بھارتی زیر انتظام جموںکشمیر کے گرمائی اور سرمائی دارالحکومتوں سرینگراور جموں اضلاع میں گورنر ستیا پال ملک کے احکامات سے پیر کے روز سے غیرمعینہ مدت تک دفعہ144سی آر پی سی کے تحت پابندیاںعائد کر دی گئی ہیں.
ایک دوسرے حکم کے تحت موبائل اور انٹرنیٹ سروس اتوار کی رات سے ہی معطل کر دی گئی ہیں. جبکہ جامعہ کشمیر میںپانچ سے دس اگست کو ہونے والے امتحانات بھی غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیئے گئے ہیں.
سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اطلاع دی ہے کہ انہیں انکے گھر میںنظر بند کر دیا گیا ہے اوردیگر مین سٹریم لیڈرشپ کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا جا رہا ہے، جبکہ میڈیا ذرائع کے مطابق محبوبہ مفتی، یوسف تاریگامی، فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی سمیت دیگر اہم رہنماؤں کو بھی انکے گھروں میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔
ایک دوسری ٹویٹ میں عمر عبداللہ نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں پیر پنجال اور چناپ خطہ کے حوالے سے شدید تشویش ہے کہ وہاں فرقہ وارانہ فسادات بھڑک سکتے ہیں، انہوںنے توقع کا اظہارکیا کہ حکومت اس سلسلہ میں پیشگی حفاظتی اقدامات کرے گی تاکہ کسی بھی طرحکے فرقہ وارانہ فسادات کی روک تھام کی جا سکے.
ایک اور ٹویٹ میں عمر عبداللہ نے کہا کہ تشدد صرف انہی عناصر کے ہاتھوں سے ہوگا جن کے ذہن میںریاست کے بہتر مفادات نہیں ہیں. یہ وہ انڈیا نہیںہے جس نے جموںو کشمیر کو اپنایا تھا، لیکن میںنے ابھی تک امید نہیںچھوڑی، خدا آپ سب کے ساتھ رہے.
سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ایک ٹویٹ میںکہا ہے کہ امید ہے کہ جن لوگوںنے ہم پر خوف کو بڑھاوا دینے کا الزام لگایا تھا وہ سمجھ جائیں گے کہ ہمارا خوف غلط نہیںتھا. رہنماؤن کی نظر بندی، دفعہ 144 کانفاذ، براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس کی معطلی کسی طور پر معمول کی صورتحال نہیںہے.
ایک اور ٹویٹ میںانکا کہنا تھا کہ جو لوگ موجودہ صورتحال پر خوشیاں منا رہے ہیں وہ حکومت ہند کی جانب سے ہونے والے کسی بھی یکطرفہ اقدام کے دور رس نتائج سے بے خبر ہیں.
ایک اور ٹویٹ میںمحبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ واجپئی جی بی جے پی رہنما ہونے کے باوجود کشمیریوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے تھے اور اسی وجہ سے کشمیریوں کی محبتیںکمائیں۔ آج ہم اس کی غیر موجودگی کو سب سے زیادہ محسوس کرتے ہیں۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی صدارت میں کل جماعتی میٹنگ
کل جماعتی میٹنگ میں سیاسی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اگر مرکز کی جانب سے دفعہ 370یا 35-اےکو ختم کرنے کی کوئی کوشش کی گئی تو اس کے خلاف متحدہ طور پر سینہ سپر ہوں گے۔ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کل جماعتی میٹنگ کا اعلامیہ پڑھ کر سنایا جسے ’’گپکار اعلامیہ ‘‘ کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال غیر یقینی ہے اور ریاست کی خصوصی پوزیشن کے خلاف کوئی بھی اقدام حملہ تصور کیا جائے گا ۔اعلامیہ میں لوگوں سے پر امن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا گیا کہ لوگوں کو چاہئے وہ صبروتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پر امن رہیں۔میٹنگ کے دوران ریاست کی مخصوص شناخت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ، غیر آئینی حد بندی یا ریاست کی تقسیم کو جموں کشمیر اور لداخ کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا ۔ میٹنگ میں صدر جمہوریہ ہند ، وزیراعظم اور ملک کے دیگر سیاسی لیڈران سے اپیل کی گئی کہ وہ بھارتی آئین میں ریاست کے لوگوں کو دی گئی ضمانتوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے اپنا رول نبھائیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پر ہوئی کل جماعتی میٹنگ میں نیشنل کانفرنس ، پی ڈی پی، کانگریس، پیپپلز کانفرنس، عوامی نیشنل کانفرنس، عوامی اتحاد پارٹی، شاہ فیصل اور دیگر پارٹیوں نے شرکت کی۔ جو دیگر میٹنگ میں موجود تھے ان میں محبوبہ مفتی، مظفر حسین بیگ، عبدالرحمان ویری، عمر عبداللہ، سجاد غنی لون، عمران انصاری، محمد اکبر لون، شاہ فیصل، علی محمد ساگر، محمد یوسف تاریگامی، حکیم محمد یاسین، غلام حسن میر وغیرہ شامل تھے۔
وزیر داخلہ کی قومی سلامتی مشیر کیساتھ اہم میٹنگ
سرینگر کے ایک مقامی اخبار کے مطابق جموں و کشمیر کو لے کر جاری تمام قیاس آرائیوں کے درمیان وزیر داخلہ امت شاہ نے وزارت داخلہ کے اعلی افسران اور خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کے ساتھ میٹنگ کی۔اس میٹنگ میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول بھی موجود تھے۔ میٹنگ میں کشمیر وادی کے تازہ حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوئی میٹنگ کے دوران سراغ رساں ایجنسیوں کے سربراہان کے علاوہ مرکزی ہوم سیکریٹری اور دیگر اعلیٰ افسران موجود تھے۔ میٹنگ قریب ایک گھنٹے تک چلی ۔البتہ میٹنگ کے دوران کیا بات چیت ہوئی اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔
مرکزی کابینہ کی میٹنگ آج
مرکزی کابینہ کی آج وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ پر میٹنگ ہوگی۔ سیکورٹی سے متعلق کابینہ کمیٹی اور پارلیمانی امورسے متعلق کابینہ کمیٹی کی بھی آج میٹنگ ہونے کاامکان ہے۔ذرائع کے مطابق ان اعلیٰ سطحی میٹنگوں میں جموں کشمیرسے متعلق معاملات پر غور ہوگا۔سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد میں اضافہ کرنے سے متعلق بل پر بھی لوک سبھا میں پیش کئے جانے سے قبل کابینہ میں غور ہوگا۔
اسی بارے میں مزید پڑھیں:
قومی سلامتی کمیٹی: ’افغان تنازع کے پیشِ نظر انڈیا کی حکمت عملی کی مذمت کرتے ہیں‘
بھارتی کشمیرمیں ہنگامہ خیزی: دفعہ پینتیس اے کا خاتمہ یا ملک کو سزا دینے کی تیاری؟

