پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر کی قوم پرست ترقی پسند جماعت جموںکشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے چیئرمین اور قوم پرست تنظیموںکے اتحاد پیپلز نیشنل الائنس کی کوآرڈینیشن کمیٹی کے چیئرمین ذوالفقار احمد راجہ کو مبینہ طور پر دھمکی آمیز فون کالز موصول ہوئی ہیں. ذوالفقار احمد راجہ کہ بقول انہیں اغواء کر کے افغانستان لے جانے اورقتل کرنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں.
ذوالفقار احمد راجہ نے مجادلہ سے گفتگو کے دوران کہا ہے کہ انہیں گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران مختلف اوقات میں کل 6 مرتبہ 00010000اور 00080000 نمبرات سے دھمکی آمیز فون کالز موصول ہوئی ہیں. فون کرنے والے اشخاص اپنے نام غلام عباس اور رفیق بتاتے ہیں.
ذوالفقار احمد کا کہنا تھا کہ کال کرنے والے افراد معنی خیز انداز میں کہتے ہیں کہ آپ باز آجائیں، اپنی روش بدلیں. انکا کہنا تھا کہ وہ (کالز کرنے والے) جس طرح سے بات کر رہے تھے، اس سے ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ وہ ان کریمنل کیسز سے متعلق مجھے احتیاط کرنے کی صلاح دے رہے تھے جن کی میںپیروی کر رہا ہوں.
انکا مزید کہنا تھا کہ یہ تو ایک بہانہ یا جوازیت تھی کیونکہ وکیل نے تو ایک حد تک اپنے موکل کے موقف کا ہی تحفظ کرنا ہوتا ہے، بہرحال میں نے انکے ساتھ گفتگو سے ہی اخذ کر لیا تھا کہ یہ معاملہ کسی انفرادی ایشو کا نہیں ہے اور پھر جو نمبر میرے فون کی سکرین پر آ رہے ہیں اس نوعیت کی واردات کوئی بااثر و بااختیار ریاستی ادارہ ہی کر سکتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ خلائی مخلوق (خفیہ ادارے) مجھ پر تین بار ماضی میں قاتلانہ حملے کروا چکی ہے یوں میں انکے تمام طریقہ واردات کو بخوبی سمجھتا و جانتا ہوں۔
انہوںنے کہا کہ وہ ایک وکیل کو اغواء کر کے افغانستان لیکر جانے کی بات کر رہے ہیں، یعنی اتنے طاقتور اور بااثر ہیں، بلکہ انہوںنے یہاں تک کہا کہ افغانستان سے اکثر لوگوںکی لاشیں ہیں آئی ہیں، صرف وہی زندہ آئے ہیںجنہوںنے ہماری بات مانی.
تاہم جب ذوالفقاراحمد سے اس بابت پولیس سے رجوع کرنے سے متعلق سوال کیا گیا تو انکا کہنا تھا کہ پولیس اور انتظامیہ کو درخواست دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، وہ اس معاملے میںکچھ نہیں کر سکتے. لیکن پھر بھی میں آنے والے کل(یعنی ہفتہ کے روز) باضابطہ درخواست بھی دوں گا.
دوسری جانب انتظامیہ سے جب اس بابت معلوم کیا گیا تو ایک انتظامی آفیسر کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر(پاکستان کے زیرانتظام جموںکشمیر) میں کسی سیاسی شخصیت کو کبھی کسی سے خطرہ نہیں رہا ہے. اس کے باوجود اگر اس طرح کا کوئی معاملہ ہے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رجوع کیا جائے، ہر شہری کی جان و مال کا تحفظ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، میرپور پولیس اور انتظامیہ اپنی ذمہ داری پوری کرے گی.
ایک پولیس آفیسر نے رابطہ کرنے پر کہا ہے کہ اس معاملے کی ہمارے پاس کوئی شکایت نہیں آئی ہے. انکا کہنا تھا کہ خفیہ اداروںکی طرف سے دھمکیاںدینے کی کوئی شکایت آزادکشمیر (پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر) میں کبھی درج نہیںہوئی ہے. اور جس طرحکےنمبرات کو خفیہ اداروںسے جوڑا جا رہا ہے ایسے نمبرات خفیہ اداروںکے استعمال میںنہیںہوتے، بلکہ وہاںصرف کالر آئی ڈی ہائیڈ کی جاتی ہے جس کی وجہ سے موبائل فون کی سکرین پر پرائیویٹ نمبر لکھا آتا ہے. تاہم انکا کہنا تھا کہ اگر اس معاملے میںہمارے پاس شکایت درج ہوتی ہے تو معاملہ کی شفاف تحقیقات کی جائیں گی.
ذوالفقار احمد راجہ پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر کے ضلع میرپور کے رہائشی ہیں، پیشہ سے وکیل ہیں اور میرپور میں ہی پریکٹس کر رہے ہیں. زمانہ طالبعلمی سے ہی سیاست میںمتحرک رہے. وہ اس خطے کی پہلی بائیںبازو کی طلبہ تنظیم جموںکشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی صدر رہے. موجودہ وقت بائیںبازو کی ہی قوم پرست جماعت پیپلز نیشنل پارٹی کے چیئرمین ہیں. گزشتہ سال پانچ اگست کو بھارت کی جانب سے اپنے زیر انتظام جموں کشمیر کی شناخت کو ختم کرتے ہوئے اسے دو حصوںمیں تقسیم کر کے وفاق کے زیر انتظام منسلک کرنے کے اقدام کے بعد پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر میںقوم پرست و ترقی پسند تنظیموںپر مشتمل ایک الائنس قائم کیا گیا تھا. جس کی پندرہ رکنی کوآرڈی نیشن کی سربراہی بھی ذوالفقار احمد راجہ کر رہے ہیں.
ذوالفقار احمدراجہ کو دھمکی آمیز فون کالز موصول ہونے کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے. مختلف سیاسی و سماجی تنظیموںکے رہنماؤں نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے دھمکیاںدینے والے عناصر کی فوری گرفتاری اور کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے.

