بی جے پی نے دفعہ 35اےکی منسوخی سے متعلق افواہوں کورد کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی میں ہونے والی کورگروپ میٹنگ میں جموں و کشمیر میں اسمبلی نشستوں سے متعلق حد بندی اور آنے والے اسمبلی انتخابات سے متعلق اُمور زیر بحث لائے جائیں گے۔ پارٹی کے جنرل سیکرٹری اشوک کول نے کہا کہ نئی دہلی میں آج منعقد ہونے والی کور گروپ میٹنگ میں دفعہ 35Aپر کوئی بھی بات نہیں ہوگی۔دفعہ 35Aفی الوقت میٹنگ سے متعلق ایجنڈے کا حصہ نہیں ہے۔ پارٹی کے ریاستی لیڈران نئی دہلی میں منعقد ہونے والی کور گروپ میٹنگ میں شرکت کرنے جارہے ہیں جہاں پر اسمبلی نشستوں کی حدبندی اور اسمبلی لیکشن سے متعلق مختلف اُمور کو زیر بحث لایا جائیگا۔ اشوک کول کا کہنا تھا کہ اسمبلی نشستوں کی موجودہ صورتحال جموں اور لداخ خطے کیساتھ نانصافی ہے جسے دور کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ میٹنگ کے دوران پارٹی لیڈران اسمبلی نشستوں کی حد بندی پر خاصا زور دیں گے۔ اس کے علاوہ میٹنگ میں اسمبلی الیکشن سے متعلق پارٹی کی تیاریوں کا بھی سیر حاصل جائزہ لیا جائیگا۔اسمبلی الیکشن سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اشوک کول کا کہنا تھا کہ بی جے پی جموں وکشمیر میں اسمبلی الیکشن کے حوالے سے پوری طرح سے تیار ہے۔ ہمیں اُمید ہے کہ بی جے پی جموں وکشمیر میں اپنا ہدف حاصل کرکے رہیگی۔ حال ہی منعقدہ لوک سبھا انتخابات کے دوران پارٹی نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کے دوران بی جے پی نے جموں کی تمام نشستوں پر جیت درج کرلی اور اسمبلی الیکشن کے حوالے سے ہم سمجھتے ہے کہ پارٹی کشمیر میں بھی اپنا کھاتہ کھولنے میں کامیاب ہوجائیگی۔
شکوک وشبہات کودورکیاجائے،ریاستی کانگریس کی وزیراعظم سے اپیل
کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر غلام احمد میرکا کہنا ہے کہ مرکزی سرکار ریاستی عوام کے مسائل اور مشکلات سے انتہائی حد تک غیر سنجیدہ ہوچکی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ریاستی عوام جن مصائب و آلام کی آج شکار ہے وہ صرف مرکزی سرکار اور سابق مخلوط حکومت پی ڈی پی، بی جے پی کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔جنوبی کشمیرکے شاہ آباد ویریناگ علاقے میں عوامی میٹنگوں سے خطاب کرتے ہوئے غلام احمد میر نے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ شاندار مستقبل کیلئے کانگریس پارٹی کو زمینی سطح پر مضبوط کرنے کیلئے اپنا رول ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار کی غلط اور ناقص پالیسیوںکے نتیجے میں جموں وکشمیر بری طرح سے متاثر ہوا ہے اور مرکزی سرکار ریاستی عوام کی فلاح و بہبود کے جو بلند بانگ دعوے کررہی ہے وہ زبانی جمع خرچ کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے۔کانگریس صدر کا کہنا تھا کہ ریاستی عوام اس بات کو بخوبی محسوس کررہی ہے کہ مرکزی سرکار جموں وکشمیر کا نظم و نسق راج بھون سے چلانے میں ہی خوشی محسوس کررہی ہے اور اس دوران عوامی حکومت کی عدم موجودگی کے نتیجے میں مرکزی سرکار نے کئی اہم فیصلے لیے جس کے نتیجے میں ریاستی عوام کے اندر اضطرابی کیفیت نے مزید جنم لینا شروع کردیا۔ انہوں نے مرکزی سرکار پر زور دیا کہ وہ لوگوں کے دلوں میں پائے جارہے خدشات کو دور کرنے کی خاطر شکوک و شبہات کو فوری طور پر دور کریں۔
فورسزکی تعداد میں اضافہ تشویشناک،اقوام عالم کشمیریوں کی مدد کیلئے آگے آئیں:حریت گ
حریت (گ) نے بھارت کی طرف سے ہنگامی بنیادوں پر فورسز کی مزید تعداد بڑھانے اور یہاں مزید فورسز کو تیار رکھنے کے جو نئے احکامات صادر ہوئے ہیں اس سے دنیا کو اس بات کا اندازہ ہونا چاہیے کہ کس طرح پوری قوت کو کشمیریوں کی مبنی برحق تحریک کو کچلنے کے لیے استعمال میں لایا جارہاہے۔ لاکھوں افواج کی کشمیر میں موجودگی کے باوجود مزید سو کمپنیوں کو واردِ کشمیر کرنے اور مزید سو کو تیار رہنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ یہاں جاری جائز تحریک کو دبانے کیلئے لوگوں میں مزید خوف ودہشت پیدا کیا جائے۔ حریت (گ)نے فوجی سربراہ کے اس قول کہ ’’کشمیر زیادہ دیر تک بین الاقوامی مسئلہ نہیں رہے گا‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انکا یہ کہنا دراصل مسئلہ کشمیر کی بین الاقوامی حیثیت کو تسلیم کرنا ہے جس سے یہ لوگ بار بار انکار کرتے آرہے تھے، اس لیے انہیں چاہیے کہ فوجی قوت سے اس مسئلہ کو دبانے کے بجائے عالمی سطح پر اس مسئلہ کے تصفیہ کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو سنیں اور اپنے سیاسی حکمرانوں کو بھی سننے پر آمادہ کریں اور جنگی جنون کے ماحول کو پیدا کرنے سے پرہیز کرتے ہوئے جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔ حریت نے چین کی طرف سے صدر امریکہ کے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ثالثی کی پیشکش کا خیرمقدم کرنے پر خطے کے امن وامان کیلئے خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے اس ظلم وبربریت کے دور میں کشمیری عوام سے درد مندانہ اپیل کی کہ وہ رجوع الی اللہ کرتے ہوئے قرآن کو پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل پیرا ہوکر اپنے اعمال کو درست کرتے ہوئے نفاق، جھوٹ، خیانت، بے حیائی، منشیات اور دیگر اخلاقی بیماریوں کا علاج اسی قرآن میں تلاش کریں اور خصوصی دُعاؤں کا اہتمام کریں، تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ہمارے مصائب آسان فرماکر دنیا وآخرت کی سرخروئی سے نوازے۔ادھر حریت چیرمین کی ہدایت پر حریت ترجمان حکیم عبدالرشید نے بٹہ مالو میں محمد الطاف بابا کے غائبانہ نماز جنازہ میں شرکت کی جن کا مظفر آباد میں حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے انتقال ہوا۔
موجودہ غیر یقینی صورتحال کیلئے،این سی و پی ڈی پی ذمہ دار:وکیل
پیپلز کانفرنس کے سینئرنائب صدر عبدالغنی وکیل نے وادی میں موجودہ غیر یقینی صورتحال اور افرا تفری کے ماحول کی ذمہ داری نیشنل کانفرنس اور پی،ڈی،پی کی قیادت پرڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ان پارٹیوں نے ہمیشہ عوام کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے اور اقتدار کو ترجیح دی ہے ۔ان دونوں جماعتوں نے ریاست کے مفاد کے حوالے سے ہمیشہ مختلف موقعوں پر غلط فیصلے لئے ہیں جس وجہ سے وادی کی موجودہ ابتر صورتحال پیدا ہوئی ہے اور عوام مصائب ،پریشانیوں اور زیادتیوں سے دوچار ہیں۔عبدالغنی وکیل دوآبگاہ اور جانباز پورہ رفیع آباد میں عوامی اجتماعات سے خطاب کررہے تھے۔عبدالغنی وکیل نے یہ بات زور دے کر کہی کہ پیوپلز کانفرنس آرٹیکل 370اور 35Aکے تحفظ کے لئے کسی بھی قربانی کے لئے تیار ہیں اور ساتھ ہی مرکزی سرکار کو خبردار بھی کرتی ہے کہ اگر انہوں نے اس دفعہ 370اور 35Aکو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تو وہ ریاست جموں وکشمیر کو ملک سے الگ کرنے کے مترادف ہوگا اور ملک کے دشمن کو مضبوط کرنے کے برابر ہوگا۔
کل جماعتی اجلاس طلب کرنا وقت کی تقاضا:اے این سی
عوامی نیشنل کانفرنس کے سنیئر نائب صدر مظفر شاہ نے کہا ہے ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ ریاست میں پائے جانے والی تشویشناک صورت حال کے پیش نظر کچھ دنوں میںریاست کی سبھی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کی میٹنگ بلارہے ہیں۔شاہ نے کہا کہ اگر یہ صحیح ہے تو میں اس کا دل کی گہرائیوں سے خیر مقدم کرتا ہوں ۔یاد رہے کہ اے این سی کی صدر بیگم خالدہ شاہ نے بھی 15 جون 2019 ء کو تمام علاقائی جماعتوں کے سربراہوں کو متحد ہونے اور دفعہ 370 او ر دفعہ 35 A کا تحفظ کرنے کے بارے میں یکجہتی کا پرچم لہرانے کی اپیل کی تھی۔ مظفر شاہ نے کہا کہ مجھے یہ سْن کر مسرت ہو رہی ہے کہ آج ریاست کے دو سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ او محبوبہ مفتی ریاست کے گھمبیر حالات کو محسوس کرنے لگے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اس نوعیت کے عزائیم کو عملی تشکیل دی جائے گی۔
دفعہ35اےکی منسوخی کا بکھیڑا کیا ہے،شہری مخالف قانون کو ہٹایا جاناضروری:بھیم سنگھ
نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسر بھیم سنگھ نے وادی کے چند لیڈروں کی دفعہ35 (A)کی وکالت کو ناقابل قبول اور جموں وکشمیر میں رہنے والے ہندوستانی شہریوں کے بنیادی حقوق کے خلاف قرار دیا ہے۔پنتھرس سربراہ نے کشمیر کے لیڈر فاروق عبداللہ ، محبوبہ مفتی اور دیگر لیڈروں سے دریافت کیا کہ کیا وہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو ا س کی وضاحت دے سکتے ہیں کہ انہیں آرٹیکل ۔35میں ’اے‘ لگاکر کیوں بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 35Aکی وجہ سے ہی جموں وکشمیر کے لوگوں کو بنیادی حقوق اورشہری آزادی سے محروم رکھا گیا ہے۔انہوں نے ان تمام مگر مچھ کے آنسو بہانے والے لوگوںکو چیلنج کیا کہ کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ آرٹیکل ۔35Aکا کیارول ہے؟ہندستان میں کسی بھی شخص کو بغیر مقدمہ کے تین مہینہ سے زیادہ قید نہیں رکھا جاسکتا کیونکہ بنیادی حقوق کسی بھی ریاست کو اس کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ کسی شخص کو بغیرمقدمہ کے تین مہینہ سے زیادہ جیل میں رکھ سکے جبکہ جموں وکشمیر حکومت یا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ آرٹیکل ۔35، جس میں صدر نے آرڈی ننس جاری کرکے Aجوڑ دیا ہے، کی بدولت کسی بھی شخص کو دو برس سے زیادہ جیل میں رکھ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ خود پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت آٹھ برس سے زائد جیلوں میں کاٹ چکے ہیںجو آرٹیکل ۔35کی خلاف ورزی ہے۔آرٹیکل 35Aجموں وکشمیر کے لوگوں کو کسی بھی وقت بھیڑ بکریوں کی طرح بغیر کسی فرد جرم یا مقدمہ کے جیل میں ڈالنے کی اجازت دیتا ہے۔کشمیر کے بڑے لیڈر شیخ عبداللہ بھی اس 35 A قانون کی وجہ سے کافی سالوں تک جیلوں میں رہے تھے۔انہوں نے جموں وکشمیر کے لوگوں سے کہا کہ انہیں آرٹیکل۔35Aکے تحت ریاستی حکومت کو حاصل اختیارات کا مطالعہ کرنا چاہئے جو حکومت کو اس بات کا حق دیتا ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو کسی بھی وقت بغیرمقدمہ کے سالوں تک جیل میں ڈال سکتی ہے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے کہا کہ ریاست کی سابقہ حکمراں جماعتیں نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی ، کانگریس اور یہاں تک کے بی جے پی اس لئے 35 Aکی حمایت کرتی ہیں کیونکہ وہ انہیںاپوزیشن کو کچلنے یا تباہ کرنے کی طاقت دیتا ہے ۔ ایسا ہوتا رہا ہے اور آج بھی جاری ہے۔پنتھرس پارٹی کے سربراہ نے جموں وکشمیر کی قیادت، دانشوروں، طلبا ، نوجوانوں اور دیگر سے پنتھرس پارٹی کی حمایت کرنے کی اپیل کی جو جموں وکشمیر میں تمام بنیادی حقوق کے نفاذ کیلئے لڑرہی ہے تاکہ حکومت آرٹیکل 35 Aکی تلوار کااستعمال کرکے کسی بھی معصوم شخص کو جیل میں نہ ڈال سکے اور ریاست کے لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم نہ کرسکے۔

