پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر کی عدالت العالیہ نے راولاکوٹ کے معروف مقدمہ قتل میں ماتحت عدالت کے فیصلہ کو بحال رکھتے ہوئے مرکزی ملزم ارشد انور کو 15سال قید کی سزا سنادیا ہے.
عدالت العالیہ کے دورکنی بنچ جو جسٹس ایم تبسم آفتاب علوی، جسٹس شیراز پر مشتمل تھا نے فیصلہ سنایا،8اکتوبر 2008ء گرین ٹاؤن راولاکوٹ کے رہائشی ابریز میر محمد کواراضی کے تنازع پر فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا جبکہ ان کے بھائی مشتاق حسین شدید زخمی ہو گئے تھے.
قتل کی اس واردات میں تین ملزمان عاطف انور، ارشد انور، توصیف انور کو نامز د کیا گیا تھا، قتل کے دو ملزمان اس واقعہ کے بعد سے تاحال مفرور ہیں، تینوں ملزمان حقیقی بھائی ہیں.
قبل ازیں جولائی 2017میں ایڈیشنل ضلعی فوجداری عدالت نے اس مقدمہ کا فیصلہ سنایا تھا جس کے مطابق مجرم ارشد انور کو دس سال قید اور پانچ سال اسلحہ ایکٹ میں سزا سنائی گئی تھی، ایڈیشنل ضلعی فوجداری عدالت کے اس فیصلہ کے خلاف ملزمان نے اپیل دائر کررکھی تھی.
عدالت العالیہ کے فیصلہ پر اہلیان گرین ٹاؤن راولاکوٹ بالخصوص مقتول ابریز میر محمد کے بھائیوں سردار منظور، سردار مشتاق، قاری جاوید، اصغر علی نے اطمینان کا اظہار کیا اور عدالت العالیہ کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرکے اہل راولاکوٹ کے دل جیتے ہیں، اس فیصلہ کے دوررس نتائج مرتب ہوں گے اور اس طرح کے جرائم پر قابوپانے میں مدد ملے گی، قتل کے مقدمات میں جب متاثرین کو انصاف مہیا کیا جاتا ہے تو اس کے سماجی و معاشرتی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں.
اس فیصلہ پر مقتول کا پورا خاندان، اہلیان راولاکوٹ معزز جسٹس صاحبان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے حق و سچ کا ساتھ دیتے ہوئے فیصلہ صادر کیا جس سے مقتول کے خاندان کی داد رسی ہوئی،
انہوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ و ہائیکورٹ، چیف سیکرٹری، آئی جی پی، ڈی آئی جی سے اپیل کی ہے کہ اس مقدمہ قتل میں ملوث مفرور ملزمان توصیف انور، عاطف انور جو موقع سے فرار ہو گئے تھے کی گرفتاری کے اقدامات کریں تاکہ انہیں بھی قرار واقعی سزا مل سکے۔

