Site icon Daily Mujadala

احساس پروگرام میں پونچھ میں سب سے کم خاندان مستفیدہوئے، BISPسکور اور کوٹا بڑھائے جانے کا مطالبہ

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے زیر انتظام احساس پروگرام کے تحت لاک ڈاؤن متاثرین تک بارہ ہزار روپے فی خاندان امدادی رقم فراہم کئے جانے کے منصوبہ میں ضلع پونچھ میں سب سے کم افراد مستفید ہوئے ہیں۔ شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ بی آئی ایس پی کا سکور اور پونچھ کا کوٹا بڑھایا جائے تاکہ آبادی کے تناسب اور دیگر اضلاع میں اس پروگرام سے مستفید ہونے والے گھرانوں کے تناسب سے ہی پونچھ میں بھی متاثرین لاک ڈاؤن مستفید ہو سکیں۔

بی آئی ایس پی کے زیر انتظام پاکستان اورکشمیر کے سولہ اضلاع میں پائلٹ سروے کروایا گیا تھا۔ ضلع پونچھ میں ان سولہ اضلاع میں شامل تھا جس کی وجہ سے پونچھ کے معذور افراد سمیت بہت سے مستحقین اس سروے میں شامل نہیں ہو سکے تھے، دیگر پندرہ اضلاع میں یہ کوٹا پورا کر لیا گیا تھا لیکن پونچھ میں ایسا نہیں ہو سکا۔ یہی وجہ سے کہ پونچھ میں بی آئی ایس پی کے سکور کے مطابق کٹیگری ون میں بھی کشمیر کے دیگر اضلاع کی نسبت کم مستحقین مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ کٹیگری ٹو میں بھی دیگر تمام اضلاع سے بہت کم لوگ ضلع پونچھ میں مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ پونچھ کشمیر کے بڑے اضلاع میں سے ایک ہے۔ اکثریتی آبادی مزدور پیشہ ہونے کی وجہ سے بری طرح سے متاثر ہے لیکن وہ حکومتی امداد کے حقدار بھی نہیں قرار پا رہے ہیں۔

ابھی تک ضلع پونچھ میں کٹیگری ون (جس میں بی آئی ایس پی کے سابقہ حقداران شامل ہیں) کے تحت 4058خواتین کو بارہ ہزار روپے کی امدادی رقم فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ کٹیگری ٹو (جس میں پٹواریوں کے ذریعے بنوائی گئی فہرستیں اور مسیجز کے ذریعے شامل ہونے والے افراد شامل ہیں) کے تحت پورے ضلع پونچھ سے 3946افراد کو امدادی رقم فراہم کی جا رہی ہے۔ جبکہ دیگر اضلاع میں یہ کہیں بھی یہ تعداد پانچ پانچ ہزار سے کم نہیں ہے۔

ابتدائی سروے کے تحت بی آئی ایس پی کے سکور پندرہ تک میں آنے والے مستحقین کو بی آئی ایس پی کے تحت پہلے سے مالی امداد دی جا رہی تھی، جبکہ لاک ڈاؤن متاثرین کیلئے یہ سکور غربت کی سطح یعنی چھبیس پوائنٹس تک بڑھایا گیا تھا۔ لیکن پونچھ چونکہ پائلٹ سروے میں شامل تھا اور مذکورہ سروے میں ایک بڑی تعداد مستحقین کی سروے میں شامل نہیں ہو سکی تھی جس کی وجہ سے مذکورہ سکور تک تیس سے پینتیس ہزار افراد کے شامل ہونے کے باوجود سروے میں اندراج نہیں ہو سکے ہیں۔ جس کی وجہ سے کل نو ہزار سے بھی کم افراد پورے ضلع پونچھ میں لاک ڈاؤن متاثرین کی امداد کے حقدار قرار پائے ہیں، جبکہ بیس ہزار سے زائد خاندان شدید متاثر ہونے کے باوجودحکومتی امداد سے محروم ہو چکے ہیں۔

اسی طرح تیسری کٹیگری میں ان لوگوں کو مستفید کیا جانا تھا جن کی فہرستیں مقامی انتظامیہ کے ذریعے مرتب کروائی گئی ہیں، ضلع پونچھ میں انتظامیہ کی جانب سے فہرستیں مرتب کرنے کے دوران بھی سیاسی پسند و نا پسند کا تدارک کرنے کی بجائے مقامی سیاسی رہنماؤں کو دیہاتوں اور یونین کونسلز کی فہرستوں کے کوٹے الاٹ کر کے تمام کام انکے ذمے لگا دیا۔ سیاسی رہنماؤں نے حقداروں کی بجائے ووٹرز کی فہرستیں مرتب کر کے انتظامیہ کے پاس جمع کروائیں اور ان فہرستوں پر جب بی آئی ایس پی اور نادرہ کے فلٹر لگائے گئے تو اکثریتی نام غیر مستحقین کے ہونے کی وجہ سے فہرستوں سے نکل گئے۔ لیکن سیاسی پسند و نا پسند کی وجہ سے مرتب ہونے والی فہرستوں کی وجہ سے حقداروں کی ایک بڑی تعداد حکومتی امداد سے بھی محروم ہو گئی ہے۔

سیاسی و سماجی رہنماؤں نے حکومت پاکستان، چیف سیکرٹری اور مقامی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع پونچھ میں معذوروں کا کوٹہ بھی شامل کیا جائے، جبکہ متاثرین لاک ڈاؤن کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے بی آئی ایس پی کے سکور میں اضافہ کیا جائے تاکہ بی آئی ایس پی کے سروے کی روشنی میں ہی متاثرین لاک ڈاؤن تک امدادی رقوم پہنچ سکیں۔

Exit mobile version