بھارتی زیر انتظام جموںکشمیر میں بھارتی فیصلے کے خلاف ممکنہ احتجاج کو روکنے کےلئے جمعہ کو پابندیوںمیں مزید سختی کر دی گئی تھی، جبکہ جموں میںبھارت فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا. تشکیل نو بل کو فوری واپس لینے اور خصوصی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا.
جمعہ کے پیش نظر سرینگر میں پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
سرینگر کے حساس علاقوں میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے، وادی میں مسلسل انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس سروسز پر جاری پابندی سے مختلف شعبہ ہائے حیات سے وابستہ لوگوں بالخصوص صحافیوں، طلبا، ای کامرس سے وابستہ لوگوں اور تاجروں کو درپیش مشکلات و مسائل ہر گزرتے دن کے ساتھ پیچیدہ ہورہے ہیں۔
مرکزی حکومت کی طرف سے دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کی تنسیخ اور جموں وکشمیر کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کرنے کرنے کے فیصلے کے خلاف وادی میں غیر اعلانیہ ہڑتالوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا جو ابھی جاری ہے۔
گزشتہ روز سرینگر کے علاوہ بیشتر اضلاع کے بازار صبح سے دن کے ایک بجے تک کھلے رہے ۔سڑکوں پر نجی ٹرانسپورٹ کی بھر پور نقل وحمل جاری رہی جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی جزوی طور پر سڑکوں پر دیکھا گیا۔سڑکوں پر اگرچہ منی بسیں نمودار ہونا شروع ہوئی ہیں.
تاہم بڑی بسیں سڑکوں سے غائب ہیں، بڑی بسوں کی بڑی تعداد سیکورٹی فورسز کی تحویل میں ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق سیکورٹی فوسز اہلکار ان ہی بسوں کو استعمال کرتے ہیں۔
دوسری طرف جموں و کشمیر کے سرمائی دارالحکومت جموں میں جمعہ کے روز انڈین نیشنل کانگریس کے کارکنوں نے ریاستی یوتھ صدر ادیو سنگھ چب کی صدارت میں جموں و کشمیر کو مرکز کے زیرانتظام علاقہ بنانے کے خلاف احتجاج کیا۔
احتجاج کرنے والے کانگریس یوتھ کارکنوں نے مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی کے خلاف نعرہ بازی کی اور ریاست کو یونین ٹریٹری میں تبدیل کرنے کے فیصلے کو واپس لینے کے حق میں نعرے بازی کی۔
جموں کشمیر کانگریس ونگ کے یوتھ صدر ادیوسنگھ چب نے احتجاج کے بعد خبر رساں ادارے ساتھ ایشین وائر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی سرکار نے ریاست کی حثیت ختم کرکے ہمیں مہنگائی اور غریبی میں دھکیلا ہے جو کہ ریاست جموں کشمیر کے لوگوں کے جذبات و احساسات کے خلاف ہیں۔
31 اکتوبر سے قبل ہی دونوں مرکزی زیر انتظام علاقوں کے لیے لیفٹنٹ گورنرز کی تقرری کا حکمنامہ بھی جاری کیا گیا تھا جس میں جموں و کشمیر کے لیے گریش چندر مرمو اور لداخ کے لیے آر کے ماتھر کو لیفٹیننٹ گورنر تعینات کیا گیا۔

