Site icon Daily Mujadala

راولاکوٹ:‌کورونا پازیٹو شخص کے خاندان سے بچوں‌سمیت چھ افرادقرنطینہ مرکز منتقل

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد گزشتہ روز یاسین نامی ایک شخص کو آئیسولیٹ کیا گیا تھا. جبکہ جمعرات کےروزخاندان کے چھ افراد، جن میں‌بچے بھی شامل ہیں،‌کو قرنطینہ مرکز منتقل کر دیا گیا ہے. گھر میں فالج کی مریض‌والدہ بھی موجود ہیں، جن کی دیکھ بھال اہل خانہ کےلئے ایک مسئلہ بن چکا ہے. اہلخانہ نے محکمہ صحت کے اس فیصلہ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خاندان کے افراد کے ٹیسٹ کر کے انہیں‌گھر میں‌قرنطینہ کئے جانے کی اجازت دیئے جانے کی اپیل کی ہے. ساتھ ہی محکمہ صحت پر نااہلی کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے.

مذکورہ خاندان کے ایک فرد کا کہنا ہے کہ چند روز قبل راولاکوٹ کے نواحی گاؤں‌تراڑ کے رہائشی محمد یاسین جب فیصل آباد سے راولاکوٹ پہنچے تو سب سے پہلے انہوں‌نے ڈی ایچ او آفس راولاکوٹ پہنچ کر اپنا کورونا کا ٹیسٹ کروایا. انہیں‌کوئی علامت ظاہر نہیں‌ہوئی تھی لیکن اس کے باوجود انکا کمرہ الگ کر دیا گیا اور کسی سے بھی ملنے نہیں‌دیا گیا. کیونکہ گھرمیں‌والدہ فالج کی مریضہ ہیں اور خدشہ تھا کہ اگر انہیں‌کورونا وائرس پازیٹو ہوا تو وہ پھیل سکتا ہے. یہی وجہ تھی کہ محمد یاسین نے خود کو آئیسولیٹ کر رکھا تھا.

دو روز بعد رزلٹ پازیٹو آیا تو محمد یاسین کو شیخ زید ہسپتال کی آئیسولیشن وارڈ میں‌منتقل کر دیا گیا، جبکہ اگلے ہی روز انکے خاندان سے بچوں سمیت چھ افراد کو قرنطینہ مرکز منتقل کر دیا گیا. جہاں‌انکے ٹیسٹ کا رزلٹ آنے کے بعد انکے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا.

اہل خانہ کاکہنا ہے کہ محمد یاسین نے جب خود جا کر ٹیسٹ کروایا تو انہیں‌واپس گھر بھیج دیا گیا. اس کے باوجود انہوں‌نے اپنے آپ کو الگ کمرے تک محدود رکھا اورجب ٹیسٹ پازیٹو آیا تو خود کو آئیسولیشن وارڈ میں‌منتقل کر دیا. اس کے باوجود اہل خانہ سے اس طرح‌کا رویہ رکھنا سمجھ سے بالا تر ہے. ایسا لگتا ہے جیسے صرف فائلیں‌اور رپورٹ پوری کرنے کےلئے محکمہ صحت کا عملہ کام کر رہا ہے. عوام کو سہولیات دینے کا کوئی اقدام نہیں‌کیا جا رہا. اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ پہلے سے احتیاطی تدابیر اختیار کئے ہوئے ہیں. کسی فرد میں‌بھی کوئی علامت موجود نہیں‌ہے. اسلئے انہیں‌گھر میں‌ہی رہنے کی اجازت دی جائے.

دوسری جانب محکمہ صحت کا موقف ہے کہ محمد یاسین کو بظاہر کوئی علامت ظاہر نہیں‌ہو رہی تھی، اس لئے ٹیسٹ لینے کے بعدانہیں‌گھر جانے کی اجازت دی گئی تھی. لیکن ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد خدشہ ہے کہ انکے ساتھ رہائش پذیر خاندان کے دیگر افراد میں‌بھی وائرس پھیل گیا ہو. اس کے علاوہ گھر میں‌فالج کی مریض‌والدہ ہیں‌، انکی صحت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اسی وجہ سے احتیاطی طور پر محکمہ صحت نے یہ اقدام اٹھایا ہے. دو روز میں ٹیسٹ کے نتائج آجائیں گے اگر خاندان کے اشخاص پازیٹو نہ ہوئے تو انہیں‌گھر بھیج دیا جائے گا. لیکن خدانخواستہ اگر ان میں‌سے کوئی پازیٹو نکل آتا ہے تو پھر پورے علاقے کو کارڈن آف کرنا پڑے گا.

Exit mobile version