Site icon Daily Mujadala

فاروق حیدر نے شاہ محمود سے لبریشن فرنٹ کے مطالبات پورے کرنیکی تحریری اپیل کر دی

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے وزیراعظم فاروق حیدر نے قوم پرست جماعت لبریشن فرنٹ کے فریڈم مارچ اور سرینگر روڈ پر دھرنا کے دوران مطالبات کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ اکو خط تحریر کر تے ہوئے اقوام متحدہ اور پانچ مستقل ممبر ممالک کے نمائندگان سے شرکاء مارچ کے مذاکرات کروانے کیلئے اقدامات کی اپیل کی ہے۔ خط کی نقول اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز اور پانچ مستقل ممبر ممالک کے سفارتکاروں کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔

رواں ماہ سات اکتوبر کو زیر نمبری 10980-86جاری کئے گئے خط میں وزیراعظم نے وزیر خارجہ اور اقوام متحدہ کے نمائندگان سمیت سفارتکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ وہ انکی تازہ صورتحال کی طرف توجہ مبذول کروانا چاہتے ہیں۔ بھارتی زیر انتظام کشمیر کی تازہ صورتحال کے پیش نظر ہزاروں افراد نے لانگ مارچ شروع کیا، شرکاء مارچ کنٹرول لائن کراس کرنا چاہتے ہیں۔ شرکاء مارچ بھارتی زیر انتظام کشمیرمیں کرفیو، لاک ڈاؤن اور گرفتاریوں کا شکار کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرنا چاہتے ہیں۔

فاروق حیدر نے لکھا کہ انکی حکمت شدید دباؤ کا شکار ہے کہ ان کے لوگ کنٹرول لائن کراس کرنا چاہتے ہیں، لیکن خطہ کے امن کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے حکومت نے شرکاء مارچ کو کنڑول لائن سے چھ کلومیٹر کے فاصلے پر روک رکھا ہے۔ لیکن شرکاء مارچ بہرصورت کنٹرول لائن کراس کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں اپنی جان کی پروا نہیں ہے۔ ہم شرکاء مارچ سے مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ وہ مارچ ختم کر لیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ اور مستقل پانچ ممبر ممالک کے نمائندگان ان کے ساتھ مذاکرات کریں۔

خط میں وزیراعظم نے لکھا ہے کہ وہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بے حد شکر گزار ہوں گے اگر وہ اقوام متحدہ کے نمائندہ اور پانچ مستقل ممبر ممالک کے سفارتکاروں کو چکوٹھی مذاکرات کیلئے لے آئیں۔

یہ اقدام سرینگر روڈ پر چکوٹھی کے مقام پر بیٹھے معصوم مرد، خواتین و بچوں کی زندگیاں بچانے کا باعث بنے گا۔ اس لئے درخواست ہے کہ وزیرخارجہ کی طرف سے مناسب اقدام اس صورتحال کے حل کیلئے اٹھایا جانا چاہیے۔

تاہم حکومتی نمائندگان نے مذکورہ خط کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کر دیا ہے.

Exit mobile version