پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی حکومت نے ملازم تنظیموں کو قائدین کو ملازمتوں سے جبری ریٹائر کرنے کے منصوبے پر باضابطہ عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ ریاستی ملازمین کی ایک بڑی تنظیم ایپکا کے مرکز اور ضلع میں سربراہی کرنے والے ملازم رہنما سردار امتیاز دوسرے ایسے ملازم رہنما ہیں جنہیں جبری طور پر ریٹائر کرنے کا حکم نامہ جاری کیا جا چکا ہے، اس سے قبل محکمہ برقیات ہی میں ملازمت کرنے والے اور محکمہ کے غیر جریدہ فنی ملازمین کی تنظیم کے مرکزی صدر اعجاز شاہسوار کو جبری طور پر ریٹائر کئے جانے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے، جسے ملازم مذکور نے عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔
رواں ماہ محمد امتیاز ولد محمد یوسف جونیئرکلرک متعینہ ریونیو آفس برقیات راولاکوٹ کو ملازمت سے جبری طور پرریٹائر کرنے کا حکم نامہ جاری ہوا۔ حکم نامہ میں محمد امتیاز پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے مجاز اتھارٹی سے اجازت لئے بغیر پریس کانفرنس کی، جس کے بعد انہیں معطل کرتے ہوئے انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی، انکوائری آفیسر نے تحریر کیا ہے کہ اہلکار مذکور مس کنڈکٹ کا مرتکب ہوا ہے اور انکوائری افسر نے ہی جبری ریٹائر کرنے کی سفارش کی۔ لہٰذا انکوائری رپورٹ اور سفارشات کی روشنی میں انہیں ملازمت سے جبری ریٹائر کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے
ملازم رہنما اعجاز شاہسوار کو جبری ریٹائر کرنے کا حکم جاری، ناظم برقیات کےخلاف کارروائی نہ ہوسکی، ملازمین کا احتجاج
پاکستانی کشمیر میں محکمہ جات کی نجکاری کا منصوبہ: ملازم رہنماؤں کی جبری برطرفیاں شروع، تنظیموں نے دفاتر کی تالا بندی کا اعلان کردیا
تاہم حکم نامے میں کسی بھی قانون یا سروس رول کا حوالہ نہیں دیا گیا جس کے تحت ایک ملازم رہنما کا پریس کانفرنس کرنا مس کنڈکٹ میں آتا ہو۔ سردار امتیاز اس سلسلہ میں کہتے ہیں کہ انہوں نے پریس کانفرنس ایک ایسے ایشو پر کی تھی جس کا نشانہ براہ راست صدر ریاست اور وزیراعظم کو بنایا گیا تھا۔ سردار امتیاز کے مطابق جب وزیراعظم اور صدر ریاست کی راولاکوٹ آمد پر انکی بجلی منقطع کی گئی تو الزام ملازم رہنماؤں پر عائد کیا گیا۔ ہم نے اپنے ساتھیوں کی گرفتاریاں دیتے ہوئے آزادانہ تحقیقات کی اپیل کی، پولیس تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ناظم برقیات سردار الطاف، ایس ڈی او اور انہی کے حامی چند اہلکاروں نے وزیراعظم اور صدر ریاست کی بجلی منقطع کروا کر الزام ملازم رہنماؤں کے سر ڈالنے کی کوشش کی۔
انکا کہنا تھا کہ کمشنر پونچھ ڈویژن نے پولیس تحقیقات کی روشنی میں ناظم برقیات راولاکوٹ سردار الطاف کے خلاف کارروائی کی تحریک کی لیکن آفیسر مذکور کے خلاف کارروائی کئے جانے کی بجائے ملازمین کے خلاف مزید انتقامی کارروائیاں کی جا رہی تھیں جس پر ہم نے مجبوراً پریس کانفرنس کی۔ اسی پریس کانفرنس کو بنیاد بنا کر یہ کارروائی کی گئی ہے۔
دوسری جانب ملازم رہنما حکومت کے ان فیصلوں کو نہ صرف انتقامی کارروائیاں قرار دیتے ہیں بلکہ ملازم رہنماؤں کے مطابق پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی حکومت مختلف منافع بخش اداروں کو فروخت کرتے ہوئے نجی تحویل میں دینے کے منصوبے پر سنجیدگی کے ساتھ منصوبہ سازی کر رہی ہے۔ اس سلسلہ میں محکمہ برقیات، محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت کو ترجیحی بنیادوں پر پرائیویٹائز کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔
اسی سلسلہ میں حکومت ابتدائی طو رپر ان ملازم رہنماؤں کو جبری طور پر ریٹائر کر رہی ہے جن کے بارے میں حکام یہ سمجھتے ہیں کہ وہ حکومت کے اس منصوبے میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں، ملازمین کو متحد کر کے احتجاج کر سکتے ہیں۔

