پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ریڈ زون میںداخلے کی کوشش پر پولیس نے تاجروںپر لاٹھی چارج کیا ہے، تاجروں نے جواب میںپولیس اہلکاران پر پتھراؤ بھی کیا، لاٹھی چارج اور پتھراؤ کے باعث متعدد تاجر اور پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے ہیں.
دوسری طرف ایف بی آر کے حکام سے مذاکرات ناکام ہونے پر آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر اجمل بلوچ نے چاروںصوبوں کے تاجر عہدیداران اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے تاجران کے مرکزی صدر سردار افتخار فیروز کے ہمراہ اٹھائیس اور انتیس اکتوبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے.
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق ملک بھر سےآنے والے تاجروں کی بڑی تعداد ریلی کی صورت میں آبپارہ چوک سے سیرینا چوک پہنچی تو پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا، مظاہرین نے خاردار تاریں اور تمام رکاوٹیں ہٹا دیں اور حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے آگئے جب کہ پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج شروع کردیا جس کے جواب میں مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ شروع کردیا، صورتحال مزید بگڑنی پر پولیس کی اضافی نفری کو بھی طلب کرلیا گیا۔
تاجر نادرا چوک پر دھرنا دے کر بیٹھ گئے جس کے بعد ایف بی آر کی ٹیم اور تاجر عہدیداروں کے درمیان مذاکرات ہوئے جو ایک گھنٹہ جاری رہنے کے باوجود بے نتیجہ ثابت ہوئے۔
مذاکرات ناکام ہونے کے بعد تاجر نمائندہ وفد دھرنے میں لوٹ آیا اور آئندہ کا لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ قیادت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ شناختی کارڈ کی شرط کو نہیں مانتےاورحکومت جو مرضی کر لے ہم شناختی کارڈ نہیں دیں گے، 28 اور 29 اکتوبر پورے ملک میں شٹرڈاوٴن کیا جائے گا جب کہ 15 اکتوبر سے روزانہ ایک گھنٹے کی ہڑتال کی جائے گی۔
پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر میں انجمن تاجران کی مرکزی تنظیم کے صدر سردار افتخار فیروز نے بھی عہدیداران کے ہمراہ احتجاج میںشرکت کی، احتجاج سے قبل خطاب کے دوران انہوں نے کشمیر میںتاجران کو تمام طرحکے ٹیکسز سے مستثنیٰ قرار دینے کامطالبہ کیا.
سردار افتخار فیروز نے آل پاکستان انجمن تاجران کی کال کے مطابق پورے پاکستانی زیر انتظام کشمیر میںبھی لبیک کہنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جو کال مرکز کی طرف سے آئے گی اس پرپاکستانی زیر انتظام کشمیر میںبھی بھرپورعملدرآمد کیاجائے گا.

