بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے زیرانتظام جاری احساس پروگرام کےلئے نادرا ڈیٹا بیس کے فلٹرز کی شفافیت بھی داغدار ہو چکی ہے. پروگرام کے تحت متاثرین لاک ڈاؤن کےلئے دی جانیوالی مالی امداد سے مستفید ہونے والے سرکاری ملازمین اور کاروباری افراد کو سزائیں دیئے جانے کے احکامات تو جاری کر دیئے گئے ہیںلیکن حقداروںتک یہ رقم پھر بھی نہیںپہنچ سکے گی.
ڈیٹا بیس کے فلٹرز سے متعدد سرکاری ملازمین کو بھی حقدار قرار دیا گیا ہے. اس کے علاوہ کچھ کیسز میں بھاری ٹیکس دینے والے کاروباری افراد کو بھی حقدار قرار دیا گیا ہے. اس کے علاوہ متعدد کیس ایسے سامنے آئے ہیں جن میںحقداروں کے میسجز دوسرے افراد کے فون نمبرز پر بھیجے گئے ہیں، جن کو شناختی کارڈ نمبر مماثل نہ ہونے کی وجہ سے ادائیگی نہیںہو سکی اور انہوںنے کیمپ دفاتر کے سامنے احتجاج بھی کیا ہے.
متعدد ویڈیوز ایسے بھی سوشل میڈیا پر شیئر ہوئی ہیںجن میںحقداروںکو رقم وصول کرنے کے پیغامات تو موصول ہوئے لیکن انکے اپنے شناختی کارڈ نمبر پر رقم آنے کے باوجود انکے فنگر پرنٹس میچ نہیںکر سکے جس کی وجہ سے انہیںرقم وصول نہیںہو سکی. انہیںیہ وجہ بتائی گئی کہ انکے عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے انکے فنگر پرنٹس صاف ہو چکے ہیںجس کی وجہ سے انکی نادرا ریکارڈ سے تصدیق نہیںہو سکتی اور وہ رقم حاصل نہیںکر سکتے.
آئی ٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ نادرا کے فلٹرز کا جو سافٹ ویئر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے کیا گیا ہے وہ اپ ڈیٹڈ نہیںہے. جس کی وجہ سے گزشتہ پانچ ، چھ سال کے دوران جو نادرا ریکارڈ اپ ڈیٹ ہوا ہے وہ ریکارڈ اس سافٹ ویئر کے پاس نہیںہے. اسی وجہ سے جو لوگ گزشتہ پانچ سے چھ سال کے دوران ملازمتیںحاصل کر چکے ہیں، یا پھر انہوںنے کوئی کاروبارشروع کیا، یا انہوںنے فون نمبر تبدیل کیا جو کسی دوسرے کے نام پر رجسٹر ہو چکا ہے یہ تمام ریکارڈز بی آئی ایس پی کو نادرا کے فراہم کردہ سافٹ ویئر میںاپ ڈیٹ نہیںہو سکا ہے. جس کی وجہ سے موجودہ وقت جب احساس پروگرام کےلئے فلٹرزلگائے گئے تو ایسے تمام افراد حقدار قرار پائے جنہوں نے گزشتہ پانچ سال کے دوران ملازمت اختیار کی، یا پھر اچھا کاروبارشروع کرنے میںکامیاب ہوئے.
اس کے علاوہ ایسے افراد کے نمبرز پر پیغامات ارسال کئے گئے جنہوں نے گزشتہ پانچ سالوںکے دوران فون نمبرز تبدیل کئے اور کسی بی آئی ایس پی کے متعین کردہ معیار پر پورا اترنے والے شخص کے زیر استعمال موبائل فون نمبر انہوںنے اپنے نام پر رجسٹر کروا لیا. اب انہیں بی آئی ایس پی احساس پروگرام کا پیغام تو موصول ہوا لیکن انکا شناختی کارڈ نمبر اس پیغام میں درج نہیںتھا بلکہ اس متعلقہ حقدار کا شناختی کارڈ نمبر درج تھا جس کے استعمال میںپانچ چھ سال پہلے وہ فون نمبر تھایا نادرا کے سابق ریکارڈ میںجس کے نام پر وہ فون نمبر رجسٹرڈ ہے.
بی آئی ایس پی ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میںبھی جب فلٹرز لگانے کے بعد لوگوںکو جن بی آئی ایس پی کے حقداروں کی فہرست سے باہر نکالا گیا ان میںسے اکثر ایسے بھی تھے جنہوںنے رقوم واپس کرنے کی کوشش بھی کی لیکن انہیںادارے کی طرف سے کہا گیا کہ واپسی کا ہمارے پاس کوئی قانون یا طریقہ کار موجود نہیںہے لہٰذا آپ اپنی طرف سے کسی دوسرے حقدار کویہ رقم دے دیں. ان لوگوںنے ایسا ہی کیا لیکن اس کا ادارے کے پاس کوئی ریکارڈ نہیںتھا، لیکن بعد ازاںجب فلٹرز لگے تو ان لوگوںکی عزتیں سوشل میڈیا پر اچھالی گئیں.
اس کے علاوہ بی آئی ایس پی کے درجنوںملازمین ایسے ہیںجنہیں نوکریوں سے ہاتھ صرف اس لئے دھونا پڑا کہ انہوںنے ملازمت اختیار کرنے سے قبل بی آئی ایس پی کی امدادی رقم سے استفادہ حاصل کیا تھا لیکن ملازمت اختیار کرنے کے بعد انہوںنے رقم وصول نہیںکی تھی. مذکورہ ملازمین کی کسی مجاز فورم پر کوئی شنوائی بھی نہیںہوئی، انہیںنوکریوں سے فارغ کرنے کے بعد موجودہ حکومت نے اپنے من پسند افراد کو بھرتی کرنے کا منصوبہ بنایا.
ماہرین کا اس سلسلہ میںکہنا ہے کہ یہ ڈیٹا بیس اس وقت کامیاب اور شفاف ہو سکتے ہیںکہ جب تمام سافٹ ویئرز کو آن لائن اور ہم آہنگ کیا جائے گا، نیٹ ورکنگ کے ذریعے تمام تر ڈیٹا بیس کو فنگر ٹپس پر اپ ڈیٹ کئے جانے کی سہولت دستیاب ہو گی. پاکستان میںنادرا کا ڈیٹا بیس آن لائن موجود ہے جس کو استعمال کرتے ہوئے محدود معلومات کے حامل سافٹ ویئر تیار کئے گئے ہیںجو نادرا ڈیٹا بیس کو اپ ڈیٹ کرنے کے ساتھ خودکار طریقے سے اپ ڈیٹ نہیںہوسکتے، اور نہ ہی کوئی محکمہ یا ادارہ مذکورہ سافٹ ویئرز کو متواتر اپ ڈیٹ کرتا ہے اور نہ ادارے اس کی اہلیت رکھتے ہیںجس کی وجہ سے ڈیٹا بیس کے نام پر اکثر جگہوںپر حقدار محروم رہ جاتے ہیں.
ماہرین نے اس سلسلہ میںیہ تجویز دی ہے کہ تمام تر محکمہ جات کے ڈیٹا بیس تیار کرتے ہوئے انہیںمرکزی سرورز کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے تاکہ کسی ایک بھی محکمہ سے اپ ڈیٹ ہونے والا ریکارڈ تمام تر ڈیٹا بیس میںخودکار طریقے سے اپ ڈیٹ ہو جائے، تاکہ مختلف مواقع پر آن لائن ڈیٹا بیس کو شفاف قرار دیکر عملدرآمد کئے جانے کی صورت میں حقداروں کو حق سے محروم ہونے سے بچایا جا سکے.

