Site icon Daily Mujadala

پاکستانی کشمیر: مزید چار افراد میں‌کورونا کی تصدیق، کل تعداد 95 ہو گئی

پاکستان کے زیر انتظام جموں‌کشمیر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید04افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو گئی۔ 166نئے افراد کے کرونا وائرس کے شبہ میں ٹیسٹ لیے گئے۔نئے سامنے آنے والے کیسز میں سے02 کا تعلق ضلع مظفرآباد، ایک ضلع میرپور اور ایک کا ضلع کوٹلی سے ہے۔

پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں اب تک3411 افراد کے ٹیسٹ لیے گئے جن میں سے3349کے رزلٹ آچکے ہیں اور95افراد میں کرونا وائرس کی موجودگی پائی گئی ہے جن میں سے76افراد صحت یاب ہو چکے ہیں اور انہیں ڈسچارج کر دیا گیا ہے جبکہ18مریض زیر علاج ہیں اور ایک مریض کی موت ہوئی ہے۔ محکمہ صحت عامہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ڈی ایچ کیو راولاکوٹ سے12، ڈی ایچ کیو کوٹلی سے 12،ڈی ایچ کیو باغ سے 03،ٹی ایچ کیوسدھنوتی سے 10مریض،ڈی ایچ کیو بھمبر سے 15،جبکہ نیوسٹی ہسپتال میرپور سے 12،آئسولیشن ہسپتال مظفرآباد سے09،ٹی ایچ کیو ہسپتال ڈڈیال میرپور سے03 مریض صحت یاب ہوئے جنہیں ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔

کرونا کے18مریضوں میں سے1ڈی ایچ کیو ہسپتال کوٹلی، 02 ڈی ایچ کیو ہسپتال باغ،1ڈی ایچ کیو ہسپتال راولاکوٹ،02ڈی ایچ کیو ہسپتال میرپور، 01ڈی ایچ کیو بھمبر،11 آئسو لیشن ہسپتال مظفرآبادمیں زیر علاج ہیں۔ رپورٹ کے مطابق3254افراد میں کرونا وائرس کی موجودگی نہیں پائی گئی اور62افراد کے ٹیسٹ کے رزلٹ آنا باقی ہیں۔نئے افراد کے کرونا کے ممکنہ کیسز کے حوالہ سے لیے گے ٹیسٹ کی رپورٹ ایک دو روز میں آجائے گی۔

رپورٹ کے مطابق تمام اضلاع میں 58قرنطینہ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ تمام انٹری پوائنٹس پر محکمہ صحت کا عملہ موجود ہے جو ہمہ وقت مسافروں کی سکریننگ کررہا ہے۔ویرالوجی لیب عباس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہسپتال میرپوراور سی ایم ایچ راولاکوٹ میں پی سی آر ٹیسٹنگ ہو رہی ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تعاون سے پاکستانی زیر انتظام کشمیرمیں قائم تمام آئسولیشن سنٹرز میں انفکیشن، پری وینشن اینڈ کنٹرول (IPC)ٹریننگ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ تمام انٹری پوائنٹس پر ضلعی ریپڈریسپانس ٹیمیں اور صحت کا عملہ کرونا سے متاثرہ علاقوں سے آنے والے لوگوں کی مکمل سکریننگ کر رہا ہے۔پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے اضلاع سدھنوتی، بھمبر، کوٹلی، میرپور، نیلم، باغ، اور مظفرآباد کی ریپڈ ریسپانس ٹیمیں کرونا وائرس کے تصدیق شدہ افراد سے رابطہ میں رہنے والے افراد سے رابطہ کر کے انہیں قرنطینہ سنٹرز اور ہوم قرنطینہ کر رہی ہیں۔

Exit mobile version