Site icon Daily Mujadala

بھارتی آئین کے آرٹیکل370کی منسوخی: جموں کشمیر میں سنگ بازی کا پھر سے آغاز، دو ایام میں پچپن واقعات

بھارتی آئین کے آرٹیکل 370کی منسوخی کے بعد وادی میں سنگ بازی کے واقعات میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے اور سٹیٹ سبجیکٹ سمیت دیگر امتیازی آئینی حاصلات دینے والے بھارتی آئین کے اس آرٹیکل 370میں پانچ اگست کو بھارتی نے منسوخ کر دیا تھا جس کے بعد بھارتی نشریاتی ادارے میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق پچپن سے زائد سنگ بازی کے واقعات ریکارڈ کئے گئے ہیں۔

وادی میں دفعہ144کے تحت عائد کردہ پابندیوں اور فورسز کی بھاری تعداد کی تعیناتی کے باوجود وادی کے مختلف علاقوں میں سوسے دو سو مظاہرین اکٹھے ہوتے ہوئے آرٹیکل 370کی منسوخی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرواتے رہے۔

سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو کنٹرول کرنے کیلئے آنسو گیس کا استعمال کیا، سینئرسکیورٹی فورسز آفیشل نے بھارتی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس احتجاج کرنے والوں میں سے کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے، نہ ہی گرفتاریوں سے متعلق ان کے پاس کو ئی درست معلومات موجود ہیں۔

چھ بڑے پتھر بازی کے واقعات
بھارتی نشریاتی ادارے کوئنٹ کی جانب سے دو ایام کے دوران چھ بڑے پتھر بازی پر مشتمل احتجاجی مظاہروں کا ریکارڈ مرتب کیا ہے، کل چھبیس واقعات سکیورٹی فورسز کی جانب سے دو روز میں ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ چھ واقعات کا مرتب کردہ ریکارڈ درج ذیل ہے:

پتھربازی کے واقعات کا ابھار
پانچ اگست کو تیرہ ایسے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سے گیارہ سرینگر میں، ایک اوانتی پورہ، ایک بانڈی پورہ میں رپورٹ ہوا۔ مذکورہ واقعات میں تین سی آر پی ایف کے جوان زخمی ہوئے، تاہم مظاہرین میں سے زخمی ہونے والوں کی معلومات دستیاب نہیں ہو سکی۔

چھ اگست کو پتھر بازی کے بیس واقعات رپورٹ ہوئے جن میں سے اٹھارہ سرینگر اور دو پلوامہ میں سے رپورٹ ہوئے۔ مذکورہ واقعات میں سی آر پی ایف کے بارہ جوان زخمی ہوئے، مظاہرین میں سے زخمی ہونے والوں کی اطلاع چھ اگست کو بھی میسر نہیں آسکی۔

سات اگست کو مجموعی طور پر بائیس پتھربازی کے واقعات رپورٹہوئے جن میں سے بیس سرینگر، دو پلوامہ میں سے رپورٹ ہوئے۔ مذکورہ مظاہروں کے دوران سی آر پی ایف کا ایک جوان زخمی ہوا۔ تاہم مظاہرین میں سے زخمیوں کی کوئی معلومات حاصل نہیں ہو سکی۔

ایک سینئرسکیورٹی فورسز ذمہ دار نے بھارتی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ پینسٹھ ہزار کے قریب سی آر پی ایف اہلکاران جموں کشمیر میں تعینات کئے گئے ہیں۔ سات اگست کو ہم نے سرینگر کے رہائشیوں میں روز مرہ استعمال کی اشیاء جن میں دودھ، ڈبل روٹی اور پیک کھانا موجودتھا، تقسیم کیں۔ دفعہ144میں جمعہ کے روز اور عید کے روزنرمی کی جا سکتی ہے تاکہ لوگ نمازجمعہ اور نماز عیدکی ادائیگی کر سکیں، ہم احکامات کا انتظار کر رہے ہیں۔
دفعہ144کا نفاذ چار اگست کی نصف شب کو کیا گیاتھا، جس کے بعد نائب صدر نیشنل کانفرنس عمر عبداللہ اورپی ڈی بی صدرمحبوبہ مفتی کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔ دفعہ144کا نفاذ تاحکم ثانی جاری رہے گا۔

دفعہ 144کا نفاذ لوگوں کو کسی بھی قسم کے جلسہ، ریلی وغیرہ سے روکتا ہے اور کسی بھی ایک جگہ چار یا چارسے زیادہ افراد کو جمع ہونے سے بھی روکتا ہے۔

Exit mobile version