صرف ایک ادارے کو جعلی طریقے سے رجسٹر کر کے پراجیکٹس اور اشتہارات دینے کے پیچھے افسران کے بھاری کمیشن پوشیدہ ہیں. اب اسی قانون کو بنیاد بنا کر نیوز ویب سائٹس اور یوٹیوب چینلز کو بند کرنے کی ایک مہم شروع کی جا رہی ہے.
محکمہ تعلقات عامہ کے پاس میڈیا کے فروغ کےلئے ایک بڑا بجٹ بھی موجود ہوتا ہے جسے افسران کی جیبوںتک پہنچانے کےلئے درجنوںجعلی ہفت روزہ اور روزنامہ اخبارات کے نام سرکاری فائلوں میںموجود ہیںجو کبھی پرنٹ نہیںہوتے لیکن اشتہارات والے دن انکی اشاعت کو ممکن بنا کر فائلوںکی زینت بنایا جاتا ہے. ذرائع کے مطابق صرف گزشتہ سہ ماہی میںاٹھارہ لاکھ روپے سے زائد کے اشتہارات ہفتہ روزہ اخبارات کو جاری کئے گئے جبکہ پورے دس اضلاع میںمحض دو ہفتہ روزہ اخبارات ڈمی کی شکل میںچھپ کر کچھ دفاتر میںبھیجے جاتے ہیں. اسی طرح سے ویڈیو پراجیکٹس، الیکٹرانک اشتہارات اور ویب سائٹس کےلئے دیئے گئے اشتہارات کے نام پر بھی لاکھوںروپے کا بجٹ بندر بانٹ کی نذر ہو جاتا ہے.
محکمہ تعلقات عامہ کے افسران اور چند کرپٹ صحافیوں کے گٹھ جوڑ کو توڑے بغیر میڈیا کی ترویج اور ترقی کےلئے مختص کئے گئے بجٹ کا درست استعمال کسی طور ممکن نہ ہے.

