سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی کال پرپاکستان، کشمیر و گلگت بھر کی طرح پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے ضلع سدھنوتی کی تحصیل منگ میں بھی جے کے این ایس ایف کے زیر اہتمام طلبہ یکجہتی مارچ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ انتیس نومبر کو دن گیارہ بجے بوائز کالج منگ بازار سے طلبہ یکجہتی مارچ کا آغاز کیا جائیگا۔
جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مر کزی سیکرٹری جنرل یاسر حنیف نے طلباءیکجہتی مارچ کی تیاریوں کے حوالے سے یونیورسٹی آف پونچھ منگ کیمپس میں طلباءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طلباءیکجہتی مارچ پاکستان ، کشمیراور گلگت بلتستان بھر میںطلباءسیاست اور طلباءحقوق کی بحالی کیلئے نقطہ¾ آغاز ثابت ہوگا۔ موجودہ دور میں کسی بھی فورم پر طلباءکی نمائندگی موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے طلباءاور نوجوانوں کے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے۔
یونین سازی طلباءکا بنیادی حق ہے جو 1984ءمیں ضیاءآمریت کے دور میںچھینا گیا اور اس کے بعد نام نہاد جمہوری حکومتوں میں بھی یونین پر پابندی بر قرار رکھی گئی۔اس کے علاوہ موجودہ حکومت کی تعلیم دشمن پالیسیاں نوجوانوں سے تعلیم کا حق چھین رہی ہیں۔تعلیم بجٹ میں کٹوتی اور فیسوں میں بے تحاشہ اضافے کی وجہ سے نوجوان تعلیم سے محروم ہو رہے ہیں۔
طلباءیکجہتی مارچ کے ذریعے پاکستان اور کشمیر بھر کے طلباءاپنے حقوق کیلئے منظم ہو رہے ہیں۔JKNSFکشمیر بھر میں طلباءیکجہتی مارچ کو منظم کرتے ہوئے پاکستان کے طلباءسے جڑت بناتے ہوئے طلباءحقوق کی بحالی کی جدوجہد کو تیز کرے گی اور طلبا ءیونین کے الیکشن کروانے ، طبقاتی نظامِ تعلیم کے خاتمے ، فیسوں میں اضافے کی واپسی ،ہاسٹل کی سہولت کی فراہمی اور دیگر طلباءمسائل کے خاتمے کیلئے اپنی جدوجہد کو مزید تیز کرتے ہوئے جموں کشمیر کی آزادی اور غیر طبقاتی سماج کے قیام کیلئے اپنا انقلابی کردار اد ا کرتی رہے گی۔
انہوں نے کشمیر بھر میں طلباءاور نوجوانوں سے اپیل کی کہ طلباءیکجہتی مارچ میں بھر پور شرکت کر تے ہوئے اپنے حقوق کی بحالی کیلئے اپنے آپ کو منظم کریں ۔
اجلاس سے منگ کیمپس JKNSFکے رہنما حاذق خان اور ضلعی رہنما نعمان خادم اور رضوان خان نے بھی خطاب کیا۔

