Site icon Daily Mujadala

بھارت نے پاکستانی کشمیر میں آباد حریت پسند رہنماؤں کی جائیدادیں‌ضبط کردیں

بھارتی زیر انتظام جموں‌ کشمیر میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے جنوبی کشمیر میں 2 حریت پسند رہنماؤں کی جائیدادیں ضبط کرلی ہیں ۔

خبر رساں ادارے ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے پہلگام کے علاقے میں دو حریت پسندرہنماؤں کی غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کیں۔یہ رہنما پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر میں مقیم ہیں۔

جموں و کشمیر پولیس کے ہمراہ ای ڈی کی ایک ٹیم نے امیر خان کی 9 کنال اراضی ضبط کی جوپہلگام کے علاقے سرگوفواڑہ کے لیور گاؤں میں واقع تھی۔

دوسری ضبط شدہ تین کنال اراضی خورشید احمد کی ہے ، وہ بھی پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر میں مقیم ہیں۔ان رہنماؤں پر الزام ہے کہ وہ کشمیر میں عسکریت پسندوں کی مالی اعانت میں ملوث ہیں۔

واضح رہے کہ مسلح عسکریت کے آغاز کے بعد متعدد افراد اور پورے خاندان ہجرت کر کے پاکستانی زیر اتنظام جموں‌کشمیر میں آئے تھے، لیکن زیادہ تعداد ان افراد کی تھی جو عسکریت پسندی کی تربیت لینے کےلئے یہاں‌آئے تھے. تربیت حاصل کرنے اور بھارتی زیر انتظام جموں‌کشمیر میں‌مسلح شورش کا حصہ بننے والے ان نوجوانوں کے لئے اپنے علاقوں‌میں‌جانا ناممکن ہو چکا تھا، اس لئے انہوں‌نے پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کو ہی اپنا مسکن بنا لیا.

کچھ لوگ پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی آباد ہوئے، لیکن اپنے علاقے میں جانے، اپنے عزیز و اقارب سے ملنے کی خواہش ان کے دلوں‌میں‌موجود ہے.

دوسری طرف بھارت نے گھر واپسی پروگرام کا اعلان کر کے بھی کچھ لوگوں کو گرفتار کیا، تشدد کا نشانہ بنایا اور بے یارومددگار چھوڑ دیا. اب بھارت نے ان لوگوں کو زیر بار کرنے اور بالخصوص عسکریت کی نئی شروعات سے نوجوانوں‌کو روکنے اور ڈرانے کےلئے اس طرح‌کے اقدامات شروع کئے ہیں کہ جن لوگوں نے عسکریت میں حصہ لیا اب ان کی جائیدادیں‌بھی ضبط کئے جانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے.

Exit mobile version