Site icon Daily Mujadala

راولاکوٹ: جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے زیراہتمام احتجاجی ریلی و جلسہ، سیکڑوں افراد کی شرکت

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین سردار محمد صغیر خان نے کہا ہے کہ ریاست جموں کشمیر پر جبری قبضہ اور تقسیم کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔ دونوں اطراف سٹیٹ سبجیکٹ رول کو بحال کیا جائے۔ ریاستی وسائل پر جموں کشمیر کے شہریوں کے حق ملکیت کو تسلیم کیا جائے، ایکٹ 74اور معاہدہ کراچی کو فی الفور ختم کرتے ہوئے گلگت بلتستان اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کو باہم ملا کر ایک انقلابی اور آئین سازی حکومت قائم کی جائے۔ پانچ اگست2019کو بھارتی فاشسٹ حکومت کی طرف سے بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر اور لداخ کو دو یونین ٹریٹریز میں تقسیم کرتے ہوئے سٹیٹ سبجیکٹ رول اور شہریوں آزادیوں کو معطل کرنے کے عمل کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں اور کشمیری عوام کی لہو رنگ جدوجہد کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ہم اس جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ ہیں اور انہیں اپنے بھرپور تعاون اور حمایت کی یقین دہانی کرواتے ہیں۔ بھارتی قابض افواج کے ظلم و جبراور ریاست جموں کشمیر پر قابض پاکستان، بھارت اور چین کی سامراجی ریاستوں کے خلاف بھرپور جدوجہد جاری رکھیں گے۔

وہ یہاں راولاکوٹ میں احتجاجی جلوس کے شرکاءسے خطاب کر رہے تھے۔ قبل ازیں پوسٹ گریجویٹ کالج گراﺅنڈ سے مقبول بٹ شہید چوک تک احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ یہ ریلی جموں کشمیر لبریشن فرنٹ اور سٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام نکالی گئی تھی، ریلی میںجموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن مارکسسٹ، نیپ اور این ایس ایف ونگ کے کارکنان بھی شریک تھے۔

سیکڑوں افراد پر مشتمل ریلی کے شرکاءنے بھارت اور پاکستان کی جانب سے جاری کردہ سیاسی نقشہ جات، بھارتی فورسز کی بربریت، جموں کشمیر کی جبر ی تقسیم اور قبضے سمیت دیگر مسائل کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ مقبول بٹ شہید چوک میں احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا۔

جلسہ سے چیئرمین لبریشن فرنٹ سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ، زونل صدر انصار احمد خان، سینئر وائس چیئرمین مظہر اقبال ایڈووکیٹ، اظہر کاشر، سابق صدر این ایس ایف بشارت علی خان، سیکرٹری جنرل لبریشن فرنٹ سردار شعیب، توصیف عبدالخالق ، صمد شکیل سمیت دیگر رہنماﺅں نے خطاب کیا۔ جبکہ سردار شاہد شریف نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض سر انجام دیئے۔

مقررین نے پانچ اگست کے بھارتی اقدام کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کی جانب سے جاری کئے گئے سیاسی نقشہ جات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ مقررین نے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کی مکمل آزادی، خودمختاری اور طبقات سے پاک معاشرے کے قیام تک جدوجہد جاری رکھی جائیگی۔

Exit mobile version