Site icon Daily Mujadala

ہمارا تعلیمی معیار اور نظام

احتشام خان

13مارچ 2020کو کرونا وائرس کی خطرناک صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہماری یونیورسٹی جامعہ پونچھ میں 06اپریل تک چھٹیاں دی گئیں۔ عمومی خیال یہ تھا کہ انہی دنوںمیں کرونا کی بڑھتی ہوئی تباہ کاریاں رک جائیں گی اور حالات معمول کے مطابق ہو جائیں گے مگر تمام تر تجزیات غلط ثابت ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں ہزاروں انسان اس بیماری کا شکار ہوئے اور موت کے منہ میں چلے گئے۔ اس وبائی مرض سے جہاں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ، دوسری طرف تمام شعبہ ہائے زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔ اگر موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں مختلف شعبہ جاتِ زندگی معمول پر آرہے ہیں ۔اور لوگ معمول کی زندگی گزارنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں ۔ اگر بات کی جائے تعلیم کے میدان کی اور بالخصوص تعلیمی اداروں کی تو حالات یکسر مختلف ہیں۔ تعلیمی ادارے بدستور بند ہیں اور ابھی اس بات کا کوئی واضح امکان نہیں کہ تعلیمی ادارے دوبارہ کھلیں گے۔

میں مغرب کے نظام تعلیم کے بارے میں بات نہیں کروں گا کیونکہ وہ لوگ جدت اور آگاہی کی دنیا میں اپنا نام بنائے ہوئے ہیں اور اس غیر یقینی صورتحال میں بھی وہ اپنا معیار تعلیم بلند کیے ہوئے ہیں ۔ مجھے تو شکوہ و حیرت اپنے تعلیمی معیار اور نظام سے ہے۔ لاک ڈاﺅن کے بعد ملک پاکستان اور آزا دکشمیر کے اندر ایک عجیب سی کیفیت تھی اور تمام لوگ اس بات کی فکر لیے ہوئے تھے کہ کیا ان کا کوئی پرسان حال ہے؟؟ عین اسی وقت HECکے بہترین “بد دماغوں”نے آن لائن ایجوکیشن سسٹم کا آغاز کیا۔ ایک ایسا ایجوکیشن سسٹم جو نہ ہی کبھی بنایا گیا اور نہ ہی سوچا گیا مگر اس کا آغاز کر دیا گیا۔ پاکستان اور آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کے طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد سمارٹ فونز اور4Gانٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہے۔ فاٹا ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے سرحدی علاقوں میں 4Gتو دور کی بات موبائل فون کے سگنلز تک نہیں آتے اور عقل کے ماروں نے آن لائن کلاس اور امتحانات کا اعلان کر کے اس قوم کے مستقبل کے معماروں پر احسان عظیم کیا وہ رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔

اس آن لائن ایجوکیشن سسٹم کے خلاف ملک بھر میں طلبہ نے مظاہرے کیے جو اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ طلبہ اس سسٹم کے ساتھ متفق نہیں ہیں اور نہ ہی یہ ان کے لیے سود مند ثابت ہو گا۔ میں بذات خود جامعہ پونچھ کا طالب علم ہوں اور یہ بات بڑی ذمہ داری کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ آن لائن سسٹم نے محض ذہنی دباﺅ کے علاوہ ہمیں کچھ نہیں دیا۔ آن لائن ایجوکیشن سسٹم میں کچھ خرابیاں ہیں جو صرف ایک طالب علم ہی سمجھ سکتا ہے۔ میں خود اس نظام کا ستایا ہوا ہوں اور میں کوشش کروں گا کہ ان خرابیوں کو واضح طور پر بیان کر سکوں۔

ہماری یونیورسٹی میں آن لائن کلاسز کے دو فیزز(Phases)ہیں۔ پہلا فیز وہ ہے جو ٹرائل کی بنیاد پر شروع کیا گیا اور دو ہفتوں کے بعد بند کر دیا گیا۔ اس دوران واٹس ایپ گروپس میں ٹیچرز آڈیولیکچرز بھیجا کرتے تھے۔ جن کا دورانیہ تقریباً40سے 45منٹ کا ہوتا اور وہ وائس نوٹ (voice note) دو سے تین منٹ کے ہوتے اور کل ملا کر 40منٹ کا ایک لیکچر بنتا تھا۔ اور بیک وقت چھ کورسز کے لیکچرز یونہی آتے تھے۔ اول تو یہ کہ وہ وائس نوٹ ڈاﺅنلوڈ ہی نہیں ہوتے تھے۔ وہ بھیجنے والے ٹیچر نے بھی رات کے 12یا 1بجے بھیجے ہوتے کیونکہ دن کو انٹر نیٹ نہیں چلتا اور رات کے ٹائم دھکا لگا لگا کر بمشکل وائس نوٹ سینڈ ہو پاتے تھے۔ پھر جب طالب علم ڈاﺅنلوڈنگ میں کامیاب ہو بھی جاتا تو اس قدر زیادہ تعداد میں وائس نوٹس ایک ایک کر کے سننا تقریباً ناممکن ہوتا تھا۔ اگر کوئی باہمت طالب علم سن بھی لے تو وہ اس Topicکے متعلق سوال نہیں کر سکتا تھا کیونکہ اگر ہر وائس نوٹ میں ایک سوال ہے تو 20کلپس میں 20سوالات ہوتے اور اگر ہر طالب علم بھی ایک ایک سوال کرتا تو کلاس میں طالب علموں کی تعداد 60ہے تو اس طرح ایک وقت میں ساٹھ سوالوں کا جواب نہ تو اساتذہ دے سکتے ہیں نہ طالب علم سمجھ سکتے ہیں۔ اس سے ثابت ہو ا کہ اس آن لائن ایجوکیشن سسٹم کے ذریعے Learningکا عمل بالکل نہیں ہو سکتا اور محض خانہ پوری کے لیے یہ سسٹم لانچ کیا گیا ہے۔ جس کا تعلق تعلیم سے نہیں بلکہ وقت گزارو پالیسی سے ہے۔ اس طرح کے نظام نارمل حالات میں لانچ کیے جاتے ہیں تاکہ ایمرجنسی حالات کا سامنا کیا جا سکے۔ لیکن ہمارے یہاں ٹیکنالوجی سے رغبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے کیمپس کے گیٹ سے اندر اگر کسی کے ہاتھ میں موبائل فون نظر آجائے تو فوراً ضبط کر لیا جاتا اور 500روپے جرمانہ ادا ہونے پر واپس کیا جاتا ہے۔ کئی طلبہ نے اس ڈر سے سمارٹ فون یونیورسٹی میں لانا چھوڑ دیا کیونکہ بٹنوں والے موبائل کا جرمانہ صرف 300روپے ہوتا۔ یہ ہے وہ حقیقت جو عملی میدان میں اپنا اثر چھوڑتی ہے۔ یہی یونیورسٹی اور یہی اساتذہ اب کہہ رہے کہ سمارٹ فون استعمال کرو، ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاﺅ اور مغربی دنیا کی دوڑ کے ساتھ قدم ملاﺅ۔ کیا یہ بات مضحکہ خیز نہیں؟؟

آن لائن ایجوکیشن سسٹم کا دوسرا فیز کچھ ہفتوں کی بریک کے بعد دوبارہ شروع کیا گیا اور حالات وہی تھے۔ ملک کے اندر طالب علموں کے مظاہرے اور جابجا یونیورسٹی انتظامیہ سے ملاقاتیں۔ میںاور میرے ہم مکتب دوست ان تمام تر واقعات کے عینی شاہد ہیں اور مظاہروں سے لے کر ملاقاتوں تک ہم سب شریک رہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ سے جب بھی ملاقات کی گئی تو ان کی طرف سے ایک معصومانہ جواب آیا کہ ہم HECکی پالیسیوں کو Followکر رہے ہیں ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ HECانتظامیہ اس ملک کی غریب عوام کے ٹیکس سے لاکھوں روپے کی تنخواہ لیتی ہے اور ایسی تعلیم دشمن پالیسیاں طلبہ کے لیے بنا کر کیا اپنا کام ٹھیک طریقہ سے کر رہی ہے؟خیر آن لائن ایجوکیشن کا دوسرا Phaseامتحانات لے کر اپنے اختتام کو پہنچا اور دوسرے دن سے ہی واٹس گروپس میں نوٹس بھیجے جا رہے ہیں ۔ ایک طالب علم ہونے کی حیثیت سے شدید ذہنی دباﺅ کی کیفیت میں مبتلا ہوں اور یہی حالات باقی سب کے بھی ہیںآن لائن سسٹم میں کیسے پیپر لیے گئے اور ہم نے کیسے دیے؟ اور ہمیں کس بنیاد پر نمبرات دیے جائیں گے یہ بھی ایک اہم سوال ہے جس کا جواب ہر طالب علم ارباب اختیار میں بیٹھے ہوئے حکمرانوں سے مانگتا ہے۔ میں بالخصوص صدر آزاد حکومت کو مخاطب کرنا چاہتا ہوں۔ جنہوں نے پوسٹ گریجویٹ کالج راولاکوٹ کے ہال میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اچھا لیڈر صرف وہی ہے جو واسکٹ پہنے اور اس کی جیب میں رومال ڈالے۔ جناب اس رومال سے ہاتھ صاف کر کے ذرا عملی میدان میں آئیے اور طالب علموں کے مسائل حل کیجئے۔ ان طالب علموں کے مسائل جن سے ہمیشہ آپ کا شکوہ رہتا ہے کہ مغربی طالب علموں کے مقابلے کا معیار نہیں ہے۔ انہیں انگریزی نہیں آتی۔

خیر یہ تھے وہ مسائل جو اس آن لائن ایجوکیشن سسٹم سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ امتحانات اس لیے ہوئے تاکہ طالب علموں سے آنے والی سمسٹر کی فیس طلب کی جائے اور اب HECکی طرف سے فیس کی ادائیگی کے نوٹس جاری ہو رہے ہیں۔

میں نے ان تمام مسائل کی نشان دہی کی ہے جو مجھے اس سسٹم کے ذریعے پیش آئے۔ اب آتے ہیں حل کی طرف کہ ان تمام مسائل کا حل کیا ہے؟

بنیادی مسئلہ 4Gانٹرنیٹ اور سمارٹ فونز کا ہے۔ حکومت وقت تمام طلبہ و طالبات کو یہ سہولت مہیا کرے اور اس بات کو بھی یقنی بنایا جائے کہ کشمیر کے سیز فائز لائن سے متصل علاقوں میں بھی ابلاغ کی سہولتیں مکمل مہیا کی جائیں ورنہ ان علاقوں سے زیر تعلیم نوجوانوں کی بڑی تعداد تعلیم سے محروم ہو کر رہ جائے گی جس کا ازالہ ممکن نہ ہو گا۔ اگر حکومت وقت کے پاس وسائل کی کمی ہے تو کم از کم موبائل نیٹ ورک کمپنیز کو پابند کیا جائے کہ جو وہ صارفین سے نام نہاد 4Gانٹرنیٹ کے چارجز لے رہے ہیں انہیں واقعی4Gسپیڈمہیا کی جائے۔ 4Gکے نام پر 2Gسپیڈ کے ڈرامے کو بند کیا جائے۔ اس کے علاوہ دوسرا کام جو حکومت کے فی الفور کرنے کا ہے وہ سیز فائر لائن کے قریبی علاقوں میں سروس مہیا کرنا ہے۔ ان علاقوں میں SCOکے علاوہ دیگر سروسز بھی مہیا کی جائیں ۔ SCOکے بے کار سگنلز اور مہنگے ریٹس طالب علموں کی ذہنی اذیت کا باعث بن رہے ہیں۔ اگر ان علاقوں میں پرائیوٹ نیٹ ورکس کو بھی کام کرنے دیا جائے تو طالب علموں کو مزید سہولت میسر آئے گی۔ جو بھی اقدامات کیے جائیں وہ تعلیم دوست ہونے چاہیے نہ کہ طالب علم دشمنی یا ڈنگ ٹپاﺅ پالیسی۔

اگر HECاور حکومت نے موجودہ روش برقرار رکھی تو اس سے ایک طرف مستقبل کے معماروں کا نقصان ہو گا اور دوسری طرف طالب علم اپنے حق کے لیے سڑکوں پر آئیں گے۔ جو کہ اس صورتحال میں انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنے گا۔ مسند اقتدار پر بیٹھے حکمران طبقے سے گزارش ہے کہ وہ علم دوست پالیسیاں بناتے ہوئے عملی کردار ادا کریں۔

Exit mobile version