پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی زیر انتظام کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت کے خلاف بطور احتجاج سارک وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ امور سبرامنیم جے شنکر کی تقریر کا بائیکاٹ کردیا۔
شاہ محمود قریشی نے تقریر کے بائیکاٹ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے لیے کشمیریوں کے قاتلوں کے ساتھ بیٹھنا ممکن نہیں۔
اس سے قبل دفتر خارجہ کے ترجمان نے اعلان کیا تھا کہ شاہ محمود قریشی نے اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ کی تقریر کے دوران اپنی موجودگی کو مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ہٹانے سے مشروط قرار دیا ہے۔
ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان اس وقت تک کشمیریوں کے قاتلوں کے ساتھ بات نہیں کرے گا جب تک بھارت مقبوضہ کشمیر میں محاصرے اور زیادتیوں کا خاتمہ نہیں کرتا۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ بھارت کو ہر کشمیری کے حقوق کا تحفظ کرنا ہو گا اور اور اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ ان کے بنیادی حقوق کی پامالی نہیں ہو رہی۔
گزشتہ ماہ 5اگست کو بھارتی وزیر اعظم نرینڈ مودی نے صدارتی حکمنامے کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کر کے مقبوضہ کشمیر کو خصوصی درجے سے محروم کردیا تھا اور اس کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں مستقل کرفیو نافذ ہے اور 9لاکھ سے زائد بھارتی افواج نے مظلوم کشمیری عوام کا محاصرہ کر رکھا ہے۔
کشمیر کی تمام تر قیادت جیلوں میں بند ہے جبکہ عوام ضرورت کی بنیادی اشیا تک کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان آج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گفتگو کریں گے۔

