پاکستان کے زیر انتظام جموںکشمیر کے تمام انٹری پوائنٹس کورونا ہیلتھ ایمرجنسی کے پیش نظر بند کئے گئے ہیں. تاہم پونچھ ڈویژن کو پاکستان کےساتھ ملانے والے آزاد پتن انٹری پوائنٹ پر پولیس اور انتظامیہ کے ذمہ داران کی جانب سے دو سے پانچ ہزار روپے جرمانہ مقرر کرتے ہوئے گاڑیوںکو داخلے کی چھوٹ دیئے جانے کا انکشاف ہوا ہے.
یہ بات اس وقت سامنے آئی جب تین روز قبل کہوٹہ حویلی سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے بذریعہ آزاد پتن فارورڈ کہوٹہ جانے کی کوشش کی. مذکورہ شخص کو چار گھنٹے تک آزاد پتن پر روکے رکھا گیا، رات کا اندھیرا چھا جانے کے بعد روکی گئی تمام گاڑیوں کو دو سے پانچ ہزار روپے جرمانے کرنے کے بعد داخلے کی اجازت دے دی گئی. مذکورہ شخص کے مطابق انٹری پوائنٹ پر انکا محکمہ صحت کے کسی شخص نے معائنہ نہیںکیا.
مذکورہ شخص، جو ایک کار پر سوار تھا، نے دو ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کے دوران ویڈیو بھی بنا لی. مذکورہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار اور کار سوار جرمانے کی رقم کم کرنے پر بحث و تکرار کر رہے ہیں اور بالآخر کار سوار دو ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کے بعد وہاں سے روانہ ہو جاتا ہے.
انٹری پوائنٹس پر جرمانے کے بعد گاڑیوںکو داخلے کی اجازت دینے سے متعلق ڈی آئی جی پونچھ رینج سردار راشد نعیم سے رابطہ کیا گیا تو انکا کہنا تھا کہ کسی انٹری پوائنٹ پر جرمانے کرنے کی کسی مجسٹریٹ کو اجازت نہیںہے. بلااجازت کوئی بھی گاڑی داخل نہیں ہونے دی جائے گی. تاہم مذکورہ ویڈیوز دیکھنے کے بعد ڈی آئی جی پونچھ رینج نے فوری انکوائری کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی ہے. ڈی آئی جی پونچھ رینج نے ویڈیو بنانے والے شخص کو رابطہ کر کے شکایت درج کروانے کی ہدایت کی ہے.
انٹری پوائنٹس سے جرمانے وصول کر کے گاڑیوںکو داخلے کی اجازت دیئے جانے سے متعلق ڈپٹی کمشنر پونچھ ارشد محمود جرال سے جب معلومات لی گئیں تو انہوںنے ویڈیوز طلب کیں اور ویڈیوز دیکھنے کے بعد کسی قسم کے رد عمل کا اظہار نہیںکیا.
پاکستان کے زیر انتظام جموںکشمیر کے تمام شہروںمیں گزشتہ ہفتے لاک ڈاؤن میں نرمی کئے جانے کے بعد کاروباری سرگرمیوںکا آغاز کر دیا گیا تھا. لاک ڈاؤن میں نرمی کا یہ سلسلہ آئندہ ہفتے بھی جاری رہے گا. لیکن لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد راولاکوٹ سمیت مختلف شہروں میں کام کرنے والے خیبرپختونخوا، پنجاب اور دیگر صوبوں کے تاجر اپنے آبائی علاقوںکو روانہ ہو گئے تھے. اب انٹری پوائنٹس سے جرمانے لیکر لوگوںکو داخل ہونے کی اجازت کا سہارا لیکر وہ لوگ بھی واپس اپنے کاروبار کرنے کےلئے مختلف شہروںمیں داخل ہو سکتے ہیں. جس وجہ سے کورونا وائرس کی وباء کے پھیلنے کا خدشہ ہو سکتا ہے.
سیاسی و سماجی شخصیات نے فوری طور پر آزاد پتن پر مامور پولیس اور انتظامی اہلکاران اور افسران کو معطل کر کے انکوائری کرنے اور تمام انٹری پوائنٹس پر سرکاری طور پر داخلے سے متعلق ہدایات آویزاں کرنے اور موقع پر شکایات درج کرنے کےلئے کنٹرول روم کے نمبرات بھی آویزاںکرنے کا مطالبہ کیا ہے.

