Site icon Daily Mujadala

انتظامی حیثیت میں کسی بھی تبدیلی کو رد کرنے کے علاوہ کوئی قرار داد سامنے نہ آسکی

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا ان کیمرہ اجلاس پیر کو سپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر کی صدارت میں شام دیر تک جاری رہنے کے بعد غیر معینہ مُدت کے لیئے ملتوی ہو گیا۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے محکمہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق قانون ساز اسمبلی کے ان کیمرہ اجلاس میں یہ طے پایا گیا کہ-:

۱)۔آزادکشمیر (پاکستانی زیر انتظام کشمیر)کی منتخب اسمبلی‘ حکومت‘ عوام اور تمام سیاسی جماعتیں مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتی ہیں اورکشمیری عوام کو یقین دلاتی ہیں کہ آزادکشمیر اور گلگت بلتستان اور مہاجرین مقیم پاکستان کے عوام اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل میں اپنا بھرپور کرادار اداکریں گے۔
۲)۔آزادکشمیر حکومت کی موجودہ آئینی اورسیاسی حیثیت میں کوئی کمی/تبدیلی نہیں ہوگی بلکہ اس کو ہر صورت برقرارکھاجائے گا۔
۳)۔تحریک آزادی کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لئے آزادکشمیر کی جملہ سیاسی قیادت اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کی قیادت مشترکہ جدوجہد جاری رکھیں گی۔
۴)۔دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم کشمیری و پاکستانی Diasporaنے تحریک آزادی کشمیر کو اجاگر کرنے میں جو کردار ادا کیا اس پر انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے یہ امید رکھتا ہے کہ وہ اپنا کردار بھرپور طریقہ سے جاری رکھیں گے۔

تاہم جہاں اس اجلاس سے صرف یہی بات سامنے آسکی کے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی حکومت اور موجودہ انتظامی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائیگی، اسے ہر صورت برقرار رکھا جائیگا، واضح رہے کہ اس صورتحال سے متعلق گزشتہ تین، چار ماہ سے چہ مگوئیاں جاری تھیں، جن میں تیزی اس وقت آئی جب وزیراعظم فاروق حیدر نے ایک تقریب میں اپنے آخری وزیراعظم ہونے کا اشارہ دیا۔

گو کہ وزیراعظم نے ان کی بات سے لئے گئے تاثر کو رد کیا اور ایک وضاحت بھی جاری کی، لیکن اس کے فوری بعد انتظامی سروسز کے لقب سے متعلق ایک نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد چہ مگوئیوں نے پھر زور پکڑ لیا تھا، خاصکر سوشل میڈیا پر صارفین نے مذکورہ نوٹیفکیشن جس میں ”آزاد جموں و کشمیر ڈسٹرکٹ مینجمنٹ سروسز گروپ“ کو تبدیل کر کے ”جموں کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروسز“ کیا گیا تھا، تاہم گزشتہ روز ہی ایک ترمیمی نوٹیفکیشن کے ذریعے انتظامی سروسز کے لقب کو تبدیل کر کے ”آزاد جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروسز“ کر دیا گیا تھا۔

دوسری طرف ان کیمرہ اجلاس کے حوالے سے بھی سوشل میڈیا پر صارفین نے مختلف سوالات اٹھائے ہیں، جن میں سب سے اہم سوال یہ تھا کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی اسمبلی کے پاس نہ تو دفاع کے اختیارات ہیں، نہ مواصلات اور نہ ہی خارجہ امور کے اختیارات ہیں، بلکہ اس اسمبلی کی حیثیت ایک میونسپل کمیٹی جتنی ہے، تو پھر ایسی کیا بات تھی کہ ایک بند کمرے کا اجلاس منعقد کرنا پڑا۔

کچھ سوشل میڈیا صارفین نے یہاں تک کہا کہ ممبران اسمبلی اور حکومت کو اپنی نوکریاں خطرے میں نظر آ رہی تھیں، اس لئے بند کمرے میں یہ طے کرنے کی کوشش کی گئی کہ اپنی نوکریوں کو کس طرح سے بچایا جائے گا، کسی نے بھی کشمیر کی انتظامی حیثیت میں تبدیلی، یا تبدیلی رکوانے سے متعلق کوئی بات نہ کی ہو گی۔

Exit mobile version