پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر کے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدرنے ایک بار پھر پاکستانی حکومت سے ”آزاد حکومت” کا کردار متعین کر کے کشمیریوںکو بین الاقوامی فورم پر اپنا مقدمہ پیش کرنے کا موقع دیئے جانے کا مطالبہ کیا ہے.
محکمہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ ”آزاد حکومت” ریاست جموں و کشمیر کے کردار کو متعین کر کے کشمیریوں کو اپنا مقدمہ خود بین الاقوامی فورموں پر پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حمایت کو کشمیری کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔کشمیریوں نے بھارت کے 5 اگست کے اقدامات کو تسلیم نہیں کیا ہے۔بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔ہندوستان کشمیریوں کے جذبے کو کبھی شکست نہیں دے سکتا۔کشمیری یا تو ختم ہو جائیں گے یا بھارت کو ختم کر کے دم لیں گے۔
بھارت امریکہ کا حلیف ہے ہمیں اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوے اپنی پالیسیاں بنانا ہونگی۔بھارت کا اصل نشانہ پاکستان ہے کیونکہ پاکستان جنوبی ایشیاءمیں بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے ان خیالات کا اظہار پنج ستارہ ہوٹل اسلام آباد میں انٹرنیشنل کشمیر سیمینار سے خطاب کرتے ہوے کیا جس کا اہتمام انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز اسلام آباد نے پالیسی اینڈ ریسرچ فورم کے اشتراک سے کیا تھا۔
انٹرنیشنل کشمیر سیمینار میں دوسروں کے علاوہ سابق وفاقی وزیر جاوید جبار ،چئیرمین آئی پی ایس خالد رحمان ،پرنسپل سیکرٹری ٹو پی ایم راجہ امجد پرویز ،سیکرٹری لبریشن سیل منصور قادر ڈار ،بین الاقوامی دانشوروں،محققین ،صحافیوں اور سول سوسائٹی کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے اپنے اہم خطاب میں کہا کہ کشمیریوں نے بھارت کی پیلٹ گنز ،نسل کشی ،ٹارچر ،اغوا ،دوران حراست تشدد اور اموات سب کا مقابلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو مودی کی سفاکیت کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ریاست کشمیر کو تقسیم کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور جنیوا کنونشن کے تحت بھارت کے خلاف کشمیریوں کی جدوجہد آزادی جائز ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج نے ایل او سی پر بھی سویلینز کا جینا مشکل بنا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کنٹرول لائن پر مسلسل گولہ باری کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بین الاقوامی برادری کو بتا دیا ہے کشمیری بھارت کے اقدامات کو تسلیم نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو خود اپنا مقدمہ پیش کرنے کا موقع دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں دنیا کی حقیقتوں کو تسلیم کرنا پڑے گا ہمیں بھارت کے پروپیگنڈے کا توڑ کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں پر مکمل اعتماد رکھے ۔کشمیری بھارت کو شکست دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیریوں پر اعتبار کیا جائےاور آزاد حکومت کا کردار متعین کیا جائے کیونکہ کشمیر ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا بارہ سے تیرہ ملک ہیں جنہیں کشمیر پر متحرک کیا جائے جن میں پی فائیو اور ایشیائ اور یورپ کے چند ممالک شامل ہیں جو پالیسی ساز ہیں اور جن کے دارلحکومتوں میں دنیا کی پالیسیاں بنتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت امریکہ کا حلیف ہے ہمیں یہ حقیقت سمجھنی چاہیے اور پالیسی ساز اداروں کو چاہیے کہ وہ اس حقیقت کو مدنظر رکھ کر آگے بڑھیں۔انہوں نے کہا کہ یورپی یونین سمیت عالمی اداروں کو اس حوالے سے متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔

