بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کو بھارت کے مرکز کے زیر انتظام دو الگ الگ علاقوں میںتقسیم کرنے کے بعد بی جے پی حکومت نے جہاںمختلف فرقہ وارانہ قوانین کا نفاذ کیا ہے وہیں گرمائی دارالحکومت سرینگر میںسیکرٹریٹ منتقل نہ کر کے جموںکشمیر یوٹی(بھارتی زیر انتظام جموںکشمیر کا علاقہ) میں جموںاور کشمیر ویلی کے مابین پائی جانیوالی نفرتوںکو بڑھاوادینے کی کوشش کی ہے. کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ سمیت دیگر سیاسی قائدین نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے دربار منتقلی کی سابقہ روایت کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ہے.
رواں سال دس اپریل کو گورنر یوٹی جموںکشمیر کی جانب سے حکم نامہ جاری کیا گیا تھا کہ دربار منتقلی کا عمل چار مئی کو ہوگا لیکن کورونا وباء کی صورتحال کے پیش نظر جو جہاںسے ہے وہیں سے کام کرے گا کی بنیاد پر ویلی سے تعلق رکھنے والے ملازمین کشمیر سیکرٹریٹ جبکہ جموںسے کام کرنے والے جموںسیکرٹریٹ سے کام کریں گے. اس طرح جموںسیکرٹریٹ عملی طور پر فنکشنل رکھا گیا جبکہ سرینگر سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو سرینگر سے کام کرنے کی اجازت تھی.
تاہم انگریزی جریدے گریٹر کشمیر کی رپورٹ کے مطابق رواںماہ کی سترہ تاریخ کو دربار منتقلی کا شیڈول جاری کیا گیا ہے. جس کے مطابق صرف انیس محکمہ جات کو گرمائی دارالحکومت سرینگر منتقل کیا جائے گا جبکہ اٹھارہ محکمہ جات جموںسے ہی کام کریںگے.
گریٹر کشمیر کی رپورٹ کے مطابق کچھ محکمہ جات ایسے بھی ہیںجو بیک وقت دونوںجگہوںسے کام کرینگے. دربار منتقلی کا یہ عمل چھبیس جون کو شروع ہو گا. جبکہ منتقل ہونے والی محکمہ جات سرینگر میںچھ جولائی سے دوبارہ کام کا آغاز کرینگے .
تاہم وادی میںاس اقدام کے خلاف ممکنہ احتجاج کا راستہ روکنے کےلئے انٹرنیٹ سروس کی معطلی کا نوٹیفکیشن بھی سترہ جون کو ہی جاری کر دیا گیا تھا تاکہ ممکنہ احتجاج کا راستہ روکا جا سکے.
سرینگر منتقل ہونے والے انیس محکمہ جات میںجنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ، لاء ڈیپارٹمنٹ، انصاف و پارلیمانی امور، سول ایوی ایشن، کلچر، اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ، فنانس ڈیپارٹمنٹ، فلوریکلچر، ہائیر ایجوکیشن، ہاسپیٹیلٹی اینڈ پروٹوکول، انڈسٹریز اینڈ کامرس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، لیبر ایمپلائمنٹ، سوشل ویلفیئر، سکول ایجوکیشن، سکل ڈویلپمنٹ، ٹورازم اور یوتھ، سروسز و کھیل کے محکمہ جات شامل ہیں.
جبکہ جو اٹھارہ محکمہ جات جموںسے کام کریں گے، ان میں، محکمہ داخلہ، پلاننگ، ڈویلپمنٹ و مانیٹرنگ، پاور ڈویلپمنٹ، ریونیو ڈیپارٹمنٹ، رورل ڈویلپمنٹ اینڈ پنچائتی راج، ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ، قبائلی امور، انیمل، شیپ ہسبنڈری اینڈ فشریز، اے آر آئی اینڈ ٹریننگ، کوآپریٹوز، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ریلیف اینڈ ری ہیبیلیٹیشن اینڈ ری کنسٹرکشن، الیکشن، فوڈ، سول سپلائیز اینڈ کنزیومر افیئرز، فاریسٹ، ایکولوجی اینڈ انوائرنمنٹ، اربن ڈویلپمنٹ، انفارمیشن، جل شکتی کے محکمہ جات شامل ہیں.
ایگریکلچر پروڈکشن اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے محکمہ جات دونوں دارالحکومتوں سے آپریٹ کرینگے.
واضح رہے کہ اس سے قبل جموںکشمیر کی حکومت گرمائی اور سرمائی دارالحکومت کو استعمال کرتی آئی ہے. دسمبر سے مئی تک دارالحکومت جموں میںجبکہ مئی سے دسمبر تک سرینگر میںرہتا تھا. یہ روایت جموںکشمیر کے شخصی حکمران مہاراجہ گلاب سنگ نے 1872ء میںموسمی سختیوںکے پیش نظر ڈالی تھی. جموںجو گرم مرطوب علاقے پرمشتمل ہے جبکہ وادی کشمیرٹھنڈا علاقہ ہے. اس لئے گرمیوں میںسرینگر اور سردیوںمیںجموںدارالحکومت کےلئے مقرر کیا گیا تھا.
دوسری جانب سیاسی و سماجی قائدینکی جانب سے بی جے پی حکومت کے اس فیصلے پر کڑی کی گئی ہے اور اسے دونوںعلاقوںکے درمیان نفرتوں اور فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے کی ایک فاشسٹ حرکت قرار دیا جا رہا ہے.
سابق ممبر اسمبلی اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ کے رہنما یوسف تاریگامی نے جموںکشمیر انتظامیہ کے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جموںاور ویلی کے مابین پائی جانیوالی دوریوںکو بڑھانے کا ایک اقدام قرار دیا ہے. اپنے ایک بیان میں انہوںنے کہا کہ ڈیڑھ صدی سے کی جانیوالی دربار منتقلی کی یہ مشق اس خطے میںبسنے والے مختلف نسلوں اور گروہوںکے لوگوںکے مابین اتحاد و اتفاق کی علامت کے طور پر دیکھی جاتی تھی.
انکا کہنا تھا کہ دونوںخطوںکے لوگوںکے مابین پہلے ہی کافی غلط فہمیاں اور دوریاںموجود ہیں. حکومت کے اس اقدام سے پیر پنجال کے دونوں اطراف دوریوںکی خلیج میںمزید اضافہ ہوگا. لہٰذا اس فیصلہ کو فی الفور واپس لیتے ہوئے سابقہ روایت کے مطابق دارالحکومت کو سرینگر منتقل کیا جائے.
جموںکشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدر جی این مانگا نے کشمیر نیوز سروس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی حکومت اس طرح کے اقدامات کے ذریعے سے سرینگر کو ڈس ایمپاور کر رہی ہے. اپریل میں کورونا وائرس کا بہانہ بنا کر دربار منتقل نہیںکیا گیا جبکہ اب دارالحکومت کے اہم محکمہ جات کو جموںمیں ہی رکھنے کا فیصلہ کر کے بی جے پی حکومت نے سرینگر اور جموںکے مابین نفرت اور دوریاںپیدا کرنے کی کوشش کی ہے. انکا کہنا تھا کہ بی جے پی حکومت ہمیشہ سے ہی وادی اور جموںمیںتقسیم پیدا کرنے کی کوششوںمیںمصروف رہی ہے. انہوںنے مطالبہ کیا کہ سابقہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے دارالحکومت کو سرینگر منتقل کیا جائے.

