پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی جامعات کے طلبہ نے اضافی فیسوں کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کر رکھی ہے۔ مختلف جامعات میں اس سلسلہ میں احتجاجی کیمپ اور ریلیاں اورجلسے جلوس منعقد کئے جا رہے ہیں۔ راولاکوٹ شہر میں گزشتہ چار روز سے جامعہ پونچھ کے چاروں کیمپس کے طلبہ کچہری چوک میں احتجاجی کیمپ لگا کر بیٹھے ہیں۔ جمعرات سے انہوں نے دن رات احتجاجی کیمپ میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ وبائی صورتحال کے بعد لاک ڈاﺅن نافذ ہو گیا تھا جس کی وجہ سے متعدد لوگ بیروزگار ہو چکے ہیں، کام کاج ٹھپ ہو چکا ہے۔اس خطے کے لوگوں کا ایک بڑا حصہ گلف ممالک میں بسلسلہ روزگار مقیم ہے جو وہاں لاک ڈاﺅن کی وجہ سے بیروزگار ہو چکا ہے۔ اس ساری صورتحال میں بھاری فیسوں کی ادائیگی اکثریتی طلبہ کےلئے ناممکن ہو کر رہ گئی ہے۔ دوسری طرف آن لائن کلاسوں کے نام پر ایک ڈرامہ رچایا گیا ہے ۔ اس خطے میں نہ تو انٹرنیٹ سروس موجود ہے اور نہ ہی یونیورسٹی میں آن لائن تعلیم دینے کی اہلیت ہے۔ اس طرح طلبہ کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ جامعات بند ہیں تو پھر سپورٹس، لائبریری، لیبارٹری، ٹرانسپورٹ، ہاسٹل سمیت دیگر متعدد مدوں میں فیسوں کی وصولی پر زور دیا جا رہا ہے۔ جو سروس یونیورسٹی کی طرف سے دی ہی نہیں گئی اس کی فیس وصول کرنا سراسر نا انصافی ہے۔ طلبہ کا پہلا مطالبہ یہی ہے کہ ٹیوشن فیس کے علاوہ جو اضافی فیسیں طلب کی جا رہی ہیں وہ فی الفور ختم کی جائیں۔ خصوصاً کورونا لاک ڈاﺅن کے مہینوں کی وہ فیسیں نہ لی جائیں۔ طلبہ کو ملنے والی اس رعایت کی وجہ سے انکا بوجھ کافی ہلکا ہو جائیگا۔
طلبہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ آن لائن تعلیم دینے کی صلاحیت اور اہلیت نہ ہونے کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ نے اس طرح کا فیصلہ لیا۔ جس کی وجہ سے طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس خطے میں انٹرنیٹ کی سروس چند شہری علاقوں میں موجود ہے، وہاں بھی ٹوجی سروس کی سپیڈ پر انٹرنیٹ فراہم ہو رہا ہے۔ طلبہ کو انٹرنیٹ کے خصوصی پیکیجز لینے، لیپ ٹاپ اور دیگر گیجٹس لینے پر بھاری اخراجات کرنے پڑے، تاکہ یونیورسٹی انتظامیہ کی اس ضد کو پورا کیا جا سکے۔ جب اساتذہ گھر سے بیٹھ کر پڑھا رہے ہیں، طلبہ گھروں میں بیٹھے اپنے اخراجات پر انٹرنیٹ سروس لیکر بوسیدہ طریقوں سے تعلیم حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ تو پھر یہ اضافی مد کی فیسیں کیوں وصول کی جا رہی ہیں۔
طلبہ کے احتجاجی دھرنے میں تقریباً تمام طلبہ تنظیموں، سیاسی و سماجی تنظیموں اور سول سوسائٹی تنظیموں نے شرکت کرتے ہوئے طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔ اور طلبہ کے مطالبات کو فوری طورپر منظور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
جموں کشمیر این ایس ایف کے مرکزی صدر ابرار لطیف کی قیادت میں جے کے این ایس ایف کے وفد نے طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کےلئے کیمپ کا دورہ کیا۔ طلبہ کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
جموں کشمیر پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل ریحان سلیم کی قیادت میں وفد نے شرکت کی اورطلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ اسلامی جمعیت طلبہ، ایم ایس ایف (ن) سمیت دیگر طلبہ تنظیموں کے وفود نے بھی دھرنے میں شرکت کی۔
سیاسی و سماجی تنظیموں نے بھی شرکت کرتے ہوئے طلبہ کے مطالبات فوری طور پر حل کرتے ہوئے اضافی فیسیں لینے کا سلسلہ ترک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

