پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر راولاکوٹ میں قرار داد الحاق پاکستان کی حامی اور مخالف سیاسی جماعتوں کے مابین تصادم کے دوران متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
تصادم انیس جولائی کو دن ساڑھے بارہ بجے کے قریب پوسٹ گریجویٹ کالج کے سامنے اس وقت ہوا جب جموں کشمیر پیپلزپارٹی کے سربراہ و ممبر اسمبلی سردار حسن ابراہیم کی قیادت میں الحاق پاکستان کے حق میں ریلی کالج کے سامنے سے گزر رہی تھی۔ جبکہ کالج کے سامنے موجود جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی اور این ایس ایف کے ایک گروپ کے کارکنانالحاق پاکستان کی قرارداد، معاہدہ کراچی اورایکٹ 74ءکے خلاف ریلی نکالنے کی تیاری کر رہے تھے،اس ریلی میں لبریشن فرنٹ کے ضلعی صدر سمیت دیگر کارکنان بھی شریک تھے۔
نیشنل عوامی پارٹی کے رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ ممبر قانون ساز اسمبلی اور سربراہ جماعت کی قیادت میں ایک منصوبہ بندی کے تحت پرامن جلوس کے شرکاءپرحملہ کیا گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں سابق صدراین ایس ایف توصیف خالق شدید زخمی ہوئے ہیں، جبکہ دیگر درجن بھر کارکنان کو چوٹیں آئی ہیں۔ جبکہ جموں کشمیر پیپلزپارٹی کے رہنماﺅںنے اسے افسوس ناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کارکنان ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے گتھم گتھا ہو گئے۔انہوں نے اس ناخوشگوار واقعے کی ذمہ داری پولیس پر عائد کی ہے۔
پولیس کے مطابق جموں کشمیر پیپلزپارٹی کی ریلی کالج کے سامنے سے گزر رہی تھی تو دونوں گروپوں کے کارکنان ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے گتھم گتھا ہو گئے، پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے کارکنان کو ایک دوسرے سے الگ کیا اور تصادم کو کنٹرول کیا۔ پولیس کے مطابق دونوں اطراف سے افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم ابھی تک پولیس نے واقعے کی رپورٹ درج نہیں کی۔
جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما اظہر کاشر نے مجادلہ سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ہماری پر امن ریلی پر ایک منصوبہ بندی کے تحت حملہ کیاگیا۔ ممبر قانون ساز اسمبلی حسن ابراہیم کی قیادت میں جموں کشمیر پیپلزپارٹی کے کارکنان ڈنڈے اور لاٹھیاں اٹھا کر لائے تھے۔ جبکہ پولیس اور انتظامیہ نے بھی اس معاملہ میں انکا ساتھ دیا۔ انکا کہنا تھا کہ نیشنل عوامی پارٹی اور این ایس ایف کے رہنماﺅں نے انکی ریلی کو راستہ دینے کی وجہ سے اپنے لوگوں کو کالج گیٹ کے سامنے روکا ہوا تھا لیکن جموں کشمیر پیپلزپارٹی کے کارکنان نے ان پر حملہ کر دیا۔ جس کی وجہ سے سابق صدر این ایس ایف سردار توصیف خالق شدید زخمی ہوئے ہیں، جبکہ دیگر درجن بھر کارکنان کو چوٹیں آئی ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ توصیف خالق کے سر میں چوٹیں لگی ہیں، انہیں طبی امداد کےلئے شیخ زید ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
دوسری جانب جموں کشمیر پیپلزپارٹی ترجمان سردار نوید حیات نے مجادلہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک انتہائی ناخوشگوار واقعہ تھا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اس کی تمام تر ذمہ داری پولیس پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ممبر اسمبلی و سربراہ جماعت حسن ابراہیم نے کارکنان کو بہت روکنے کی کوشش کی، دونوں اطراف سے کارکنان ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے، جس کی وجہ سے تصادم ہوا۔ تاہم یہ تصادم معمولی تھا، کوئی نقصان نہیں ہوا۔ تاہم انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ کوئی منصوبہ بندی اس میں شامل نہیں تھی۔ دو جلوس آمنے سامنے ہوئے اور نعرے بازی کے دوران کارکنان جذباتی ہو گئے جس کی وجہ سے معمولی تصادم ہوا ہے۔ایسا ہونا نہیں چاہیے تھا، باشعور سیاسی کارکنان کو اس طرح گتھم گتھا نہیں ہونا چاہیے۔ سربراہ جماعت نے اس بات کا سخت نوٹس لیا ہے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی بھی کی جائے گی۔

