Site icon Daily Mujadala

رکن ممالک کی عدم ادائیگی: اقوام متحدہ میں‌بجٹ کٹوتیوں‌پر عمل شروع، تنخواہیں بند

اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی جانب سے سالانہ فنڈ کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے تنخواہوں سمیت دیگر ادائیگیوں کےلئے رقم نہ ہونے کے باعث بجٹ کٹوتیوں‌کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم رکن ممالک سے فنڈز کی اجرائیگی کا بھی کہا گیا ہے تاکہ اقوام متحدہ کی معمول کی سرگرمیوں کو جاری رکھا جا سکے.

اقوام متحدہ کے ترجمان کے مطابق اس سال اب تک 193 رکن ممالک میں سے 129 نے اپنی سالانہ فیسیں ادا کی ہے۔ اقوام متحدہ کا اس سال کا معمول کا بجٹ 3.3 ارب ڈالر ہے، جس میں دو ارب آ چکے ہیں جبکہ ایک ارب ڈالر کی ادائیگیاں ابھی باقی ہیں۔ اقوام متحدہ کا قیامِ امن کے دستوں سے متعلق بجٹ اس کے علاوہ ہے۔

جن ممالک نے ابھی تک اقوام متحدہ کو اپنے حصے کی ادائیگیاں نہیں کیں اُن میں امریکا نمایاں ہے۔ اقوام متحدہ کے سالانہ بجٹ میں امریکا کا حصہ بائیس فیصد ہے۔ امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے اس سال 674 ملین ڈالر اور پچھلی بقایاجات میں سے 381 ملین ڈالر ادا نہیں کیے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا موقف ہے کہ امریکا اقوام متحدہ کے بجٹ کی اضافی ذمہ داری اٹھاتا آیا ہے اور اس نظام پر نظر ثانی کے ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اس سال بجٹ کے بحران سے نمٹنے کے لیے اخراجات میں کٹوتی کے کڑے اقدامات اٹھائے ہیں۔ خالی اسامیوں پر نئے لوگ بھرتی نہیں کیے جا رہے اور ادارے کے اہلکاروں کا بین الاقوامی سفر محدود کر دیا گیا ہے۔

سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرش کا کہنا ہے کہ ان مشکل مالی اقدامات کے بغیر اس سال ستمبر میں جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر عالمی وفود کی میزبانی مشکل ہو جاتی۔ انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ ممکنہ بحران سے پہلے اپنی ادائیگیاں کر دیں۔

Exit mobile version