بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے پنجورہ علاقہ میں ایک آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور مشتبہ عسکریت پسندوں کے درمیان دوران شب تصادم میں چار عسکریت پسند مارے گئے ۔مارے جانے والے عمر دھوبی،رئیس خان ،ثقلین امین ،وکیل احمد نائکو کا تعلق حزب المجاہدین سے بتایا جارہا ہے۔گزشتہ چوبیس گھنٹے میں آپریشن کے دوران مجموعی طور پر 9کشمیر ی نوجوان مارے گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے ساوتھ ایشین وائر کے مطابق عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع کے بعد پولیس، ارمی کی 44 آر آر اور سی آر پی ایف نے پنجورہ علاقہ میں تلاشی مہم شروع کر دی تھی۔ جب سکیورٹی فورسز نے ایک مخصوص مقام کی جانب پیش قدمی کی تو وہاں موجودمبینہ عسکریت پسندوں نے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ شروع کردی۔
اتوار کوجنوبی کشمیر کے شوپیان ضلع کے ریبن امام صاحب علاقے میں ایک آپریشن کے دوران فورسز اہلکاروں اور عسکریت پسندوں کے درمیان جاری جھڑپ میں حزب المجاہدین کے ایک اعلی کمانڈر اویس ملک سمیت 5کشمیری عسکریت مارے گئے تھے۔
فورسز اہلکاروں کی ٹیم میں فوج کی 1 آر آر، سی آر پی ایف اور جموں و کشمیر پولیس شامل تھی۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ریبن علاقے میں 6عسکریت پسندوں کے چھپے ہونے کی مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے پورے علاقہ کو محاصرے میں لے کر تلاشی کارروائی شروع کردی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب المجاہدین کے ایک اعلی کمانڈر اویس ملک علاقے میں موجود تھے۔وہ کولگام کے رہائشی ہیں۔جبکہ سید شاکر نامی ایک اور عسکریت پسند نوجوان بھی ان میں شامل تھے۔
عسکریت پسندوں اورسکیورٹی فورسز کے مابین پانچ گھنٹوں سے بھی زیادہ وقت سے جھڑپ جاری رہی۔
گذشتہ 28 روز میں حزب المجاہدین کے 4 کمانڈر مارے گئے ہیں جن میں ریاض نائکو ، ڈاکٹر سیف اللہ ، جنید احمد صحرائی اور فاروق احمد بھٹنالی شامل ہیں۔

