پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی حکومت کے وزیر برائے ٹیوٹا و بہبود آباد ی ڈاکٹر مصطفی بشیر نے لبریشن فرنٹ کے قائدین کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہوئے سخت ایکشن کی دھمکی دیدی ہے۔
ہٹیاں بالا میں ایک فارمیسی کی افتتاحی تقریب کے بعد مقامی شہریوں اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انکی جانب سے بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کے شہریوں اور دھرنے کے قائدین سے متعلق نازیبا الفاظ پر مشتمل ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔
مصطفی بشیر کی گفتگو کو ٹرانسکرائب کر کے اسی حالت میں (ماسوائے گالم گلوچ )قارئین کیلئے پیش کیاجارہا ہے۔
پانچ چھ سو آدمی کیا بارڈر توڑے گا، یا تو سارے آزادکشمیر کے لوگ اکٹھے کرو تب کوئی بات بنے۔ ان طریقوں سے بارڈر ٹوٹتے ہوں پھر تو ملکوں کی ضرورت ہی کوئی نہیں۔
ہمارے لوگوں کے پاس آج ٹائم ہی نہیں ہے، لوگوں کے مسائل ہیں، میں اپنے دفتر جا کر بیٹھتا ہوں، کہتا ہوں کہیں جانا ہے کشمیر کے مسئلے پر بات کرنی ہے تو لوگ ہاتھ جوڑتے ہیں کہتے ہیں۔۔۔۔لعنت بھیجو ڈاکٹر صاحب میرے بچے کو نوکری دو۔۔۔۔۔ مجھے اگر کسی ایک شخص نے بھی کشمیر کے مسئلے پر ووٹ دیا ہو تو میں بھی انکے ساتھ جا کر بیٹھ جاؤں۔
میں کشمیر بنے گا پاکستان کا حامی ہوں، یہ میرا حق ہے، انکوحق ہے کہ یہ کشمیر بنے گا خود مختار کا نعرہ لگاتے ہیں، لیکن یہ فیصلہ رائے شماری میں ہوگا، میں اپنے موقف کے مطابق ووٹ دوں گا۔ یہ اپنے موقف کے مطابق دیں، لیکن پہلے رائے شماری تو ہونے دیں۔
لیکن یہ بات کہنی کہ جو لوگ کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرے مارتے ہیں وہ کنجر ہیں، ایسی بات کسی صورت برداشت نہیں ہو سکتی۔
کل لوگ دھرنے کے قائدین کے پاس گئے انہوں نے کہا کہ آگے فوج بیٹھی ہے۔ وزیر حکومت کرنل وقار صاحب نے کہا فوج کا گھیراؤ نہ کرو۔۔انہیں توقیر گیلانی صاحب کہتے ہیں کہ۔۔۔۔ یہ ہماری فوج نہیں ہے، ہم کیوں اسکا اسلحہ لے جانے کیلئے راستہ دیں۔۔۔۔۔۔
اگر وہ یہاں نہ ہوں تو ہم بھی آج انڈیا کے ساتھ ہوتے تو پھر ٹھیک ہو جاتے۔ شکر کرو ہمیں یہ خطہ مل گیا۔
ہم گئے 1960ء میں مقبوضہ کشمیر میرے باپ دادا بھی گئے، آگے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں نے انہیں زہر دیکر مارا، اب انہوں نے خود اپنا علاقہ آزاد نہیں کروایا تو ہم یہ بھی اٹھا کر انڈیا کو دے دیں۔۔ جو ہمارے پاس ہے۔۔۔؟
پریکٹیکل بات کرنی چاہیے، میرا موقف ٹھیک ہے، دوسروں کا میں احترام کرتا ہوں لیکن کوئی مجھے نہ کہے کہ مصطفی بشیر غدار ہے۔
یہ لوگ خود ریاست کو نہیں مانتے، یہ کہتے ہیں کہ ہم پاکستان اوریو این او سے بات کریں گے، یہ ریاست نہیں مان رہے، سپیکر اور وزراء کی عزت نہیں کر رہے۔ ان لوگوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ خودمختاری کا نعرہ لگانے والے درست ہونگے۔ابھی اس پر لڑائی کرنے کی ضرورت نہیں۔
ابھی ہمیں انڈیاسے کیسے جان چھڑوانی ہے یہ سوچنا چاہیے۔ ابھی ہم پاکستان سے جان چھڑوانے کی باتوں میں پڑ گئے تو اس کا مطلب ایک نئی جنگ چھڑ جائے گی۔
حکومت کی رٹ کو جب چیلنج کیا جائے گا تو ہم انہیں اسکا انجام دکھائیں گے۔ گورنمنٹ بیٹھی ہے، اپنی حکومت ہے، اپنی ریاست کی پولیس ہے، ہمارے فوجیوں کا بھی اس ریاست پر پورا حق ہے، کوئی فوجی بھائی سندھ سے ہے، پنجاب سے ہے، بلوچستان یا کے پی کے سے ہے،وہ ہماری حفاظت کر رہے ہیں۔
ہم جو یہاں باتیں کر رہے ہیں، مقبوضہ کشمیرمیں مسلمانوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ دیکھیں۔۔۔ انڈیا اور پاکستان کاموازنہ نہ کریں۔۔۔ میں تو کہتا ہوں مسلمانوں کے باون ملک اکٹھے ہونے چاہئیں تھے۔ اسلام کی، نبی کریم ؐ کی ایک ہی بات تھی کہ ہم اسلامی ریاست بنا رہے ہیں، ایک ہی اسلامی ریاست،یہ کون سی بات ہے کہ ہم ٹکڑے ہوتے جا رہے ہیں۔
یہ لوگوں کے ٹیکس کا پیسہ ہے،جس سے بنے کنٹینرزدریا میں پھینکنے کی بات کی جا رہی ہے۔ لوگوں کو محصور کر دیا گیا ہے۔ یہ کہاں کہ لوگ ہیں، کدھر سے آئے ہیں۔ جو انڈیا کو چھوڑ کر پاکستان سے آزادی مانگ رہے ہیں۔ یہ کون سے لوگ ہیں۔ انکا اشارہ نہیں سمجھتے آپ کہ یہ کہاں سے بول رہے ہیں۔ ایسی بات کریں گے پھر انکی بات کھول کر رکھ دینگے۔
اگر ان لوگوں نے یہاں بیٹھنا ہے تو ہم ان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے انکا پرتپاک استقبال کیا۔ لیکن یہ اگر ہمیں اور پاکستان کو گالیاں نکالیں تو پھر یہ نہیں ہوگا۔۔۔
اگر پاکستان کو کچھ ہو گیا تو عربوں نے نہیں آنا۔ ان بے غیرتوں نے تو آپ کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔ یہ پاکستان ہے،جو نعمت ہے ہمارے لئے، یہ ملک ہے جس نے ہمیں بچایا ہوا ہے۔
میں پنڈی جا کر ہندکو بولتا ہوں مجھے کوئی نہیں پوچھتا۔ جائیں جا کر سرینگر میں ہندکو بولیں، آگے پوچھتے ہیں۔۔۔کدھر سے آئے ہو۔ چلویہاں سے گجر کہیں کے۔۔۔۔۔
پاکستان میں جس کی طاقت ہے وہی بادشاہ ہے۔ پاکستان کو مضبوط کریں۔ اس خطے کی تقسیم ہوئی تھی کہ مسلمان ایریا پاکستان کیساتھ اور ہندو ایریا انڈیا کے ساتھ جائے گا۔ تو لڑائی کس بات کی ہے۔۔۔۔۔۔؟ہم نے نئی کہانی نکال لی۔
رائے شماری کروائیں، خودمختاری کے حق میں ووٹ زیادہ نکل آئے تو ہم بھی ساتھ ہونگے، لیکن ابھی یہ نہ کریں کہ یہاں سے بھی آزادی، وہاں سے بھی آزادی۔۔۔۔۔
آزادکشمیر ایک آزاد ملک ہے، آزاد ریاست ہے، ہمارے پاس اختیارات ہیں۔ ہماری پولیس کھڑی ہے۔ وہ ہمارے بھائی ہیں۔ اس وقت کے حالات کو سمجھیں۔
وزیراعظم سے لیکر ہر بندہ انکے پاس آیا، اگر وہ اب عزت سے چلے جائیں گے تو انکا احترام بڑے گا۔ لیکن اگر وہ یہ چاہتے ہیں کہ چکوٹھی کے ہمارے بھائیوں کو محصور کر لیں۔ باقی لوگوں کو محصور کر لیں۔ اور پانچ سو آدمی جا کر بارڈر توڑ دے گا اور ہم انہیں اجازت دے دینگے اور پورے ملک کو داؤ پر لگا دینگے، آزادکشمیر کو داؤ پر نہیں لگایا جا سکتا۔
ہم لوگ سکون میں رہ رہے ہیں۔ بارڈر میں فائر ہوتا ہے تو لوگ سفید جھنڈا لگاتے ہیں کیونکہ وہ جنگ نہیں چاہتے۔
جب ریاست جنگ کا اعلان کریگی تو ایک ایک بندہ جا کر لڑے گا۔
ریاست کے لوگوں کے حالات اتنے اچھے نہیں کہ انکے راستے بند کر کے انکے مسائل میں اضافہ کریں۔
ہم نے تیرہویں آئینی ترمیم کر کے صوبوں سے زیادہ اختیارات لے لئے ہیں۔اس وقت بات انڈیامیں محصور مسلمانوں کی بات کرنے کا وقت ہے تو ان لوگوں نے نہیں کہانی شروع کر دی، ادھر سے آزادی اور ادھر سے آزادی۔۔۔۔۔
حکومت ان کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔ حکومت نے خط لکھا ہے، یو این نمائندے اگر آسکتے ہیں تو آئیں۔ حکومت کی رٹ چیلنج کرنے کی کوشش کی گئی تو حکومت پھر وہ چیز دکھائے گی جو یہ یاد رکھیں گے۔
اسی موقع افتتاحی تقریب میں شریک سید احسان الحسن گیلانی نے کہا کہ ”لیڈر شپ نے خودمختار کشمیر کا نعرہ نہ لگانے کی یقین دہانی کروائی تھی۔ کہا گیا کہ صرف رائے شماری کا نعرہ لگایا جائے گا، اسی وجہ سے ہم نے ہٹیاں اور چناری میں انکا شاندار استقبال کیا۔ اب انکی باتیں برداشت سے باہر ہیں۔

