پونچھ ڈویژن کو راولپنڈی اسلام آباد سےملانے والی مرکزی شاہراہ آزاد پتن روڈ دو مقامات سے تعمیراتی کمپنی کے محنت کشوںنے احتجاجأ بندکر دی ہے. جس کے باعث سیکڑوںگاڑیاں اورہزاروں مسافر راستے میںپھنس گئے ہیں، نجی تعلیمی اداروں کے سیکڑوںطلبہ بھی (جو مطالعاتی دورہ پر گئے تھے) پھنسے ہوئے ہیں.
مظاہرین شاہراہ پر تعمیراتی کام کرنے والی کمپنی کے ملازمین ہیں، جن کا الزام ہے کہ انہیں ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب دو بجے کے قریب مسلح ڈاکوؤں نے گن پوائنٹ پر لاکھوںروپوں سے محروم کر دیا ہے.
تاہم پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ اس علاقہ میںرات بھر پولیس گشت جاری رہتی ہے، گزشتہ شب پولیس نے کسی بھی تخریبی کارروائی سے متعلق کوئی معلومات نہیں ملی، انہیں کوئی غیر معمولی حرکت بھی محسوس نہیںہوئی.
مظاہرین نے سون کے قریب اور آزاد پتن پل پر دو مقامات سے شاہراہ کو ہر طرحکی ٹریفک کےلئے بند کر رکھا ہے. مظاہرین چین کی تھری گارجیز نامی تعمیراتی کمپنی کے ملازمین ہے، مذکورہ کمپنی آزاد پتن پر ڈیم کی تعمیر سے قبل متبادل شاہراہ کا تعمیراتی کام کرنے میںمصروف ہے.کمپنی میںاس وقت ساڑھے نو سو کے لگ بھگ مختلف شعبہ جات کے ملازمین کام کر رہے ہیں.
محنت کشوں کا کہنا ہے کہ ہفتہ کے روز ہی انہیں تنخواہوںکی ادائیگیاں کی گئیں جو کیش کی صورت میںتھیں. اسی شب مسلح ڈاکوؤںنے گن پوائنٹ پر محنت کشوںسے لاکھوںروپے مالیت کی رقوم چھینی ہیںاور بھاگ گئے ہیں، انکا کہنا تھا کہ ڈاکو چند گاڑیوں کے کاغذات اور چابیاںبھی لے گئے ہیں، تاہم گاڑیاںوغیرہ نہیںچھینی گئیں.
محنت کشوں کا مطالبہ ہے کہ کمپنی کے پراجیکٹ کے داخلی اور خارجہ راستوں پر سکیورٹی چیک پوسٹس بنائی جائیں تاکہ ویران علاقے میںکام کرنے والے محنت کشوںکو تحفظ فراہم کیا جا سکے. واضح رہے کہ چینی تعمیراتی کمپنیوںکے منصوبہ جات کی سکیورٹی کے فرائض پاک فوج کے اہلکاران سر انجام دے رہے ہیں.

