جرمنی میں اپنے بچوں سمیت سوتیلے اور رشتہ داروں کے بچوں کےساتھ جنسی زیادتی کے بعد ان کی ویڈیوز کا کاروبار کرنے کے الزام میں آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، ملزمان اپنے بچوں، سوتیلے بچوںاور قریبی رشتہ داروںکے بچوں جن کی عمریں ایک سے نو سال کے درمیان ہیںکے ساتھ جنسی زیادتی کر کے انکی ویڈیوز انٹرنیٹ پر فروخت کرنے کے جرم میںملوث ہیں.
جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کے مطابق جرمن پولیس بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے ان واقعات میں ملوث ہونے کے شبے میں اب تک کم از کم آٹھ افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ابھی تک جنسی زیادتی کا شکار بننے والے نو بچوں کو پتا لگایا گیا ہے اور ان کی عمریں تقریباً ایک سال سے گیارہ سال کے درمیان ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ابھی تک جو مواد قبضے میں لیا گیا ہے وہ تقریباً دس ٹیرابائٹ ہے۔ اس دوران اس مواد کی جانچ پڑتال جاری ہے۔
پولیس کے مطابق ان میں ایسا بہت سا مواد ہے، جسے دیکھ کر پولیس اہلکار بھی شدید حیرت آ گئے اور انہیں بھی نفسیاتی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس مواد کی جانچ پڑتال کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کو باقاعدہ وقفہ دیا جاتا ہے، جس میں ماہر نفسیات ان سے بات چیت کرتا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ ان ویڈیوز میں ملزموں کے اپنے، سوتیلے اور دیگر رشتہ داروں کے بچے بھی شامل ہیں۔ الزام ہے کہ یہ افراد جنسی زیادتی کی تصاویر کھینچتے اور ویڈیوز بنا کر ایک دوسرے کو بھیجتے تھے۔ پولیس نے بتایا کہ دیگر افراد کی تلاش کے ساتھ ساتھ کم از کم نو متاثرہ بچوں کو نفسیاتی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ ان واقعات کی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ پر جاری کی جاتیں اور اس گروپ کے ہزاروں ارکان انہیں دیکھتے تھے۔ ماہر نفسیات ارزولا اینڈرز کے مطابق، ”جب ان بچوں کو یہ علم ہو گا کہ ان کی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ پر موجود ہیں تو یہ کبھی بھی اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کو بھلا نہیں سکیں گے۔‘‘ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان واقعات کی جلد از جلد چھان بین مکمل کی جائے۔

